بیگم نصرت بھٹو کی سانسیں ٹھہر گئیں  اسلام آباد کے کوفے سے شہر مدینہ آئی ہوں

بیگم نصرت بھٹو کی سانسیں ٹھہر گئیں اسلام آباد کے کوفے سے شہر مدینہ آئی ہوں

سی آر شمسی۔۔۔۔

آپ ملک سے باہر چلی جائیں،جنرل ضیاء الحق بہت ظالم ہے، اس نے ذوالفقار علی بھٹو کو مار دیا ہے، وہ آپکو بھی نہیں چھوڑے گا، آپ اپنی اور اپنے بچوں کی زندگی بچائیں اور یہاں سے نکل جائیں۔

یہ مشورہ تین اور چار اپریل کی تاریک شب میں راولپنڈی کی پرانی جیل میں ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دیئے جانے کے بعد بھٹو خاندان کے قریبی دوستوں نے بیگم نصرت بھٹو کو ملک چھوڑنے پر اصرار کرتے ہوئے دیا تو،بیگم نصرت بھٹو پھٹ پڑیں۔جنرل ضیا الحق نے میرے بے گناہ شوہر کو پھانسی دی ہے،جو منتخب وزیراعظم تھا،لوگوں کی امید تھا۔جب وہ نہیں رہاتواس زندگی کا کیا کروں۔میرے لئے موت بے معنی ہے۔میں یہاں رہوں یا باہر چلی جاؤں۔میں اب موت سے نہیں ڈرتی۔میں لڑوں گی، جس کیلئے ذوالفقار علی بھٹو نے قربانی دی ہے،جمہوریت کیلئے،آئین کیلئے،اپنے لوگوں کیلئے اپنے کارکنوں کیلئے، جو میرے بچے ہیں۔میں انہیں تنہا نہیں چھوڑوں گی، ان کے حقوق کیلئے ، ظالموں سے زندگی کی آخری سانس تک لڑوں گی۔

اور آج اپنے اس عزم کو سچ کر دکھانے والی، ضیاء آمریت کے بے پناہ جبر کے سامنے ایک پہاڑ کی طرح ڈٹ جانیوالی پاکستان کی سابق خاتون اول اور پاکستان پیپلز پارٹی کی سابق چیئرپرسن، ایک وزیراعظم کی اہلیہ، ایک وزیراعظم کی ماں، بیگم نصرت بھٹو صدمات سہتے سہتے بالآخر دم توڑ گئیں۔زندگی مختصر ہے، موت برحق ہے،مگر جو زندگی بیگم نصرت بھٹو کو ملی، اس میں عروج اور خوشی کے لمحے شاید کم ہی آئے، صدمات کی چادر گہری رہی۔دنیا میں اتنی المناک کہانی کی مثال کم ہی ملے گی،جس کا کر دار بیگم نصرت بھٹو تھیں۔

دیکھا جائے تو مر تو وہ اسی دن گئیں تھیں جس دن 70کلفٹن کے دروازے پر مرتضےٰ بھٹو کو قتل کر دیا گیا، اپنے شوہر اور بیٹے شاہنواز کے بعد،مرتضےٰ بھٹو کا جوان لاشہ دیکھنے کا کرب نا قابل برداشت تھا، ایسا سکتا طاری ہوا،کہ زبان گنگ ہوگئی،جسم سے جان نکل گئی،یاداشت چلی گئی۔مگر پتھرائی آنکھ کھلی رہیں، جن میں درد، کرب پتھر سا ہوگیا،دبئی کے ایک ہسپتال میں ان آنکھوں کو ہمیشہ کیلئے قرار آگیا،اچھا ہی ہوا۔

تصور کیجئے کہ اگر بیگم نصرت بھٹو کسی دن بول پڑتیں اور کہتیں بے نظیر کو بلاؤ وہ کہاں ہے؟
جس سے وہ بے پناہ محبت کرتیں تھیں۔

تین اور چار اپریل1979ء ؁ کی شام جب ماں بیٹی کی جیل کی کال کوٹھڑی کی سلاخوں کے پیچھے ذوالفقار علی بھٹو سے آخری ملاقات کرائی گئی تو اس لمحے بھٹو صاحب نے اپنی اہلیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھاپنکی کو بکھرنے نہ دینا، تو بیگم بھٹو نے اپنے آنسوپی کر یہ ذمے داری قبول کی تھی۔

بیگم نصرت بھٹو آج دنیا میں نہیں رہیں مگر پاکستان کے درو دیوار اس عظیم خاتون کی جمہوریت کیلئے نا قابل فراموش جدوجہد، کو کبھی بھول نہیں پائیں گے، ان کی زندگی، جمہوریت پسندوں کیلئے مشعل راہ رہے گی،پارٹی چیئرمین کی پھانسی کے بعد ،پیپلز پارٹی کیلئے مشکلات، مصائب اور جبر کا ایک پہاڑ کھڑا تھا، جس کا بیگم نصرت بھٹو نے پوری جرأت ، حوصلے اور بصیرت سے مقابلہ کیا ، مگرانہیں دکھ اس وقت ہوا، جب بھٹو کے قریبی رفقا کی بے وفائیاں سامنے آنے لگیں۔

ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی ساتھی اور سابق سینیٹر سردار سلیم جو بیگم نصرت بھٹو کی وفات پر رنجیدہ تھے،کہنے لگے آج مجھے ان کی جدوجہد سے بھر پور زندگی کا ایک ایک لمحہ یاد آرہا ہے،وہ آمریت کے سامنے سرینڈر کرنے کو تیار نہیں تھیں۔ایسی کئی کوششیں ناکام ہو چکی تھیں، مگر جب انہیں معلوم ہوا کہ غلام مصطفےٰ جتوئی، مولانا کوثر نیازی کے بعد عبدالحفیظ پیرزادہ ، اور ممتاز بھٹو بھی، اندر خانے راستے بدل چکے ہیں تو انہیں شدید دھچکہ لگا تھا، مگروہ جلد ہی سنبھل گئیں۔

مولانا کوثر نیازی کے بارے میں جب واضح ثبوت ملے کہ وہ جنرل ضیاء الحق کی بیت کر چکے ہیں تو بیگم نصرت بھٹو نے جیل میں ذوالفقار علی بھٹو سے ملاقات کر کے بتایا کہ مولانا نیازی بک چکا ہے، میں اسے پارٹی سے نکال رہی ہوں،مگر بھٹو صاحب نے کہا نہیں آپ ایسا نہ کریں، یہ معاملہ پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کونسل میں لے جائیں، کونسل جو فیصلہ کرے ، اس پر عمل کیا جائے۔

سردار سلیم بتانے لگے کہ لاہور میں اداکار محمد علی کے بنگلے کے تہہ خانے میں سنٹرل ایگزیکٹو کونسل کا اجلاس منعقد ہوا،مولانا کوثر نیازی کیخلاف چارج شیٹ پیش کر کے وضاحت مانگی گئی، تو وہ اجلاس کا بائیکاٹ کر گئے،جس کا مطلب واضح تھا کہ ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا ۔انہیں باضابطہ طور پر پارٹی سے فارغ کر دیاگیا۔

بیگم نصرت بھٹو کا کہنا تھا کہ انہیں ابن الوقت لیڈروں کی ضرورت نہیں میرے ساتھ میرے بچے ، پارٹی کے کارکن موجود ہیں، اور یہ حقیقت ہے کہ، بیگم نصرت بھٹو نے کارکنوں کو بے پناہ پیار دیا اور یہ بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے بھی بیگم نصرت کو ماں کا درجہ دیا۔

آج ہماری ماں مر گئی ہے،ذوالفقار علی بھٹو کے پیارے اور سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن قاضی سلطان محمود بلک بلک کر رو پڑے،کہنے لگے آج آخری چراغ بھی بجھ گیا۔

وہ کارکنوں کی ماں تھیں،بھٹو صاحب کے بعدانہوں نے ہمیشہ ہمارے سروں پر ہاتھ رکھا، ہمیں حوصلہ دیتیں،کہتیں گھبرائیں مت، اندھیری رات ضرور ختم ہوگئی،مگر ظالموں نے اس عظیم خاتون کی زندگی کو اندھیری رات میں بدل ڈالا یہ کہتے ہوئے قاضی سلطان خاموش ہوگئے۔

ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی، اور پھر ظلم یہ کہ ان کے ورثا سے آخری دیدار کا حق بھی چھین لینے کے بہت دنوں بعد، جب بیگم نصرت بھٹو، لاڑکانہ پہنچیں، تو انہوں نے اپنے کرب کا اظہار کچھ یوں کیا، میں اسلام آباد کے کوفے سے شہر مدینہ آئی ہوں، اسلام آباد بھٹو خاندان کیلئے کوفہ ہی ثابت ہوا، جہاں سے اسے لاشے ہی ملے ،یہ بے پناہ صدمات سہنے کے باوجود بیگم نصرت بھٹو نے ہمت نہیں ہاری ، جیل گئیں، جلا وطنی کی اذیت سے گزریں،فوجی عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کیا،یہاں تک کہ ، ان کی جمہوری جدوجہد کے راستے میں قدم قدم پر رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں۔

پورے ریاستی جبر کو بروئے کار لاتے ہوئے، اس بات کا اہتمام کیا گیا، کہ بیگم بھٹوکہیں بھی لوگوں کو جمع نہ کر سکیں اور نہ ہی ان سے بات کر سکیں تو ایک دن، وہ خاموشی سے بے نظیر بھٹو کے ہمراہ لاہور کے قذافی اسٹیڈیم جاپہنچیں کہ اپنے لوگوں سے بات کر سکیں، جہاں کرکٹ میچ ہو رہاتھا۔ مگر عین اس وقت جب وہ سٹیڈیم میں داخل ہونیوالی تھیں، فرشتوں کو ان کی آمد کا علم ہوگیا،اور پھر قیامت ٹوٹ پڑی،بے رحم تشدد کے ریکارڈ ٹوٹ گئے، لاٹھیوں کا بے دریغ استعمال اور پھردنیا نے دیکھا کہپاکستان کی خاتون اول لہو میں نہا گئیں، ان کا سر پھٹ گیا۔

حیرت ہے یہ تشدد بھی ان کے حوصلے اور عزم کو شکست نہ دے سکا۔انہیں سکھر جیل میں ڈال دیا گیا، جہاں کی اذیت انہیں سرطان کا مرض دے گئی جو بڑھتے بڑھتے کینسر بن گیا، مگر بیگم نصرت بھٹو نے ہار نہیں ، مانی،پھر انہیں خوشیاں بھی ملیں،ان کی پیاری بیٹی، دکھوں کی ساتھی،
وزیراعظم بن گئیں لیکن سازش سے ان کی حکومت ختم کر دی گئی تو سیاسی انتقام کی ایک نئی کہانی شروع ہوئی اس بار یہ کہانی جنرل ضیاء الحق کے پیروکاروں نے لکھی۔

جدوجہد جاری رہی ،سازش پھر ناکام ہوئی اور بے نظیر بھٹو دوسری بار وزیراعظم منتخب ہوگئیں۔ اس بار بھٹو خاندان کو جو صدمہ ملا وہ بیگم نصرت بھٹو کیلئے جان لیوا ثابت ہوا، مرتضےٰ کے قتل نے بیگم نصرت بھٹو کو خاموش کر دیا ان کی یاداشت چلی گئی سانسیں چلتی رہیں،لو آج وہ بھی ٹھہر گئیں،خاتون اول، گڑھی خدا بخش پہنچ گئیں ،جہاں ان کے اپنے موجود ہیں۔
یہاں ان کی ملاقات وزیراعظم بے نظیر بھٹو سے بھی تو ضرور ہوگی۔