ہم بے شک کار میں سفر کریں یا جہاز میں ہمارے دل غریبوں کے لیے دھڑکتے ہیں سید خورشید احمد شاہ رہنما پاکستان پیپلزپارٹی  قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی

ہم بے شک کار میں سفر کریں یا جہاز میں ہمارے دل غریبوں کے لیے دھڑکتے ہیں سید خورشید احمد شاہ رہنما پاکستان پیپلزپارٹی قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی

انٹرویو: حسنین جمیل۔۔۔

سوال: کیا وجہ ہے پیپلزپارٹی 30دسمبر کے احتجاج میں تحریک انصاف کا ساتھ نہیں دیا۔

جواب:پیپلزپارٹی نے ہمیشہ اصولی سیاست کی ہے ہم نے سیاست میں کبھی ذاتیات کا استعمال نہیں کیا۔ ہم نظریاتی اختلاف رکھنے والے لوگ ہیں۔ کبھی سیاست میں کسی کی ذات پر ایک جملہ نہیں بولا۔ شہید بی بی نے ہمیں یہی سکھایا ہے۔ 30 ستمبر کا احتجاج سے ہمارا یہی اختلاف تھا کہہم کسی کی رہائش گاہ کے سامنے احتجاج نہیں کرنا چاہتے۔ یہ کوئی مہذب طریقہ نہیں ہے۔ ہمیں ایسی سیاسی روایات کو فروغ نہیں دینا چاہیے۔ اس سے پہلے تحریک انصاف نے شاہدرہ سے اسمبلی ہال تک جو احتجاج ریلی نکالی تھی اس میں ہم نے شرکت کی تھی۔ لہٰذا اس بار ہم صرف علامتی طور پر شریک ہو سکتیتھے۔ رہائش گاہ کے سامنے احتجاج مناسب نہیں ہے۔

سوال: کیا وجہ ہے پچھلے چارہ ماہ میں حکومت اور اپوزیشن ٹی آو آرز بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

جواب:اس میں سراسر حکومت کی بدنیتی شامل ہے۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کلیئر کہا ہے کہ پانامہ لیکس کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ حکومتی اور اپوزیشن کے اراکین پر مشتمل ایک پارلیمانی کمیٹی بنائی گئی۔ جس نے ٹی او آرز طے کرنے تھے اس کے مطابق پانامہ لیکس پر تحقیقات ہونی تھی مگر یہ حکومتی بے ایمانی ہے۔ کمیٹی کے بے شمار اجلاس کر روانے کے باوجود کوئی لائحہ عمل نہیں بنایا جا سکا۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ حکومت اس معاملے پر سنجیدہ نہیں ۔ حکومتی ہٹ دھرمی کے باعث حزب اختلاف کی سیاسی جماعتون کو سڑکوں پر آنا پڑا۔ وزیراعظم نے پارلیمان میں آ کر جواب دینے کی زحمت نہیں کی۔وہ کسی بھی ادارے کے سامنے اپنے آپ کو جوابدیہ نہیں سمجھتے۔ پارلیمان کو بے توقیر کرتے ہیں۔

سوال: حکومت کسان دشمن پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ کسان پچھلے ایک سال سے سراپا احتجاج ہیں۔کیا پیپلزپارٹی بھی اب ان کے ساتھ احتجاج میں شریک ہو گئی۔

جواب:پاکستان کسان اتحاد کے مطالبات جائز ہیں۔ حکومت کسان دشمن پالیسی پر چل رہی ہے۔ کسانوں کے بار بار احتجاج کے بعد جو حکومتی وعدے کیے گئے وہ بھی جھوٹے تھے۔ حتی کہ وزیراعظم نے جو کسان پیکج کا اعلان کیا وہ بھی اعداد شمار کا کورگھ دھندا ثابت ہوا۔ کسانوں نے اپنے حق کے لیے پھر احتجاج کا راستہ اختیار کیا ہے۔ حکومت خود ملکی حالات خراب کر رہی ہے۔ پنجاب میں آٹھ سال سے گڈگورنس کے دعوے کرنے والے جواب دیں۔ یہاں پچھلے 6سال سے ڈاکٹر، اساتذہ، کسان سب سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔ سرحد پر بھارت نے فوج لگائی ہے۔ کشمیر میں ظلم ہو رہا ہے جبکہ خود حکومت ملک کے اندر معاملات کو سنبھالنے سے قاصر ہے۔ میں نہیں سمجھتا نوازحکومت نے پچھلے تین سالوں میں کوئی ڈھنگ کا کام کیا ہے۔

سوال: آپ خصوصی طور پر لاہور کسانوں کے احتجاج میں شرکت کے لیے آئے کیا ہم سمجھیں پیپلز پارٹی سوشلزم کی طرف لوٹ رہی ہے۔ مزدوروں اور کسانوں کی سیاست کر رہی ہے۔

جواب:پہلے میں ایک بات کروں کہ کسان ہماری طاقت ہیں۔ ادھر بھارت میں مودی پانی بند کرنے کی دھمکی دے کر ہماری زراعت تباہ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ ادھر نوازشریف حکومت کسانوں پر ظلم کر رہی ہے۔ کسانوں کے لیڈروں کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔ لہٰذا کسان بھارتی مودی اور پاکستانی مودی دونوں کے جبر کا شکار ہو رہے ہیں۔ جہاں تک پیپلزپارٹی کے سوشلزم کی طرف جانے کی بات ہے۔ ہم نے اس سے انحراف کیا ہی نہیں۔ ہم نے ہمیشہ غریبوں کی بات کی ہے۔ مزدوروں اور کسانوں کی بات کی ہے۔ پیپلزپارٹی غریبوں کی سیاسی جماعت ہے ہم جہاں بھی ہوں ہم غریبوں کی بات ہی کرتے ہیں۔ہم بے شک کار میں سفر کریں، ہوائی جہاز میں سفر کریں ہمارے دل غریبوں کے لیے دھڑکتے ہیں۔پیپلزپارٹی آج بھی واحد جماعت ہے جو غریبوں کی بات کرتی ہے۔

سوال: کیا آپ وزیراعظم کی اقوام متحدہ میں کی جانے والی تقریر سے مطمئن ہیں۔

جواب:کس قدر افسوس کی بات ہے کہ ہمارا کوئی وزیرخارجہ ہی نہیں ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے ہندی میں اپنے عوام کے لیے تقریر کی ۔ بلوچستان کا ذکر کیا اور ہمارے بندوں کے نام لے کر کہا یہ دہشت گرد بھارت آتے ہیں۔ ہمارا وزیرخارجہ ہوتا تو جواب دیتا۔ وزیراعظم انگریزی میں تقریر کرتے رہے۔ بلوچستان سے پکڑے جانے والے بھارتی جاسوس کل بھوشن کا نام تک نہیں لیا۔ وزیراعظم کو کھل کر نام لینا چاہیے تھا۔ حکومت نے آج تک اپنی کوئی بھی خارجہ پالیسی نہیں بنائی۔

سوال: زرداری صاحب فوج کے خلاف تقریر کرکے ملک سے چلے گئے ہیں وہ واپس کب آئیں گے۔

جواب: آپ فکر نہ کریں وہ جلد واپس آ جائیں گے۔ ہمارے چیئرمین بلاول ملک کے اندر ہیں وہی پارٹی کے معاملات چلا رہے ہیں۔ پہلے زرداری صاحب پارٹی چلاتے تھے۔ آپ لوگ کہتے تھے بلاول کدھر ہیں۔ اب بلاول پارٹی چلا رہے ہیں تو آپ کہتے ہیں زرداری صاحب کہاں ہیں۔ ہم نے اپنی سیاسی جماعت آپ دوستوں کے مشوروں سے تو نہیں چلانی۔ ہم اپنے فیصلے خود کرتے ہیں۔ لہٰذا اس موضوع کو چھوڑ دیں کہ زرداری صاحب کیوں نہیں آتے۔