ہمیں امن کی ثقافت سیکھنی چاہیے  قاضی جاوید فلسفی  ڈائریکٹر ادارہ ثقافت اسلامیہ

ہمیں امن کی ثقافت سیکھنی چاہیے قاضی جاوید فلسفی ڈائریکٹر ادارہ ثقافت اسلامیہ

انٹرویو :حسنین جمیل۔۔۔

سوال:ادارہ ثقافت اسلامیہ کن مقاصد کے لیے قائم کیا گیا ؟

جواب:ادارہ ثقافت اسلامیہ ایک غیر سرکاری ادارہ ہے جو 1950ءمیں قائم ہوا ۔ تب نیا نیا ملک بنا تھا۔ یہاں کے لوگوں کی خواہش تھی کہ اس ملک میں ان کے مذہبی اور ثقافتی اقدار کے حوالے سے کام ہو نیزآج کے عہد کے مطابق اسلامی قوانین کی تشریح کی جائے اور ان اسلامی قوانین پر نئے سرے سے کام ہو۔چنانچہ اس زمانے کے دانش وروں نے یہ ادارہ بنایا۔ اس ادارے کا نام مذہبی ہے مگر یہ ثقافتی اور فکری ادارہ ہے۔ ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم اس ادارے کے بانیوں میں سے تھے۔ 1959ءمیں وہ فوت ہوئے ان کے بعد پروفسیر ایم ایم شریف ڈائریکٹر بن گئے۔ خلیفہ عبدالحکیم اور ایم ایم شریف دونوں حضرات متحدہ ہندوستان کے بڑے فلسفی تھے۔

سوال:ہمارے نصاب میں جو تاریخ پڑھائی جا رہی ہے اس کو 1947ءسے شروع کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے کی تاریخ کو ہندو تاریخ کہہ کر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔اس طرز عمل پر کیا کہیں گے؟

جواب:بیسویں صدی میں تمام ممالک نے تاریخ کو گڈمڈ کرکے اپنے موجودہ مقاصد کی تائید حاصل کرنے کے لیے تاریخ کے ساتھ ایسا کیا۔ پاکستان کو نظریاتی ملک کہا جاتا ہے۔ لہٰذا یہاں تاریخ کو زیادہ ہی مسخ کیا گیا۔ آپ ٹھیک کہتے ہیں ہمیں غلط تاریخ پڑھائی جا رہی ہے۔ ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ صحیح تاریخ پڑھانی چاہیے۔

سوال:کیا حکمران طبقے اس خوف کا شکار ہیں کہ عوام کو اصل تاریخ پڑھانے سے ان کا اقتدار ختم ہو جائے گا؟

جواب:نہیں یہ خوف نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ تاریخ کے معاملات پر حکمران طبقے اور عوام کے معاملات ایک ہو جاتے ہیں۔آپ امریکہ کی مثال لیں ، امریکی حکومت اور عوام یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ امریکہ ایک مہذب ملک ہے،وہ دوسروں کا استحصال نہیں کرتا، دوسرے ممالک پر قبضے نہیں کرتا، بلکہ دنیا میں انسانیت کے فروغ کے لیے کام کر رہا ہے۔ یہاں حاکم اور عوام کا مفاد ایک ہو جاتا ہے۔ یہی صورت حال پاکستان میں بھی ہے۔

سوال:کیا وجہ ہے کہ ادارہ ثقافت اسلامیہ اور مجلس ترقی ادب جیسے کارآمد اداروں کو تو فنڈ نہیں ملتے جبکہ آپ کے پہلو میں نظریہ پاکستان ٹرسٹ نامی ادارے کی پانچوں گھی میں ہیں؟

جواب:نمجلس ترقی ادب کو حکومت کی جانب سے بڑی گرانٹ ملتی ہے۔ میں ریڈیو ایف ایم 103 اور ہم شہری آن ائن کی وساطت سے یہ بناتا چاہتا ہوں کہ پچھلے سال حکومت پنجاب کی جانب سے ادارہ ثقافت اسلامیہ کو ڈیڑھ لاکھ روپے کی گرانٹ دی۔

سوال:یہ گرانٹ تو اونٹ کے منہ میں زیرہ بھی نہیں، کیا یہ صوبائی محکمہ تعلیم نے دی تھی؟

جواب:یہ گرانٹ وزارت اطلاعات نے دی تھی اور واقعی یہ اونٹ کے منہ میں زیرہ بھی نہیں ہے۔کیونکہ زیرہ چبانے کے لیے منہ ہلایا جاتا ہے۔

سوال:ان حالات میں یہ ادارہ اپنے اخراجات کیسے پورے کرتا ہے؟

جواب:ادارے کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ اس کی کتابوں کی فروخت ہے۔ دیگر سرکاری ادارے کتاب شائع کرتے ہوئے خرچہ زیادہ کرتے ہیں جس سے کتاب مہنگی ہو جاتی ہے اور گوداموں میں بند ہو جاتی ہے۔ لیکن ادارہ ثقافت اسلامیہ کا مفاد یہ ہوتا ہے کہ سستی کتاب شائع ہو کر عوام تک جائے اور اس کی فروخت ہو۔ اسی آمدنی سے ادارہ چلتا ہے۔

سوال:بطور فلسفی کیا سمجھتے ہیں پاکستانی قوم کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟

جواب:ہمارے بہت سے المیے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ آج کی دنیا کی ذمہ داریاں کیا ہیں اور کیا ہمیں ان ذمہ داریوں کا احساس ہے۔ کیا ہم ان کو پورا کر رہے ہیں۔ مجھے لگتا ہے ہم دنیا سے کٹ کر جینا چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ دوسری قومیں ہم سے ناراض رہیں۔ یہ علاقہ جسے پاکستان کہا جاتا ہے اس کا تاریخ میں کوئی شاندار کردار کا حامل نہیں رہا۔یہ نیم اجڈ قسم کے علاقے ہیں۔ لہٰذا ان کو بنیادی زندگی کے اصول سیکھنے میں کئی دہائیاں لگےںگی۔ آپ دیکھیں باہر سڑک پر ہم کیسے چلتے ہیں، جیسے جنگ ہو رہی ہے ۔ہمیں امن کی ثقافت سیکھنی چاہیے۔ امن سے رہنے کا مطلب سمجھنا چاہیے۔ یہاں تعلیم کی کمی ہے۔ یہاں لالچ بہت ہے۔ پھر جو لوگ دولت مند ہو جاتے ہیں ان کا طرز عمل بھی بدلتا نہیں،بہرحال میں امید پرست ہوں۔1950 کی نسبت ہمارے مسائل کم ہیں۔

سوال:ہمارے حکمران طبقوں کی ترجیح میں سڑکیں پل بنانا ہے مگر عوامی ذہن سازی کی طرف توجہ نہیں دی جاتی۔

جواب:ہمارے حکمرانوں کی جو تاریخ ہے وہ تہذیب اور شائستگی کی نہیں ہے۔ آپ جا کر ان سے کہیں کہ ایک لائبریری بنا دیں وہ آپ کا منہ دیکھنے لگ جائیں گے کہ آپ کیا مطالبہ کر رہے ہیں۔ سڑکیں بنانا، عمارتیں بنانا اچھی بات ہے مگر فنون لطیفہ روحانی تربیت کے لیے بہت ضروری ہےں۔ اچھی یونیورسٹی ہمیں نصیب ہو جائے،ہمارے لیے بہت بڑی بات ہو گی۔ مگرلائبریری بنانا صرف حکمرانوں کا کام نہیں ہے، ریاست اورلوگ مل کر کام کرتے ہیں۔ اورسکول کی اچھی عمارت بنانے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہاں تعلیم بھی اچھی دی جا رہی ہے۔ عوام کو اپنے فرائض اور اہداف کو سمجھنا اس پر کام کرنا ہوگا۔

سوال:ہمارے عوام کتاب دوست کیوں نہیں۔ لائبریریاں ویران اور کھانے کے ڈھابے آباد ہیں؟

جواب:بنیادی طور پر خاندانی تربیت کی کمی ہے، اساتذہ کی تربیت کی کمی ہے۔ انہوں نے ہمیں یہ نہیں بتایا کہ کتاب ہماری زندگی کو خوب صورت بنانے میں کیا کردار ادا کرتی ہے۔ معیار زندگی کو بہتر کرتی ہے۔ ہمیں سماج میں زندہ رہنے کے لیے آہنگ دیتی ہے۔ نئے رویے دیتی ہے اگر ہم یہ سب کچھ نہیں سیکھنا چاہتے تو یہ بدقسمتی کی با ت ہے۔
سوال:پاکستانی زبانوں میں خاص طور پر اردو میں جو ادب لکھا جا رہا اس کا موازنہ کلاسیک ادب سے کریں تو کیسا لگتا ہے؟

جواب: اس وقت پاکستان کی تمام قومی زبانوں میں جو ادب تخلیق ہو رہا ہے۔ بہت اعلی معیار کا ہے۔ آپ پاکستانی ریاست اور سماج کو مدنظر رکھیں زیادہ ادیبوں کو مواقع میسر نہیں ہیں۔ کہیں سے حوصلہ افزائی نہیں ہوتی اس کے باوجود پاکستان کا ادیب لکھ رہا ہے اور بہت اعلیٰ معیار کا لکھ رہا ہے۔ اردو میں اب بہت اچھا لکھا جا رہا ہے۔ آپ کلاسیک داستانوں کو پڑھیں ان میں ادبی خوبی نہیں ہے۔ آج کا ادب اردو اور دیگر زبانوں میں جو ادب تخلیق ہو رہا ہے۔ وہ پہلے کی نسبت بہت بہتر ہے۔ باصلاحیت اور باشعور نوجوان اپنے سامنے مقاصد رکھ کر لکھ رہے ہیں۔ قابل تعریف کام ہو رہا ہے۔

سوال:کیا میڈیا خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا عوام کو معلومات فراہم کر رہا ہے یا شعور دے رہا ہے؟

جواب:کمرشل ادارے عوام کو وہی کچھ دیں گے جو عوام ان سے چاہتی ہے۔ ریاست ہو یا کوئی فاﺅنڈیشن، جو میڈیا کی پالیسی کو وضع کرے ۔کسی نظریے کو رویے کو فروغ دے۔ ہمارے ہاں یہ توقع نہیں کرنی چاہیے۔ لیکن میں میڈیا کا کوئی موثر کردار نہیں دیکھتا۔ میڈیا عوامی فرمائش پر چلتا ہے۔

سوال:کیاانٹرنیٹ ، فیس بک اور ٹویٹر مطالعے کے شوق میں رکاوٹ ہیں؟

جواب:بعض صورتوں میں رکاوٹ ہےں ایک نوجوان اگر تعلیم حاصل کر رہا ہے، نوکری کر رہا ہے، اس کے پاس اگر دو گھنٹے فارغ ہیں وہ کمپیوٹر پر بیٹھ جائے گا۔ مگر جو مطالعے کے شوقین ہیں وہ اس سے زیادہ متاثر نہیں ہوتے۔ دنیا میں یہ دونوں چیزیں ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔

سوال:ہماری قوم عسکری عہد میں جمہوریت اور جب جمہوریت آ جائے تو عسکری عہد کو یاد کرتی ہے؟

جواب:اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے مسائل فوجی حکومت اور عوامی حکومت دونوں میں حل نہیں ہوتے۔ اس لیے جب ایک ہوتی ہے تو دوسری کو یاد کیا جاتا ہے۔فوجی حکومتیں کسی بھی ملک کے مسائل حل کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوئیں۔ پاکستان میں توانائی کے مسئلے کو دیکھیں۔ فوجی حکومتوں میں کبھی اس پر کام نہیں ہوا۔ بے نظیر بھٹو کی کمزور حکومت نے بجلی کا مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی۔ بدقسمتی سے نوازشریف کی حکومت کو بجلی کے بحران کا پتہ تو ہے مگر ابھی تک کوئی نتائج سامنے نہیں آئے۔

سوال:ہمارے ملک کا ماضی بھی آپ پر واضح ہے، موجودہ صورتحال بھی سامنے ہے، اس تناظر میں آپ مستقبل کو کیسا دیکھتے ہیں؟

جواب: آبادی کا مسئلہ حل کیے بغیر ہماری ترقی خوشحالی کے تمام منصوبے ناکام ہو جاتے ہیں۔ آبادی میں خوفناک رفتار سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر موثر سمت اقدامات نہ کیے تو بہت مشکل ہو سکتی ہے۔ چاہے بیرونی دنیا اسے غیر جمہوری کہیں مگر ہمیں اپنی بقا کے لیے یہ سب کرنا ہوگا۔ وسائل کم ہیں پیدائش کے عمل میں دس سال کا وقفہ ضروری ہے۔ وسائل کی کمی اور آبادی میں اضافہ ترقی کا عمل روکتا ہے۔ آج کا درست فیصلہ چالیس سال بعد نتیجہ دے گا۔