پنجابی میں فکشن کے مقابلے میں شاعری زیادہ توانا ہے پنجابی پڑھنے لکھنے کی زبان نہیں رہی

پنجابی میں فکشن کے مقابلے میں شاعری زیادہ توانا ہے پنجابی پڑھنے لکھنے کی زبان نہیں رہی

زاہد حسن (ناول نگار)

حسنین جمیل۔۔۔۔

سوال:آپ کے ناول ’’تسی دھرتی‘‘ کو پنجابی زبان کے ایک بڑے انعام سے نوازا گیا ہے۔ اس کے حوالے سے ہم شہری آن لائن کو کچھ بتائیں۔

جواب:یہ کہانی بہت عرصے سے میرے ذہن میں تھی میرے آباؤاجداد کا خطہ یہی ہے۔ میرا گاؤں ضلع فیصل آباد کی تحصیل تاند لیوالہ ہے۔ ہمارا علاقہ باروں کا کہلاتا ہے۔ میرا علاقہ ساندل بار کا ہے۔ ان کو جانگلی بھی کہا جاتا ہے۔ ان لوگوں کے رہن سہن اور مسائل کے حوالے سے کچھ لکھنے کا ارادہ تھا۔ ایک بزرگ سے بات کی یہاں کے رسم و رواج کے حوالے سے دریافت کیا۔ پرانے کنوؤں کے حوالے سے بات کی۔ جولاہے تھے ،ترکھان تھے، کمہار تھے، آہستہ آہستہ یہ سب ختم ہو رہے تھے۔ کچھ تو میرے ذہن میں تھا کچھ لوگوں سے پوچھ کر نوٹس بنائے۔ یہ ناول 1840 سے شروع ہوتاہے اور 1947 کی تقسیم پر آ کر ختم ہو جاتاہے۔ باروں کی آبادکاری ہوئی۔ مقامی لوگوں کی زندگی کو بیان کیا گیا ہے۔ انگریزوں کے آنے کے بعد جو یہاں نہری نظام متعارف ہوا اس میں کیا مسائل درپیش ہوئے۔ ان کی اپنی ترمیمات تھیں کہاں نہر نکالنی چاہیے، کہاں نہیں، یہاں کے مقامی لوگوں اور باہر سے آنے والوں کی چقپلش کو بیان کیا ہے۔

سوال:بھارت اور کینیڈا کی جن تنظیموں نے آپ کے ناول کو انعام دیا ہے سے حوالے سے بتائیں۔

جواب:بنیادی طور پر یہ کینیڈا کی پنجابی فیملی ہے جو بھارت میں تعلیم کے حوالے سے کام کرتی ہے ۔ ان کی پنجابی ادب پر بھی گہری نظر ہے۔ ان کا بنیادی مقصد ہے کہ پنجابی زبان و ادب اور ثقافت کے حوالے جو کام ہو رہا ہے اس کو عالمی منظرنامے پر لایا جائے۔ پچھلے تین سال سے اس ایوارڈ کا اجرا جاری ہے۔ تین رکنی جیوری ہوتی ہے، کہانی اور ناول پر ایوارڈ دیا جاتا ہے۔ میرا ناول 2015 میں شائع ہوا تھا۔ ان کی ویب سائیٹ پر اس ایوارڈکے حوالے سے لکھا ہوا تھا۔ فیس بک پر بھی دوستوں نے شیئر کیا ہوا تھا۔ آپ ان کو اپنی کتاب ارسال کرتے ہیں۔ کتاب وصول ہونے کی اطلاع آپ کو مل جاتی ہے۔ پھر یہ لوگ خاموش ہو جاتے ہیں۔ ہمیں نہیں پتہ کہ تین رکنی جیوری کون سی ہے۔ ستمبر میں انہوں نے ایک پریس کانفرنس کی۔ پہلا انعام جرنیل سنگھ کی پنجابی کہانیوں کی کتاب کو ملا۔ جرنیل سنگھ بھارتی ہیں مگر 1986 سے کینیڈا میں رہتے ہیں۔وہاں آباد ہونے والے بھارتیوں پر ان کی کہانیاں ہیں۔ دوسرا انعام سیمون ڈی واں کو ملا ہے۔ وہ بھی کہانی کار ہیں۔ ان کا تعلق بھارت سے ہے۔ ان کی کتاب اس پل کو انعام ملا ۔ تیسرا انام میرے ناول تسی دھرتی کو ملا ہے۔ بڑے منظم انداز اس عالمی انعام کو دیا جاتا ہے۔

سوال:پنجاب کے دو رسم الخط ہیں گرمکھی اور شاہ مکھی۔ کیا یہ انعام الگ الگ سکرپٹ پر دیئے جاتے ہیں۔

جواب:بنیادی طور پر دو ایوارڈہیں جو تین لکھاریوں کو دیئے جاتے ہیں۔ پہلا انعام 25ہزار کینیڈین ڈالر کا ہے جو گرومکھی اور شاہ مکھی لکھنے والے کسی بھی ادیب کو مل سکتا ہے۔ دوسرا انعام گرومکھی لکھنے والے لکھاریوں کے لیے الگ اور شاہ مکھی لکھنے والوں کے لیے الگ ہے۔یہ پاکستانی پنجابی لکھاریوں کے لیے بڑی حوصلہ افزائی کی بات ہے۔ یعنی ہر سال ایک پاکستانی پنجابی لکھاری کو تو ایوارڈ ملے گا۔ دوسرا انعام پانچ ہزار کینیڈین ڈالر کا ہے۔ سرحد پار کے پنجابی اپنی زبان، ادب اور ثقافت سے زیادہ جڑے ہوئے ہیں۔ وہاں ثقافتی ادارے ہیں ،جامعات ہیں ، اخبار مسلسل شائع ہوتے ہیں۔

سوال:کیا وجہ ہے سرحد کے اس پار کے پنجابی اپنی زبان اور مٹی سے زیادہ جڑے ہوئے ہیں۔

جواب:یہ حقیقت سب پر عیاں ہے اس کو سمجھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ پنجابی ان کی قومی زبان ہے وہاں پرائمری سے پڑھائی جاتی ہے۔ ان کا طریقہ کار بہت اچھا ہے۔ انگریزی اور ہندی کے ساتھ ساتھ ریاست کی مقامی زبان کو بھی قومی زبان مانا جاتا ہے۔ وہاں پنجابی ہر سطح پر پڑھائی جاتی ہے۔ پنجابی میں پی ایچ ڈی ہوتی ہے۔ پنجاب میں ایم بی بی ایس ہوتا ہے۔ حتی کہ ہر مضمون پنجابی میں پڑھایا جا رہا ہے۔ وہاں کے پنجاب کی بڑی درس گاہوں شاہ مکھی یعنی پاکستانی پنجابی لکھنے والوں کی تخلیقات پڑھائی جاتیں ہیں۔وہاں ایم اے کرنے والا پاکستانی پنجاب کے قدیم اور جدید ادب دونوں سے واقف ہوتاہے۔

سوال:آپ کے ایک ناول عشق کے مارے ہوئے کا اردو ترجمہ بھی ہوا۔ کیا اس ناول کا بھی ترجمہ ہوگا۔

جواب1999 میں وہ ناول شائع ہوا۔ پھر اس کا اردو ترجمہ بھی میں نے خود ہی کیا۔ پھر 2012میں دوسرا پنجابی ناول غلچے اون والی شائع ہوا اب تیسرا ناول شائع ہوا ہے۔ جو وقت کسی بھی ناول کو ترجمہ کرنے میں لگ جاتاہے۔ اس کی بجائے نئی تخلیق کر لوں تو زیادہ بہتر ہے۔

سوال: یہ ترجمے کا کام تو اداروں کے کرنے کا ہے، مگر ہمارے ہاں کیوں ایسے ادارے قائم نہیں ہو پاتے؟

جواب:ہم یہ دعویٰ کرتے ہیں ہمارے سرکاری اداروں میں اردو کے لیے بہت فنڈ رکھا جاتا ہے۔ اور وہ کہتے ہیں ہم بہت کام کرتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ کوئی بڑا کام نہیں ہو رہا۔ کچھ کام اکادمی ادبیات نے کیا ہے مگر ابھی تک جس سطح کا کام ہونا چاہیے ویسا کام نہیں ہوا۔ مقتدرہ قومی زبان کا بھی فرض ہے جو جدید ادب تخلیق ہو رہا ہے اس کا بھی ترجمہ کیا جائے۔ میرے لیے اعزاز کی بات ہے میرے پہلے دو ناولوں کو اکادمی ادبیات کی طرف سے وارث شاہ ایوارڈ ملا۔ میرے خیال میں اردو کے ذریعے ہماری تمام تخلیقات کو شائع ہونا چاہیے۔

سوال:زاہد صاحب آخر پنجابی فکشن کے مقابلے میں شاعری زیادہ توانا کیوں ہے؟

جواب: اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں لگتا ہے کہ پنجابی ادب کی جو شاعری کی روایت ہے بابا فرید سے لے کر احمد راہی اور شریف کنجاہی تک بڑی تواناہے۔ فکشن نہ لکھنے جانے کی بنیادی وجہ ہے کہ پنجابی پڑھنے لکھنے کی زبان نہیں رہی۔ لوگوں کو پڑھنے لکھنے کے مسائل ہیں۔ اب جو یہ ایوارڈ کا سلسلہ شروع ہوا ہے اس کی سب سے مثبت بات یہ ہے کہ ہمارے کئی دوست اردو کے ساتھ ساتھ پنجابی میں بھی لکھ رہے ہیں۔ یہاں کا ادیب کتاب بھی اپنی جیب سے شائع کراتا ہے۔ یہ مجموعی صورت حال ہے۔

سوال:آپ کن پنجابی لکھاریوں سے متاثر ہیں؟

جواب:میرے ذہن میں فوری طور پر نام آ رہے ہیں۔ ان میں دیوندر سارتھی، امرتا پرتیم، گرودیال ہیں۔ بے شمار اور بھی نام ہیں۔ یہاں سے افضل حسن رندھاوا، احمد سلیم، پروین ملک، منشایاد، الیاس گھمن، زبیر احمد، جمیل پال ہیں۔

سوال:ہماری پنجابی کا رسم الخط اردو جیسا ہے یعنی شاہ مکھی وہاں کی پنجابی کا رسم الخط ہندی جیسا ہے جسے گر مکھی کہتے ہیں ،اصل رسم الخط کونسا ہے۔

جواب:اصل رسم الخط شاہ مکھی ہے۔ میر ے خیال میں دوسرے تیسرے گرو کے زمانے میں جا کر رسم الخط گرومکھی میں ہوا تھا۔ گرونانک جی کا کلام ہمیں فارسی میں ہی ملتا ہے۔

سوال:کیا وجہ ہے پنجابی ایک بڑ ی زبان ہونے کے باوجود سکرپٹ کے معاملے فارسی کی طرف دیکھتی ہے۔

جواب:دیکھنے کی ضرورت تو نہیں تھی اب دونوں اطراف کے پنجاب میں بہت کم ایسے لوگ ہیں جو دونوں سکرپٹ پڑھ سکتے ہیں۔

سوال:کیا پنجابی ادبی بورڈ پنجابی کے حوالے سے ٹھیک کام کر رہا ہے۔

جواب:جی بالکل کر رہا ہے۔ ا س طرح پلاک بھی کام کر رہا ہے۔ جمیل احمد پال صاحب کا ادارہ ، مدثر اقبال بٹ صاحب کا پنجابی اخبار 25سال سے شائع ہو رہا ہے۔ پنجابی کتب بھی شائع ہوتی رہتی ہیں۔ یہ بہت اچھا کام ہے۔