پاکستان کی معاشی پالیسیاں اپنی بنیادی صلاحیت کے مطابق نہیں ڈاکٹر سلمان شاہ(ماہر معیشت ،سابق وزیر خزانہ)

پاکستان کی معاشی پالیسیاں اپنی بنیادی صلاحیت کے مطابق نہیں ڈاکٹر سلمان شاہ(ماہر معیشت ،سابق وزیر خزانہ)

انٹرویو: حسنین جمیل۔۔۔

سوال: موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کے بارے آپ کی رائے؟

جواب:جس لیول پر ہم کو ہونا چاہیے ہم وہاں پر تو نہیں ہیں۔ ہمارے معاشی اہداف پورے ہوتے نظر نہیں آ رہے۔ حال ہی میں ہم نے آئی ای ایف سے جو ڈیل کی ہے اس پر آئی ایم ایف نے ایک رپورٹ جاری کی ہے۔ جس میں کہا گیاہے کہ پاکستان کو مزید اصلاحات کی ٹیکس کے نظام کی ضرورت ہے۔ آپ کو بجلی کی پیداواری نظام میں سرمایہ کاری میں مالیاتی تبدیلی کے حوالے ان معاملات کو بہتر کرنا ہوگا یہ سب ہم نے کرنا ہے۔ اور یہ اس بات کا اشارہ ہے ہم معاشی اصلاحات کے حوالے سے بہت پیچھے ہیں۔ گڈگورنس کا بھی فقدان ہے۔ سرمایہ کاری کرنے والے ممالک میں پاکستان کی درجہ بندی بہت نیچے ہے۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری حکومت کے منصوبے کامیاب نہیں ہو رہے۔ بجلی کا بحران شدت اختیار کر رہا ہے۔ اگر اس پر قابو نہ پایا گیا تو معاشی طور پربہت مسائل ہو سکتے ہیں۔ موجودہ حکومت کی معاشی کارکردگی پر بہت سے سوالیہ نشان ہیں۔ پاکستان کی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے بہت سے اقدامات کرنے پڑیں گے۔

سوال: ڈاکٹر صاحب آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے کب تک پاکستان کی جان چھوٹ سکتی ہے؟

جواب:پاکستان کی جان آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے بالکل نہیں چھوٹ سکتی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان اپنی معاشی پالیسی اپنی بنیادی صلاحیت کے مطابق نہیں بناتا۔ ہم نے بہت سنا ہے کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔ ہماری 60فیصد آبادی ابھی دیہاتوں میں رہتی ہے۔ پاکستا ن میں سب سے زیادہ غربت دیہاتوں میں ہے۔ پچھلے 40سال سے ہم نے کوئی ڈیم نہیں بنایا۔ کوئی پانی کا منصوبہ نہیں بنایا گیا۔ زراعت کے میدان میں آج تک کوئی جدید کام نہیں کیا گیا۔ پیداوار کے میدان میں دنیا کی سب سے خراب حالات میں سرحد کے پار بھارت ہے۔ بھارتی پنجاب پاکستانی پنجاب سے چھوٹا ہے مگران کی پیداوار ہم سے ڈبل ہے۔ ان حالات میں بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے کیسے جان چھوٹ سکتی ہے۔ 40سال پہلے تربیلا ڈیم اور منگلا ڈیم بنائے گئے۔ ان ڈیموں سے نہریں نکال کر وہاں لے کر گئے جہاں پانی کی ضرورت تھی اس سے انقلاب آیا۔زراعتی کے میدا ن میں۔ اس کے بعد آپ نے کالاباغ ڈیم بنانا تھا۔ بھاشاڈیم بنانا تھا مگر کچھ نہیں ہوا۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی کہ آپ کے حکمران ملک دشمن تھے۔ حکمرانوں نے ملکی ترقی کے فارمولے کو روک دیا۔ پاکستان ایک سرسبز شاداب معاشی طور پر آسودہ ملک ہوتا۔ یہاں بجلی کا بحران نہ ہوتا، عوام کو سستی بجلی مل رہی ہوتی ۔ ملک میں غربت نہ ہوتی۔ زرعی علاقوں میں غربت نہ ہوتی، تعلیم ، صحت ،روزگار کے مسائل نہ ہوتے، خدا نے ہمیں سب کچھ دیا ہے۔ 150ایکڑ فٹ پانی قدرت کی طرف سے مل جاتا ہے۔ وہ آپ ضائع کر دیتے ہیں۔ اس قدر بجلی بنائی جا سکتی تھی آپ اردگرد کے ممالک کو بجلی دے سکتے تھے۔

سوال: آپ نے کالاباغ ڈیم کے حوالے سے بات کی اس ڈیم کے خلاف ہمارے تین صوبوں کی اسمبلیاں قراردادیں پاس کر چکی ہیں۔

جواب:اس لیے جاہلوں کی اسمبلیاں ہیں۔ سب سے زیادہ فائدہ کالاباغ ڈیم سے تین صوبوں کو ہے، مشرقی سندھ، گھوٹکی سے لے کر مٹھی تک ہے۔ بنجر پڑا ہے۔ کالاباغ ڈیم بننے سے وہاں تک پانی لے جایا جا سکتا ہے۔ ایک کروڑ ایکڑ زمین سندھ کی پانی ملنے سے زرخیز ہو سکتی ہے۔ پیداوار میں بہت اضافہ ہو سکتا ہے اس کے بعد جنوبی خیبرپختونخواہ ڈیراسماعیل سے کرک، لکی مروت تک زرعی زمینوں کو پانی مل سکتاہے۔ دس لاکھ ایکڑ زمین پانی مانگتی ہے ۔ خیبرپختونخواہ کو صرف اور صرف کالا باغ ڈیم سے پانی مل سکتا ہے۔ تیسرے نمبر پر مشرقی بلوچستان کو فائدہ ہوگا۔ اگر مشرقی بلوچستان کی زمینوں تک پانی پہنچ جائے ، کپاس کی پیداوار کے لیے آئیڈیل زمین ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ وہ تین اسمبلیوں کے احمق ہیں جو اپنے صوبوں کو فائدہ نہیں پہنچانا چاہتے اور کالاباغ ڈیم کے خلاف ہیں۔ اس کے بعد جنوبی پنجاب کا سرائیکی علاقہ چولستان، بہاولپور، رحیم یار خان، یہاں تک پانی جا سکتا ہے۔ ان جاہلوں کو اپنا فائدہ نہیں ہو رہا ہے۔ ان کو کوئی اشارہ کر رہا ہے کہ ڈیم کے خلاف ہو کر خوشحالی کا راستہ روک لیں۔ رات کو اگر سیٹلائٹ کے ذریعے پاکستان کی تصویر لیں جہاں جہاں ہمارا نہری نظام ہے وہاں بجلی روشن ہوتی ہے۔وسطی پنجاب کو تو پانی مل جاتا ہے۔ لہٰذا کالاباغ ڈیم، سندھ، خیبرپختونخواہ، بلوچستان کے علاقوں اور جنوبی پنجاب کے سرائیکی علاقے کا مسئلہ ہے۔

سوال: موجودہ حکومت نے اقتدار میں آنے سے پہلے نعرہ لگایا تھا کہ ہم تین ماہ میں بجلی کا بحران ختم کر دیں گے۔ جو جھوٹ نکلا اب یہ کہہ رہے ہیں کہ 2018ء میں بجلی کا بحران ختم ہو جائے گا کیا یہ بھی سیاسی نعرہ ہے؟

جواب:دیکھیں بجلی کا بحران پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے او رجو بجلی ہے وہ بہت مہنگی ہے۔ جو مہنگی بجلی ہے وہ بھی عوام کو میسر نہیں ہے۔ پھر اس نظام میں رشوت ، بجلی چوری اور کرپشن اس قدر زیادہ ہے کہ میرے خیال میں عام آدمی کو ریلیف نہیں مل سکتا۔ پوری دنیا میں تیل کی قیمتیں جو 150بیرل فی ڈالر تھیںآج 40ڈالر فی بیرل تک آ گئی ہیں لیکن ہماری بجلی سستی نہیں ہو رہی۔ یہ سب پیسہ کس کی جیب میں جا رہاہے۔ اس وقت جو نئے بجلی گھر بنانے کے منصوبوں پر کام ہو رہا ہے وہ بھی مہنگی بجلی بنانے کا کام ہے۔ بجلی اس وقت مختلف حکومتیں 3روپے فی یونٹ کے بھاؤ خرید رہی ہیں مگر ہماری حکومت اب بھی 10سے 15روپے فی یونٹ کے بھاؤ خرید رہی ہے۔ عوام کو کیسے ریلیف ملے گا۔ 3روپے کی چیز آپ عوام کے لیے 10روپے میں خرید رہے ہیں۔ تو یہ کیسی عوامی خدمت ہے۔ اگر عوام ایسی حکومت سے خوش ہے تو یہ عوام کی مرضی ہے میں اس سلسلے میں کیا کر سکتا ہوں۔

سوال: ڈاکٹر صاحب ایک بجٹ وزیر خزانہ اور وفاقی سیکرٹری بناتا ہے جو خالص حکمران طبقے کا ہوتا ہے۔ وہی وزیر خزانہ اور وفاقی سیکرٹری ریٹائرمنٹ کے بعد مختلف اخبارات کے بجٹ فورم میں جا کر ایک عوامی بجٹ کے اعدادوشمار ہمیں دیکھاتا ہے۔ یہ کیا تضاد ہے؟

جواب:یہ ہماری قیادت کی نااہلی ہے وہ پاکستانی عوام کے مفادات کو سامنے رکھ کر بجٹ نہیں بناتے۔ہماری عوام کا بڑا مسئلہ روزگار کا ہے۔16سال کے بچے کو سکول میں ہونا چاہیے مگر وہ سڑکوں پر ہوتا ہے۔ نوکری نہیں ملتی اس کا باپ چپڑاسی کی نوکری کے لیے بھاگ دوڑ کر رہا ہوتا ہے۔ ہمارا مسئلہ بے روزگار ہے۔ بے روزگاری ختم کرنے کے لیے سرمایہ کاری ضروری ہے۔ اب سرمایہ کاری کرنے کے لیے ملک میں ایک ساز گار ماحول بنانا ضروری ہے۔ بجٹ کا بنیادی نکتہ یہی ہونا چاہیے کہ پاکستان کے کونسے ایسے شعبے ہیں جہاں سرمایہ کاری ہونی چاہیے جسے میں نے پانی کے منصوبوں کی بات کی تو آپ تو ان شعبوں میں بجٹ میں ایک ٹکہ نہیں رکھ رہے نہ آپ ڈیم بنا رہے ہیں نہ بجلی پیدا ہو رہی ہے۔ آپ بجٹ میں دولت کمانے والے منصوبے تو شامل ہی نہیں کر رہے۔ آپ میٹروبس اور ٹرین بنا رہے ہیں۔ اس سے اشاریہ ایک فیصد لوگوں کو شاید فائدہ ہو مگر ملک کے مجموعی معاسی معاملات ان منصوبوں سے کوئی فائدہ نہیں آپ کی ترجیح غلط ہے۔ آپ کے بجٹ میں چوری بہت زیادہ ہے۔ کبھی وزیروں کے گھروں سے پیسہ نکل آتا ہے کبھی لانچوں سے پیسہ نکل آتاہے۔ کبھی کوئی سوٹ کیس نوٹوں کے بھر کر لے کر جا رہا ہوتا ہے اور پکڑا جاتا ہے۔ یہ پیسہ کس کا ہے عوام کا ہے بجٹ عوام کے پیسوں سے بنایا جاتا ہے۔ بجٹ کا نظام شفاف نہیں رہا۔ تو عام آدمی کو ریلیف کیسے ملے گا۔ پانامہ لیکس پر جب آپ کے حکمران کی کرپشن سامنے آ جائے تو پھر کیا ہو سکتاہے۔

سوال: ڈاکٹر صاحب معاشی ناہمواری میں کرپشن کا بہت عمل دخل ہے آپ نے پانامہ لیکس کی مثال دی کی ان کی تحقیقات نہیں ہونی چاہیے؟

جواب:بالکل شفاف تحقیقات ہونی چاہیے یہ مطالبہ صرف عمران خان کا نہیں پوری قوم کا ہونا چاہیے۔ مہذب ممالک میں کرپشن کا سکینڈل آنے کے بعد حکمران اقتدار سے الگ ہو کر عوام کو جواب دیتا ہے۔ ہماری قومی بے حسی ہے یہاں کوئی پوچھتا نہیں۔ ایان علی کیس، ڈاکٹر عاصم کیس، پانامہ لیکس کسی کو کوئی فرق ہی نہیں پڑا۔ لوگ سڑکوں پر مر جاتے ہیں کوئی پوچھتا ہی نہیں۔ یہاں کرپشن پر بھی سیاسی شہید ہو جاتے ہیں۔ یہ عوام کا پیسہ ہے اگر عوام اس میں خوش ہیں کہ ان کے لیڈر چور ہی رہے تو عوام کی مرضی میں کیا کر سکتا ہوں۔