یوم تشکر یا یوم تفکر

یوم تشکر یا یوم تفکر

احمدنور۔۔۔۔

جب وۂ مائیک پر آکر دشمن کو للکارتا ہے تو رن کانپ اُٹھتا ہے۔دشمن کے کانوں میں کئی دن تک سائیں سائیں کی آوازیں آتی رہتی ہیں۔ابھی سکھ کا سانس آتا ہی ہے کہ دوبارہ مائیک پر آکر160 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے مخالفین کی ایسی خبر لیتاہے کہ رہے نام خدا کا۔

اگر آپ نے مولا جٹ فلم نہیں دیکھی تو ضرور دیکھیں کیونکہ اس میں آپ کو مولا جٹ 2 کی واضح جھلک نظر آئے گی۔

2014 کے دھرنے میں جب وہ اپنے ٹرک کی چھت پر ٹہل رہا ہوتاتھا تو لگتا تھاجیسے پنجرے میں چیتا ٹہل رہا ہے۔

جب وۂ گرجتے ہوئے’ اوئے ‘کہتا ہے تو دور دور تک انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں کے بھی کان کھڑے ہو جاتے ہیں۔

اگر آپ نے مولا جٹ دیکھی ہے تو آپ نوری نت کو بھی جانتے ہوں گے جو مولا جٹ کی گرج برس کے جواب میں انتہائی دھیمے لہجے میں جواب دیتا تھا۔

یہی نوری نت کی جیت ہے اور یہی مولا جٹ کی ہار ہے۔میاں صاحب جو بھی ہیں لیکن انہوں نے کبھی غیر مہذب لہجہ استعمال نہیں کیا۔

آپس میں بات کرنا اور بات ہے اورپبلک سپیکنگ کے لئے آپ کا لہجہ اور الفاظ کا چناؤ بہت اہم ہوتا ہے۔اور اگر آپ خود کو قائد اعظم ثانی سمجھتے ہیں یعنی ایک عظیم لیڈر سمجھتے ہیں تو اپنے لہجے اور الفاظ پر توجہ دینے کی ہمت کر کے قوم کو شکریہ کا موقع دیں۔

استاد محترم پروفیسر ڈاکٹر مہدی حسن کے مطابق اگر ہمارا لہجہ کرخت ہوگا اور ہم گالی نہیں بھی دے رہے ہوں گے تو سننے والے کو لگے گا کہ ہم اسے گالی دے رہے ہیں۔اگر ہمارالہجہ مہذب ہو گا اور ہم گالی بھی دیں گے تو اگلا انسان اتنا زیادہ برامحسوس نہیں کرے گا۔

ٹربو گئیر لگایا ہوا ہے۔چور، ڈاکو، کرپٹ، لٹیرے،مولانا ڈیزل،اسحاق ڈالراور کیا کچھ نہیں کہا آپ نے۔

بھئی مانا کہ آپ کی جماعت ووٹوں کے اعتبارسے پاکستان کی دوسری بڑی سیاسی جماعت ہے، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ انتہائی بچگانہ سیاسی جماعت ہے ۔

آپ ایک عظیم لیڈراس لئے نہیں بن سکتے کیونکہ آپ کے اندر ایک فنی خرابی ہے جو بائی ڈیفالٹ ہے۔

اگر عدلیہ کا اتنا ہی احترام تھا تو دھرنے کا ہنگامہ کھڑا کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ سپریم کورٹ نے تو 20 اکتوبر کو ہی وزیراعظم سمیت شریف خاندان کو یکم نومبر کو حاضر ہونے کا حکم سنا دیا تھا۔اگر آپ کے اندر ٹھہراؤ ہوتا توآپ اس سارے کھیل تماشے سے پہلے یکم نومبر کا نتظار کرتے۔

اُدھر صوابی انٹر چینج پر ان کے سپہ سالار اپنے چند ہزار کارکنوں کے ساتھ آنسو گیس اور ربڑ کی گولیاں کھا رہے ہیں۔ادھرآپ بنی گالا میں مکان کے ٹیرس پرتین چار سو افراد کے مجمے کے سامنے کھڑے کہہ رہے ہیں’ایک سونامی یہاں سے نیچے اترے گی، ایک خیبر پختونخواہ سے آرہی ہے۔‘

جو سونامی بنی گالاسے اترنی تھی وہ بھی نہ اتری اور جو خیبر پختونخواہ سے وارد ہونا تھی وہ اٹک بھی پار نہ کر سکی۔

اپنے بے چارے بوڑھے وزیراعلی پرویز خٹک صاحب کی عمر کا بھی کوئی لحاظ نہیں کیا اور جھونک دیا ایک سائیں آدمی کو بھی جذباتی کرکے آنسوگیس کے بادلوں میں۔بعد میں شاباش دے کر گھر بھیج دیااور کہہ دیا کہ میں پشاور آؤں گا داد پرسی کرنے کے لئے تاکہ آپ کو دوبارہ استعمال کیا جا سکے۔

اگر آپ نے سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہوتا تو کسی کو یہ کہنے کا موقع ہی نہ ملتا کہ ’ایک اور نیازی نے ہتھیار ڈال دئیے‘، کسی نے کہا ’یوٹرن خان‘ اورکوئی کہہ رہا کہ آپ کو یوم تشکر منانے کے بجائے ’یوم شرمندگی‘ منانا چاہیئے۔

غرض یہ کہ آپ کے سیاسی حلیف بھی آپ کے اس انداز سیاست سے پناہ مانگ رہے ہیں۔ طاہر القادری ’انا للہ و انا الیہ راجعون ‘پڑھ رہے ہیں، لال حویلی والے شیخ رشید صاحب ایسے غائب ہوئے ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ اور ق لیگ والے اتنے مایوس ہوئے ہیں کہ وہ اس حوالے سے میڈیا کے ساتھ بات کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

تحریک انصاف کے کارکن علیحدہ مایوس ہوئے ہیں اور بے چارے اب اس فکر کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ لوگ ہی اس قابل نہیں ہیں کہ انہیں خان صاحب جیسا لیڈر نصیب ہو۔

یہ وقت یوم تشکر منانے کا نہیں بلکہ یوم تفکر منانے کا ہے تاکہ آپ اپنی غلطیوں سے سبق سیکھیں اور آئندہ اپنی اور اپنے کارکنوں کی رہی سہی عزت کو بچا سکیں۔آپ کے بقول عزت اور زلت اللہ کے ہاتھ میں ہے، لیکن اللہ نے بہت حد تک انسان کو با اختیار بنایا ہے کہ اپنی عقل کو حاضر ناظر جان کر فیصلے کرے۔