سٹیٹ بینک نے برآمدات کی کمی کو معیشت کے لیے خطرہ قرار دے دیا

سٹیٹ بینک نے برآمدات کی کمی کو معیشت کے لیے خطرہ قرار دے دیا

نیوز ڈیسک۔۔۔

سٹیٹ بینک نے برآمدات کی کمی کو معیشت کے لیے بڑا خطرہ قرار دے دیا ہے۔سٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس آج گورنر اشرف وتھرا کی سربراہی میں ہوا۔اجلاس میں پاکستان کی گرتی ہوئی برآمدات اور بڑھتی ہوئی درآمدات کو معیشت کے لیے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے صنعتی پیدوار میں اضافے پر زور دیا گیا ۔

رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ کے دوران برآمدات میں 8 اعشاریہ 19 فیصد کمی آ چکی ہے، تاہم وزارت خزانہ نے ملکی برآمدات بڑھانے کے لیے ضروری اقدامات کے لیے تاحال کوئی فنڈز جاری نہیں کیے۔

وزارت تجارت نے برآمدات بڑھانے کے لیے تین سالہ نئی تجارتی پالیسی کے تحت مختلف اقدامات کے لیے قریب دو ماہ پہلے وزارت خزانہ کو چھ ارب روپے کی فراہمی کی درخواست کی تھی۔

تاہم اس کے باوجود وزارت خزانہ نے تاحال کوئی فنڈز جاری نہیں کیے، جس سے خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگر بروقت فنڈز جاری نہیں کیے گئے تو برآمدات میں کمی کا رجحان جاری رہے گا۔

آج ہونے والے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اگلے دو ماہ کے لیے بنیادی شرح سود کی موجودہ شرح 5.75 فیصد پر برقرار رکھی جائے گی۔

مانٹیری پالیسی سٹیٹمنٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ میں مہنگائی کی شرح دگنی ہوکر 3.6 پر آگئی ہے۔