سنجیدہ اور پاپولر تھیٹر میں مکالمے کی ضرورت ہے: سرمد صہبائی (شاعر، ڈرامہ نگار)

سنجیدہ اور پاپولر تھیٹر میں مکالمے کی ضرورت ہے: سرمد صہبائی (شاعر، ڈرامہ نگار)

انٹر ویو: حسنین جمیل…

سوال:پاکستان میں سنجیدہ تھیٹر کی جو شکل ہے کیا آپ اس سے مطمئن ہیں؟

جواب: پاکستان طبقات میں بٹا ہوا ملک ہے۔ یہاں ایک پنجابی تھیٹر ھبی ہوتا ہے جو پاپولر تھیٹرہے۔ یہ ایک روایتی پنجابی ثقافت ہے جس میں جگت بھی چلتی ہے۔ پڑھا لکھا طبقہ اسے مکمل نظرانداز کرتا ہے۔ یہ ایک طرح سے توہین بھی ہے۔ جو سنجیدہ تھیٹر ہے وہاں جو شائقین آتے ہیں وہ سب دعوت پر آتے ہیں۔ ٹکٹ پر نہیں ان کو باقاعدہ مدعو کیا جاتا ہے جبکہ پاپولر تھیٹر میں لوگ ٹکٹ خرید کر آتے ہیں ۔میرے خیال ان دونوں مکتبہ فکر کا آپس میں مباحثہ ہونا بہت ضروری ہے۔ اگر پاکستان میں تھیٹر کو ترقی یافتہ بنانا ہے۔ دونوں کو ایک دوسرے سے مکالمہ کرکے سیکھنا پڑے گا بدقسمتی سے سماج تقسیم ہو چکا ہے۔ ہم ایک دوسرے کو تسلیم نہیں کرتے۔

 

سوال:کیا وجہ ہے یہ جگتوں والا تھیٹر صرف پاکستان میں ہوتاہے بھارت میں کیوں نہیں ہوتا،پنجابی ثقافت تو دونوں طرف ہے۔

جواب:نہیں ایسا نہیںہے صرف پاکستان میں ہوتا ہے بھارت میں نہیں ہوتا۔ بھارت میں جگتوں والا تھیٹر بالکل ہوتا ہے مگر پاپولر نہیںہو سکا۔ اس کی وجہ یہ ہے وہاں کالجوں میں یونیورسٹیوں میں تھیٹر کی تعلیم دی جاتی ہے۔ باقاعدہ پڑھایا جاتا ہے۔ تھیٹر صرف ڈرامہ نہیں ہوتا اس میں موسیقی بھی ہوتی ہے۔ دیگر شعبے میں لائٹ ہے سیٹ لگانا ہے۔ یہ ایک باقاعدہ علم ہے جو بھارت کی درس گاہوں میں پڑھایا جاتا ہے ۔پاکستان میں رقص، موسیقی کو اہمیت نہیں دی جاتی ہے، لہٰذا سنجیدہ تھیٹر اپنی موت آپ مرتا رہا ہے۔ درس گاہوں میں پڑھایا ہی نہیں جاتا پھر بھارت میں ایک قومی تھیٹر موجود ہے جبکہ یہاں قومی تھیٹر کا تصور ہی نہیں ہے۔ آرٹس کونسل تو بنائی ہے وہاں تو کمرشل کام ہو رہا ہے۔ ہال بُک کیے جاتے ہیں۔ آرٹس کونسل میں تھیٹر پڑھایا جاتا ہے، تخلیق کاروں کو پالش کیا جاتا ہے۔ پاکستان کی کسی آرٹس کونسل میں ایسا کچھ نہیں ہو رہا۔

آرٹس کونسل تو بنائی ہے لیکن وہاں تو کمرشل کام ہو رہا ہے۔ ہال بُک کیے جاتے ہیں۔ آرٹس کونسل میں تھیٹر پڑھایا جاتا ہے، تخلیق کاروں کو پالش کیا جاتا ہے۔ مگر پاکستان کی کسی آرٹس کونسل میں ایسا کچھ نہیں ہو رہا

 

سوال:سرمد صاحب اگر کامیڈی تھیٹر کی بات کی جائے تو اس کا بھی باقاعدہ ایک سکرپٹ ہوتا ہے جس سکرپٹ کے مطابق کامیڈی کی جاتی ہے۔ پاکستان کا پاپولر تھیٹر تو ایک صفحے کے سکرپٹ کے ساتھ ہو رہا ہے۔

جواب:بالکل ٹھیک کہا آپ نے ایسا ہی ہو رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ایک تو یہ ہے کہ پاپولر تھیٹر کرنے والے فن کار زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہوتے۔ دوسرے ایک روایت ہے کہ زبانی تھیٹر کیا جائے یعنی فن کار اسٹیج پر کھڑا ہوا کوئی بات کرتا ہے پھر اس کے مطابق جگت بازی شروع ہو جاتی ہے۔

سنجیدہ تھیٹر اورپاپولر تھیٹر میں مکالمے کی ضرورت ہے۔ تھیٹر کی باقاعدہ تعلیم حاصل کرکے آنے والے لوگوں کو ان بھانڈوں سے بات کرنی چاہیے ان کو سکھانا چاہیے

 

سوال:60اور 70کی دہائی تک پاکستان میں سنجیدہ تھیٹر چلتا تھا۔ کہا جاتاہے جنرل ضیا الحق کے عہد میں جان بوجھ کر جگت بازی والے تھیٹر کو پاپولر کیا گیا۔ تاکہ عوام سیاسی سرگرمیوں کی طرف نہ جائیں۔

جواب:میں اس بات سے بالکل اتفاق نہیں کرتا۔ فوجی حکومت کو اس بات کی بالکل پروا نہیں ہوتی ان کے نزدیک یہ بہت چھوٹے مسئلے ہیں مثلاً اس دور میں مولا جٹ بھی چل رہی تھی اس کو تو نہیں روکا گیا۔ ایسا نہیں ہے کمال احمد رضوی ، رفیع پیر وغیرہ کا جو تھیٹر تھا وہ انگریزی ڈراموں سے ماخوذ ہوتے تھے۔ اصل تخلیق نہیں تھے۔ بھانڈ اب صرف تھیٹر تک نہیں رہ گیا آپ تو ہر ٹی وی چینل پر آ گیا ہے۔ لہٰذا میں ان بھانڈوں کو نظرانداز کرنے کے حق میں نہیں ہوں۔ میں بار بار کہتا ہوں سنجیدہ تھیٹر او رپاپولر تھیٹر میں مکالمے کی ضرورت ہے۔ تھیٹر کی باقاعدہ تعلیم حاصل کرنے آنے والے لوگوں کو ان بھانڈوں سے بات کرنی چاہیے ان کو سکھانا چاہیے۔

 

سوال:آپ نے مکالمے کی بات کی ہے۔ کیا پاپولر تھیٹر کے بادشاہ عمر شریف کے ساتھ مکالمہ کرکے ایک سنجیدہ کوشش کی جا سکتی ہے۔

جواب:نہیں عمر شریف تو بہت پاپولر اور مضبوط پاپولر تھیٹر کا بندہ ہے۔ وہ تو بن چکا ہے۔ ایک شخصیت کا روپ دھار چکا ہے۔ میں صرف تکنیک کو سمجھنے کی بات کر رہا ہوں۔ علم اور شخصیت الگ الگ خانوں میں رکھی ہوئی چیزیں ہیں۔ صرف آپ عمر شریف کے عمل اداکاری کو فالو کریں یہ جگت کیا ہے۔ سٹائل لیا اس کو پرکھا جائے۔

 

سوال:آپ شاعر بھی ہیں آپ کی کتاب پل بھر کا بہشت شائع ہوئی۔ ڈرامہ بھی لکھتے ہیں، کبھی شاعری کا رنگ نثر پر یا پھر نثر کا رنگ شاعری پر آتا ہے۔

جواب: فنون لطیفہ کے تمام شعبے ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں۔ میرے خیال جو موسیقی ہے وہ سب کی ماں ہے۔ فنون لطیفہ میں موسیقی سب سے بالاتر ہے۔ نثر لکھیں، شاعری کریں ، رقص کریں، گانا گائیں ان میں آہنگ کا ہونا سب سے زیادہ صروری ہے۔ موسیقی میرا جنون ہے یہ ایک الگ بات ہے کہ میں نے ریاضت نہیں کی۔ موسیقی کے بعد مجھے شاعری سے لگاﺅ ہے۔ پھر ڈرامہ کا نمبر آتا ہے۔ اگر ایک شاعر کہتا ہے مجھے کیا ضرورت ہے فلم دیکھنے کی، موسیقی پر عبور حاصل کرنے کی تو غلط کرتا ہے۔ آپ امیر خسرو کو دیکھیں تو وہ شاعری کے ساتھ ساتھ موسیقی پر بھی عبور رکھتے تھے۔ مولانا رومی کو دیکھیں وہ رقص کرتے تھے، شاعری کرتے تھے، اس طرح شاہ حسین اور بلھے شاہ کو دیکھیں ۔یہ سب شاعری کے ساتھ ساتھ موسیقی اور رقص پر بھی عبور رکھتے تھے۔

مجھ سے کسی نے پوچھا حکومت ثقافتی اثاثے کیوں نہیں بچا رہی میں نے کہا ان کو اپنے اثاثے بچانے کی فکر ہے۔ حکومت کی ترجیح میں تعلیم اور ثقافت سب سے آخر میں ہیں۔ حکومت کو اس کی بالکل پروا نہیں ہے

 

سوال:سٹریٹ تھیٹر کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں۔

جواب:یہ بھارت سے شروع ہوا جب آزادی کی تحریک چل رہی تھی اس میں ترقی پسند لکھاریوں نے کافی کام کیا ہے۔ نوٹنکی کی بھی ایک شکل سامنے آتی ہے۔ شہر شہر گھوم کر ڈرامہ کرنے کا فن ہے۔ مذہبی طور پر بھی کافی بھارتی تھیٹر ہیں۔جسے رام لیلا اور دوسرے ہیں ۔ ہمارا تھیٹر کا اپنا ایک الگ انداز ہے۔ تھیٹر کا لفظ انگریزوں کا ہے۔ ہمارے ہاں اس کو ناٹک اور جلسہ کہا جاتا تھا۔ واجد علی شاہ کے بہت مشہور جلسے ہیں۔

 

سوال:کیا وجہ ہے ہماری ریاست نے فنون لطیفہ کی ویسی حوصلہ افزائی نہیں کی جیسی ہندوستان میں کی گئی ہے۔

جواب:مجھ سے کسی نے پوچھا حکومت ثقافتی اثاثے کیوں نہیں بچا رہی میں نے کہا ان کو اپنے اثاثے بچانے کی فکر ہے۔ حکومت کی ترجیح میں تعلیم اور ثقافت سب آخر میں ہیں۔ حکومت کو اس کی بالکل پروا نہیں ہے۔

 

سوال:آپ لوک ورثہ سے وابستہ رہے وہاں کیا دیکھا۔

جواب:میرا ان سے جو اختلاف رہا وہ یہ تھا کہ میں فوک موسیقی پر مکالمہ اور تحقیق چاہتا تھا۔ میں نے راجھستان کا فوک میوزک اکٹھا کیا۔ اس کو لوگوں کو سنایا۔ پھر میں اس پر ایک مباحثہ کرانا چاہتا تھا۔ لوک ورثہ کے ارباب اختیار ایسا نہیں چاہتے تھے۔ وہ کہتے تھے ہم صرف اس کو محفوظ کرنا چاہتے تھے۔ بھائی محفوظ چیزوں کو تو دیمک لگ جاتی ہے۔ میں نے وہاں سارے برصغیر کا فوک میوزک جمع کیا۔ مگر کیا ہوا وہاں محفوظ پڑاہے کوئی سن ہی نہیں سکتا۔