گوادر کی بندرگاہ پوری دنیا کی نظروں میں ہے۔ ہمارے سپہ سالار نے کراچی کو امن کا گہوارہ بنایا ہے: سلمان غنی، سینئر صحافی، تجزیہ نگار

گوادر کی بندرگاہ پوری دنیا کی نظروں میں ہے۔ ہمارے سپہ سالار نے کراچی کو امن کا گہوارہ بنایا ہے: سلمان غنی، سینئر صحافی، تجزیہ نگار

حسنین جمیل۔۔۔

سوال: چند روز سے کچھ سیاست دان جیسے محمود خان اچکزئی اور الطاف حسین کی جانب سے فوج اور حساس ادار وں پر جو تنقید کا سلسلہ شروع ہوا ہے اس پر آپ کا کیا موقف ہے۔

جواب: محمود خان اچکزائی فوج اور ایجنسیوں کو جوٹارگٹ کر رہے ہیں وہ ایک خاص ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں ۔ گوادر کی بندرگاہ اس وقت پوری دنیا کی نظروں میں ہے۔ راہداری منصوبہ ایک عظیم کام ہے۔ ہمارے دشمن کو پتہ ہے کہ ہم اپنی منزل کی طرف جا رہے ہیں۔ نریندر مودی نے اپنی تقریر میں بلوچستان اور کراچی کا ذکر کیا۔ فوراً بعد محمود خان اچکزائی اور لطاف حسین نے تقریریں کیں۔ 2013 کے الیکشن سے پہلے ہی مسلم لیگ (نواز) کی قیادت نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ قوم پرستوں کو ساتھ لے کر چلنا ہے۔ اس لیے ڈاکٹر عبدالمالک کو وزیراعلیٰ بلوچستان بنایا گیا۔ سیاست دانوں کو ساتھ لے کر چلنا اچھی بات ہے مگر وطن کے دشمنوں پر پاک فوج کی نظر ہے۔

سوال:ہمارے کچھ سیاست دان پاکستان میں اقتدار کے مزے لے رہے ہیں مگر جب قومی شناخت کی بات آتی ہے تو اپنے افغانی ہونے پر فخر کرتے ہیں۔

جواب:بدقسمتی سے ہمار ے کچھ پشتون سیاست دانوں کے تضادات ہیں۔ جس کے باعث وہ ایسی باتیں کرتے ہیں۔ آپ اے این پی کو دیکھ لیں 2006 کے الیکشن انہوں نے خیبرپختونخواہ میں حکومت بنائی ۔پانچ سال وہ اقتدار میں رہے انہوں نے اپنے صوبے کی عوام کے لیے کیا کیا اسی وجہ سے عوام نے ان کو مسترد کر دیا۔ تین سال قبل ہونے والے الیکشن میں وہ ہار گئے۔ جو عوام کی خدمت نہیں کرتے عوام ان کو مسترد کر دیتے ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے ساتھ کیا ہوا،2013 کے الیکشن سے پہلے وہ ایک ملک گیر جماعت تھی مگر اب سندھ کے چند اضلاع تک محدود ہوکر رہ گئی ہے۔ عوامی خدمت کے بغیر کامیابی نہیں مل سکتی۔

سوال:متحدہ قومی موومنٹ کے حوالے سے ایک بحث جاری ہے کہ اس جماعت پر پابندی لگا دینی چاہیے۔ ایک رائے یہ کہ مائنس الطاف حسین ہو جائے تو پھر بھی ٹھیک ہے آپ کی اس سلسلے میں کیا رائے ہے؟

جواب:بھٹو صاحب کے عہد میں نیپ پر پابندی لگائی گئی انہوں نے اے این پی کے نام سے سیاسی جماعت بنا لی۔اگر آپ کسی بھی سیاسی جماعت پر پابندی لگاتے ہیں تووہ نام بدل کر میدان میں آ جاتے ہیں۔ میرے خیال میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے کراچی امن امان کیس کے حوالے سے تاریخ ساز فیصلہ دیا ہوا ہے۔ کچھ سیاسی جماعتوں کو اپنے عسکری ونگ ختم کرنا پڑیں گے۔ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر تھا، اسے منی پاکستان بھی کہا جاتا ہے۔ ایم کیو ایم کے آنے کے بعد وہاں اغوا برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ وصولی، بوری بند لاش جیسی باتیں منظرعام پر آئیں۔ اس سے پہلے ایسا نہیں تھا۔ کراچی کے عوام کو فیصلہ کرنا ہے وہ کس کے ساتھ ہیں۔یہ بات تاریخ کا حصہ ہے۔ جس نے بھی پاکستان کے خلاف سوچا اس کا انجام عبرت ناک ہوا ہے۔ جیسے شیخ مجیب الرحمان کا ہوا تھا۔ ہمارے سپہ سالار نے کراچی کو امن کا گہوارہ بنایا ہے۔ کچھ عناصر ان کے عمل کو خراب کرنا چاہتے ہیں۔

سوال:مگر دو سپہ سالار اور بھی تھے جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف ،ایم کیو ایم کو ان دونوں نے بہت سپورٹ کیا تھا؟

جواب:جنرل پرویز مشرف کے دور میں ایم کیو ایم نے بہت فائدے اٹھائے ہیں۔ فوجی آمروں کی ایک مجبوری ہوتی ہے، وہ عوامی تائید حاصل کرنے کے لیے اپنی پسندیدہ سیاسی جماعتوں کو پرموٹ کرتے ہیں۔ 12مئی کو جب کراچی میں قتل عام ہو رہا تھا تو راولپنڈی کے جلسہ عام میں کس نے مکے لہرائے تھے۔ کس نے کہا تھا یہ عوامی طاقت کا مظاہرہ ہے۔ جنرل امجد اور جنرل شاہد عزیز نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ جب نیب نے کچھ مگرمچھوں کے خلاف کاروائی شروع کی تو اس وقت کے صدر پرویز مشرف نے ان کو منع کر دیا کہ آپ نے میری فیورٹ سیاسی جماعتوں جسے مسلم لیگ (ق) ایم کیو ایم کے خلاف کارروائی نہیں کرنی ۔ میں سمجھتا ہوں کہ جو سیاست دان پاکستان کے دشمن ہیں اب وہ بے نقاب ہو چکے ہیں۔ یہ بھی ٹھیک ہے ہماری عوام کی یادداشت بہت کمزور ہے۔ مگر اب صحیح فیصلے کا وقت ہے۔
سوال:ماڈل ٹاؤن 14قتل ہوئے۔ اس پر لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی کی رپورٹ بھی منظر عام پر آ چکی ہے آخر ان کو انصاف کب ملے گا؟

جواب:میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کا عینی شا ہد ہوں۔ میں نے دیکھا کہ دوبار وہاں سے پولیس واپس چلی گئی مگر پھر واپس آئی اور دن دیہاڑے یہ قتل عام ہوا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ آج شبہاز شریف صاحب اقتدار میں ہیں ، ان کو اس واقعے کی غیرجانبدار تحقیقات ہر صورت کرانی چاہیے۔ کسی بھی غیر جانبدار انسانی حقوق کی تنطیم کو تحقیقات کرنی چاہیے مگر ڈاکٹر طاہر القادری کو بھی سنجیدہ سیاست کرنی چاہیے۔ وہ بار بار ملک سے باہر چلے جاتے ہیں۔ اب افواہ ہے کہ بڑی عید کے بعد وہ پھر ملک سے باہر جا رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے وہ باہر سے کسی ایجنڈے پر واپس آتے ہیں یہ غلط ہے۔ ڈاکٹر صاحب کو اگر سیاست کرنی ہے ان کو ثابت قدمی سے ملک کے اندر رہ کر اپنے حق کی لڑائی لڑنی ہو گی اور سانحہ ماڈل کا کیس انجام تک پہنچانا ہوگا۔

سوال:پانامی لیکس کا معاملہ ختم ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ 3ستمبر کو تحریک انصاف پھر لاہور میں احتجاج کر رہی ہے، آپ اس سلسلے میں کیا کہتے ہیں؟

جواب:کیا عمران خان کو یہ نہیں پتہ تھا کہ ان کی بھی ماضی میں ایک آف شور کمپنی رہی ہے۔ میں سیاست دانوں کے احتساب کے خلاف نہیں ہوں۔ کرپشن پاکستان کا بہت بڑا مسئلہ ہے۔ صرف نوازشریف کے بچوں کی آف شور کمپنیاں نہیں ہیں اگر غیر جانبدار تحقیقات ہوں بہت سے سیاست دانوں کے بچے آف شور کمپنیوں کے مالک نکل آئیں گے۔ احتجاج ایوان کے اندر ہونا چاہیے سیاسی جماعتوں کو مشترکہ ٹی او آر بنانے چاہئیں تاکہ احتساب کا عمل جاری رہے۔ کرپشن ایک ناسور ہے اس کی حمایت نہیں کی جا سکتی کسی بھی صورت میں ہم کرپشن کی حمایت نہیں کر سکتے۔ پارلیمنٹ کو اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے اور غیر جانبدار بے لاگ احتساب ہونا چاہیے۔