پنجاب میں ثقافت کا قحط اور خرم شہزاد کے گھر چھاپہ

پنجاب میں ثقافت کا قحط اور خرم شہزاد کے گھر چھاپہ

حسنین جمیل۔۔۔۔

پنجاب اسمبلی کا 25واں اجلاس شروع ہو چکا ہے۔ حسب روایت اراکین اسمبلی کی حاضری کا معاملہ جوں کا توں ہے۔ اراکین اجلاس میں کم کم آتے ہیں۔دوران اجلاس اکثر کورم کا مسئلہ درپیش رہتا ہے۔ آج کے اجلاس کا موضوع ثقافت تھا۔ ثقافت اور ثقافتی اداروں کے حوالے سے سوالات کا جواب دینے کے لیے پارلیمانی سیکرٹری برائے ثقافت رانا محمد ارشد ایوان میں موجود تھے۔ ہمارے حکمران طبقے کی ثقافت سے دلچسپی عیاں ہے۔ پچھلے 8سال سے مرکز اور صوبہ پنجاب وزیر ثقافت سے محروم ہے۔ 18ویں ترمیم کے بعد وزارت ثقافت کو صوبوں میں منتقل کر دیا گیا اور کہا گیا کہ وفاقی سطح پر وزارت ثقافت کے اختیارات خاصے محدود ہیں۔ صوبائی سطح پر وزارت ثقافت کو طاقت ور کر دیا گیا ہے مگر پچھلے 8سال سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں کوئی وزیر ثقافت نہیں۔ چودھری پرویز الٰہی جب وزیراعلیٰ پنجاب تھے ،اس وقت ایک وزیر ثقافت تھے۔ موصوف کو ثقافت کی الف ب کا بھی نہیں پتہ تھا۔ صرف جھنڈے والی گاڑی کے چکر میں وزیر بن گئے تھے۔ بہرحال اس عہد میں ایک اچھا کام پنجاب انسٹیٹیوٹ آف آرٹ اینڈ کلچر کے قیام کا ہوا تھا۔ مگر یقین کریں اس میں وزیر ثقافت کا کوئی کردار نہیں۔

موجودہ پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے دوران جو اہم مسئلہ زیر بحث آیا وہ گوجرانوالہ آرٹس کونسل کی تعمیر کے حوالے سے تھا۔ 2009ء میں شروع ہونے والا یہ منصوبہ اب تک مکمل نہیں ہو سکا۔ 2009ء میں گوجرانوالہ آرٹس کونسل کا تخمینہ لاگت 74ملین روپے تھا جو اب بڑھ کر 115.7ملین روپے کر دیا گیا ہے۔ گوجرانوالہ آرٹس کونسل کی تعمیر 2017تک مکمل ہو گئی اس میں 40کے قریب آسامیوں پر بھرتی کی جائے گی۔ پارلیمانی سیکرٹری رانا ارشد کے مطابق جب 2009ء میں منصوبہ شروع ہوا مقامی منتخب اراکین اسمبلی نے اس پر کچھ اعتراضات کیے ان سے مشاورت کے بعد اس منصوبے پر دوبارہ کام شروع ہوا۔ پھر ٹھیکیدار نے معیاری کام نہ کیا جس کے باعث منصوبہ پر کام رک گیا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تخمینہ لاگت میں بھی اضافہ ہوتا چلا گیا۔ اب اس پر کام جاری ہے ہم 2017ء تک اسے مکمل کر لیں گے۔ اب یہاں سوال یہ ہے کہ منصوبہ بنانے سے پہلے گوجرنوالہ کے اراکین اسمبلی سے کیوں نہیں مشاورت کی گئی۔ قوم کا پیسہ کیوں ضائع کیا گیا۔ آخر ہمارے ارباب اختیار کو بعد میں کیوں خیال آتا ہے۔ جماعت اسلامی کے ڈاکٹر وسیم اختر نے پنجاب حکومت کے ثقافتی پروگرام ’’سوہنا پنجاب‘‘ کو ہدف تنقید بنایا اور اسے ناچ گانے کا پروگرام قرار دیا۔ یوں لگتا ہے جماعت اسلامی کی سیاست ایک نکتے پر آ کر رک گئی ہے۔ جماعت اپنے قیام سے لے کر اب تک صرف ناچ گانے کے خلاف ہی بول رہی ہے۔ جماعت اسلامی کے انتہائی پڑھے لکھے لوگ بھی ثقافتی اقدار سے نابلد ہیں اور آج بھی فنون لطیفہ سے وابستہ اصناف کے خلاف ہیں مگر افسوس اس بات کا ہے کہ حکومت کی طرف سے بھی ثقافت پر ٹھوس بات کرنے کے لیے کوئی نہیں ہے۔ پچھلے 8سال سے کوئی وزیر ثقافت ہی نہیں ہے۔ رانا ارشد پارلیمانی سیکرٹری برائے ثقافت ہیں وہ ڈاکٹر وسیم اختر کی گرج دار تنقید کے بعد انتہائی دفاعی انداز سے اپنی ہی حکومت کے ثقافتی پروگرام ’’سوہنا پنجاب‘‘ کے دفاع میں کہتے ہیں وہاں ناچ گانا نہیں ہوتا ایک فہرست گنوائی جاتی ہے اس پروگرام کی یہ یہ سرگرمیاں ہوتی ہیں۔ میرے خیال میں ثقافت جیسے شعبے کے لیے انتہائی صاحب علم فرد کی ضرورت ہوتی ہے جوثقافت، ادب، موسیقی، ڈرامہ، رقص، شاعری، ناول، تاریخ اورفلم پر عبور رکھتا ہواور انتہائی موثر انداز سے بے مقصد تنقید کا جواب دے سکے۔ مسلم لیگ نواز اور جماعت اسلامی ماضی کے سیاسی حلیف رہے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ نواز کی حکومت نے PTVپر خاتون اداکاروں کو سروں پر ڈوپٹہ رکھنے کا حکم تو نہیں دیا مگر ثقافتی اقدار سے بے بہرہ ابھی بھی ہیں۔ اپنے ہی ثقافتی پروگرام کی وکالت کرنے سے قاصر ہیں۔ ان باتوں سے صاف لگتا ہے ہمارے حکمران اپنی ثقافت سے کس قدر مخلص ہیں۔

فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی خرم شہزاد صاحب بھی ایک بار پھر طاقت کی بے بسی کا رونا روتے نظر آئے ہیں۔ ایک تحریک استحقاق اسمبلی میں پیش کی۔ 31اکتوبر کو فیصل آباد پولیس کے اہلکاروں 10ڈالوں پر بیٹھ کر میرے گھر آئے۔ ایس ایچ او پیپلزکالونی نے ملازمین سے میرے بارے میں پوچھامیں گھر پر نہیں تھا۔ زبردستی میرے بیڈروم میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ ملازمین پر تشدد کیا ، میرے بھائی نے CPO اور ایس ایچ او سے چھاپہ مارنے کی وجوہات پوچھی تو انہوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ سپیکر پنجاب اسمبلی رانا اقبال نے اس واقعے کی دو ماہ میں رپورٹ داخل کرانے کا حکم دیا ہے۔ ایک رکن صوبائی اسمبلی کی بے بسی کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ وہ ایوان میں کھڑے ہو کر پوچھتا ہے کہ پولیس نے میرے گھر پر چھاپہ کیوں مارا۔ اسے جواب کے لیے دو ماہ انتظار کرنا ہوگا۔ رکن صوبائی اسمبلی کو شاید دو ماہ بعد جواب مل جائے کہ اس کے گھر پر چھاپہ کیوں مارا گیا مگر ایک عام آدمی کو کبھی بھی جواب نہیں ملے گا کہ اس کے گھر پولیس کیوں آتی ہے۔