پایہ تخت پر یلغارفائنل راؤنڈ

پایہ تخت پر یلغارفائنل راؤنڈ

سی آر شمسی۔۔۔

پایہ تخت پر یلغار ،فائنل راؤنڈ؟ صحافی کا نام ای سی ایل میں ،نیا بحران۔
تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی جانب سے دوسری بار اسلام آباد بند کرنے کے اعلان سے ملکی سیاسی صورتحال گھمبیر ہوگئی ہے ۔ جس کے جواب میں وزیراعظم نوازشریف نے بھی اپنے رفقاسے مشاورت کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کی دیگر سیاسی جماعتوں سے ازسرنو رابطے کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ تاہم ذرائع کے مطابق اپوزیشن کی حمایت حاصل کرنے کیلئے وزیراعظم کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ جس کا ذمہ دار حکومت کے بعض جوشیلے وزراء کو قرار دیا جارہا ہے جن کے بصیرت عاری بیانات اور اپوزیشن جماعتوں کی قیادت پر رقیق حملوں کے باعث حکومت اور اپوزیشن میں دوریاں پڑ گئیں ہیں۔

یہ اختلافات ختم کرنے کیلئے وزیراعظم نے مولانا فضل الرحمان کی خدمات حاصل کی ہیں اور انہیں پیپلزپارٹی ، اے این پی کے ساتھ دوبارہ رابطوں کا خفیہ ٹاسک دیاگیا ہے ، تاہم ذرائع کا کہنا ہے اس بار صورتحال پہلے دھرنوں سے قطعی مختلف ہے کیونکہ اس بار معاملہ پانامہ لیکس کے ذریعے سامنے آنے والے کرپشن کے سنجیدہ الزامات ہیں، جن کی تحقیقات کیلئے پارلیمنٹ میں موجود اپوزیشن کی تمام پارلیمانی پارٹیاں نہ صرف متفق ہیں بلکہ تحقیقات کیلئے مشترکہ آواز اٹھاتے ہوئے سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن سے رجوع کرچکی ہیں۔

بدقسمتی سے قومی سطح پر سیاسی جماعتوں کے مابین رسہ کشی اس وقت شدت اختیار کر رہی ہے جب مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت ، سفاکی اور لائن آف کنٹرول کی سنگین خلاف ورزیوں کے باعث خطے پر بھیانک جنگ کے سائے منڈلا رہے ہیں، یہ وہ وقت تھا جب حکومت کو حزب اختلاف کی جماعتوں کا اعتماد حاصل کرنے کیلئے اپنے رویے میں غیرمعمولی لچک کی ضرورت تھی، مگر جب عمران خان کی جانب سے مشترکہ اجلاس کے بائیکاٹ کے فیصلے کے بعد شدید دباؤ کے باوجود ملک کی بڑی اپوزیشن جماعت پیپلزپارٹی نے مسئلہ کشمیر کے بحران پر بلائے گئے پارلیمنٹ مشترکہ اجلاس میں نہ صرف شرکت کی بلکہ پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو خود پہلی بار پارلیمنٹ آئے جہاں انہوں نے کشمیر پالیسی پر حکومت کا بھرپور ساتھ دینے کا اعلان کیا، عین اسی وقت حکومت کے بعض وزرا اور اہم رہنماؤں نے توپوں کا رخ پیپلزپارٹی کی جانب موڑ دیا ۔

اس اچانک بدلتے ماحول پر وزیراعظم نوازشریف شدید اضطراب میں دکھائی دیئے ، ذرائع کہتے ہیں وزیراعظم نے وفاقی وزراء اور مشاہد اللہ خان کی سخت سرزنش کرتے ہوئے انہیں اپوزیشن کے خلاف بیان بازی سے روک دیا ہے مگرزباں کے تیرگاؤکر چکے ہیں، جس تیزی سے سیاسی منظرنامہ بدل رہا ہے اسی تیزی سے سیاسی جماعتیں اپنی حکمت عملی تبدیل کر رہی ہیں سیاسی ٹمپریچر بھی بڑھ رہا ہے ۔

دوسری جانب عمران خان جو بظاہر اپنی سیاسی زندگی کا فائنل راؤنڈ کھیلنے کا فیصلہ کرچکے ہیں، دارالحکومت کا محاصرہ کرنے کیلئے سیاسی طاقت کو جمع کرنے کیلئے کوشاں ہیں، اس مقصد کیلئے جہانگیر ترین اور چوہدری سرور لندن میں علامہ طاہر القادری کو واپس لانے کی سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں، جنہیں منانے میں شیخ رشید کی ناکامی کے بعد لندن خصوصی مشن پر بھیجا گیا ہے ۔ اگرچہ جہانگیر ترین اور چوہدری سرور نے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے لندن میں موجودگی کو اپنے نجی دورے سے تعبیر کیا ہے ، شیخ رشید بھی مفاہمتی مشن سے مکر گئے ہیں ، کہتے ہیں میں تو لندن چھٹی منانے آیا تھا ، مگر عوامی تحریک کے ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کا نمائندہ وفد ا نہیں اسلام آباد بند کرنے کی تحریک میں شرکت کی دعوت دینے آیا تھا مگر علامہ طاہرالقادری وفد سے ملاقات کئے بغیر ہی لندن سے کینیڈا نکل گئے۔

گویاحکومت اور عمران خان اس وقت ایسے بحران سے دوچار ہیں جہاں اگر فریقین نے بالغ نظری ، سنجیدگی اور ٹھہراؤ کا رویہ نہ اپنایا تو پایہ تخت پر یلغار ، کسی ناخوشگوار حادثے کو جنم دے سکتی ہے جس کے نتیجے میں سارے
کھلاڑی ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔

ملکی سیاست میں ارتعاش اس وقت شدت اختیار کر رہا ہے جب قومی سلامتی کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی داخلی گفتگو سے متعلق خبر شائع ہونے کے بعد ملک کے موقر انگریزی اخبار ڈان کے رپورٹرکا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا ہے اور معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع ہوچکی ہیں۔