وزیراعلیٰ پنجاب کی خواتین کو خودمختار دیکھنا چاہتے ہیں،سلمان صوفی

وزیراعلیٰ پنجاب کی خواتین کو خودمختار دیکھنا چاہتے ہیں،سلمان صوفی

انٹرویو: سلمان صوفی، ڈائریکٹر سپیشل مانٹیرنگ یونٹ سی ایم پنجاب

حسنین جمیل

سوال:حال ہی میں حکومت پنجاب نے ویمن آن ویل جو منصوبہ لانچ کیا اس کے حوالے سے کچھ بتائیں؟

جواب: یہ منصوبہ پنجاب کی عورتوں کو خودمختار کرنے کے لیے ہے تاکہ وہ اپنے کاموں کے لیے کسی دوسرے کی محتاج نہ ہوں۔ آپ سوچیں کہ آپ کسی کام کے لیے تیار ہو کر بیٹھے ہیں کہ آپ کی بہن ،ماں، بیٹی، بیوی آئے اور آپ کو لے کر جائے تو آپ کو کیسا لگے گا۔ یہی سوچ ان خواتین کی بھی ہوتی ہے۔ عورتیں اپنے روزمرہ کے کاموں اپنے بچوں اور دفاتر جانے کے لیے خودمختار ہوں۔ آزادی اور خودمختاری ہر بندے کا حق ہے۔ کہیں آنے جانے کی آزادی کے لیے آپ سواری کے محتاج ہوتے ہیں یہ منصوبہ اسی لیے ہے۔

سوال:پاکستانی معاشرہ بہرحال ابھی تک رجعت پسندی کے اثرات سے باہر نہیں آیا تو آپ کو ایسا نہیں لگتا کہ اس منصوبے کو بہت زیادہ مخالفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے؟

جواب:اگر مخالفت کا سامنا کرنا پڑے تو یہ زیادہ اچھی بات ہے اس کا مطلب ہے آپ ٹھیک کام کر رہے ہیں۔ اگر آپ کے کسی کام پر عمل پر کہیں سے مخالفت نہیں ہو رہی تو اس کا مطلب ہے آپ روایتی کام کر رہے ہیں۔ اس کا کوئی نوٹس نہیں ہو رہا ۔میں ایسے کاموں کے خلاف ہوں اگر آپ کسی عہدے پر آتے ہیں تو آپ کو دوسروں سے ہٹ کر کام کرنا چاہیے۔ اگر آپ نے بھی روایتی کام کرنا ہے تو اس کا مطلب ہے آپ کو لانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اسی لیے میں نت نئے منصوبوں پر کام کر رہا ہوں۔

سوال:آپ کے ڈرافٹ کیے تحفظ حقوق نسواں بل پر بہت تنقید ہوئی۔ پنجاب اسمبلی میں اس پر مسلم لیگ ن کی خواتین نے بھی بہت اعتراض کیا ہم سے مشاورت نہیں کی گئی۔

جواب: میں ان خواتین اراکین اسمبلی سے ضرور ملنا چاہوں گا جو کہتی ہیں کہ ان سے مشاورت نہیں کی گئی۔ تقریباً ایک سال تک مشاورت کا عمل جاری رہا۔ ایوان وزیراعلیٰ اور پنجاب اسمبلی کے اندر 50کے قریب مشاورتی اجلاس ہوئے جو ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ وزیرقانون کی طرف سے باقاعدہ اعلان کیا گیا۔ اس قانون پر جس کو اعتراض ہے وہ بات کرنے ایک کمیٹی بنائی گئی جو اپنی تجاویز پیش کرتی تھی۔ لہٰذا یہ کہنا کہ ہم سے مشاورت نہیں کی گئی غلط بیانی ہے۔ پھر جب قانون پاس کرنے کی ووٹنگ ہو رہی تھی تو کسی کے دباﺅ کے تحت تو ارکان اسمبلی اس بل کے حق میں ووٹ نہیں ڈال رہے تھے۔ لہٰذا یہ بے بنیاد بات ہے اس بل بل کو پچھلے سال مارچ میں پیش کیا گیا تو اس پر بہت اعتراضات ہوتے ہمیں یہ قانون واپس لینا پڑا۔ ایک سال بعد ہم نے تمام اعتراضات ختم کرنے کے بعد یہ قانون دوبارہ اسمبلی میں لے کر آئے۔

سوال:عام تاثر ہے کہ پیپلزپارٹی جیسی لبرل جماعت تحفظ حقوق نسواں بل جیسے قوانین ماضی میں بناتی رہی ہے۔ مسلم لیگ نواز پہلی بار ایسا قانون لے کر آئی ہے۔

جواب:میرے خیال میں ایسا نہیں ہے یہ ایک سٹریوٹائپ بات ہے لبرل قانو نسازی صرف پیپلزپارٹی ہی کر سکتی ہے۔ مسلم یگ نواز ماضی میں بھی ایسے کام کرتی رہی ہے۔ اس قانون کو میں لبرل نہیں کہوں گا۔ یہ عورتوں کے بنیادی حقوق کا قانون ہے۔ اس کو لبرل نہیں کہنا چاہیے اور قدامت پسند بھی نہیں کہنا چاہیے۔ اس طرح کی تقسیم سے عوام کو بہت نقصان ہوتا ہے۔ عوام کے اندر خلیج ڈال دی جاتی ہے۔ آپ قدامت پسند ہیں آپ روشن خیال ہیں۔ میں اس طرح کی تقسیم کے خلاف ہوں۔ اس قانون ایسی بحث سے الگ رکھنا چاہیے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے ویژن کے تحت یہ قانون بنایا گیا ہے۔ صرف اور صرف ایک ہی مقصد ہے پنجاب کی عورت کو خودمختار کیا جائے۔

سوال:قوانین ماضی میں بھی بنے اب بھی بن رہے ہیں۔ مگر ان پر عمل درآمد نہیں ہوتاخاص طور پر قتل بنام غیرت میں پولیس کا رویہ مردوں کے لیے نرم ہوتا ہے۔

جواب:قانون تو بن جاتا ہے اصل مسئلہ عمل درامد کا ہوتا ہے۔ تحفظ حقوق نسواں بل میں عمل درآمد کا ایک نیا طریقہ قانون کا حصہ بنایا گیا ہے۔ ماضی میں قانون بن جاتا تھا عمل درآمد کرانے کے لیے اداروں پر بھروسہ کیا جاتا تھا۔ اس قانون کا ایک حصہ ہے ادارہ برائے انسداد تشدد خواتین باقاعدہ ایک مرکز بنایاجائے گا۔ جس میں ایک چھت کے نیچے تمام شعبے ہوں گے۔ پہلا مرکز ملتان میں باقاعدہ کام کرنا شروع کر دے گا ۔ پولیس، ڈاکٹر سب ایک چھت کے نیچے کام کریں گے۔ اتنی بڑی کوشش خواتین ےک لیے اب تک یورپ میں بھی نہیں ہوئی۔ پنجاب کے تمام 36اضلاع میں ایسے مرکز بنائیں گے۔ ایک نئی اتھارٹی بنائی جا رہی ہے جو اس قانون پر عمل کرائے گی۔

سوال:وزیرقانون رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے مردوں کو کڑا پہنانے والی شق اس قانون سے نکال دی جائے گی۔

جواب:میرا نہیں خیال انہوں نے ایسی کوئی بات کی ہے۔ انہوں نے صرف یہ کہا تھا اگر ہمیں کوئی قائل کر سکتا ہے ضرور کرے اس قانون میں کوئی غیر شرعی بات ہے۔ ہمیں قائل کریں ہم آپ کی بات مان لیں گے۔ 10ماہ ہو چکے ہیں۔ابھی تک ایسای کوئی بات سامنے نہیں آئی۔ کوئی بھی شق غیر اسلامی ہے۔ ایک آسان سی بات ہے آپ کے ادارے کے توسط سے جو بھی پڑھ رہا ہے اگر آپ کی بہن یا بیٹی پر کوئی تشدد کرے تو آپ کا کیا ردعمل ہوگا۔ اگر حکومت اس شخص کو گرفتار کرکے کڑے کے تحت مانٹیر کرتی ہے۔ کون سا باپ اور بھائی اس پر اعتراض کرے گا۔ حکومت پر الزما لگتا ہے جرم ہونے کے بعد حرکت میں آتی ہے یہ کڑا جرم کو ہونے سے روکے گا۔ کڑے کے ذریعے مانٹیر ہو جائے گا۔

سوال:ابھی تک کسی کو یہ کڑا پہنایا گیا ہے؟

جواب:جب پہلا مرکز شروع ہو جائے گا مقدمات آنے شروع ہوں گے۔ اس کے تحت کڑا پہنانے کا عمل بھی شروع ہو گا۔

سوال:مذہبی طبقے سے مشاورت ابھی بھی جاری ہے؟

جواب:ہماری مشاورت مذہبی طبقے سے مکمل ہو چکی ہے یہ غلط بات ہے مذہبی افراد عورت پر تشدد کے حامی ہیں۔ جب بھی ہماری ان سے بات ہوئی انہوں نے کبھی عورتوں پر تشدد کی حمایت نہیں کی۔ ان کو صرف قوانین کی تشریح پر اعتراض تھا۔مذہبی افراد کی اکثریت ہمارے ساتھ ہے۔

سوال:مزید کیا منصوبے ہیں؟

جواب:ہم ٹریفک کے مسائل پر کام کر رہے ہیں، ایکسائز اینڈ ٹیکشن پر کام کر رہے ہیں۔ آپ کار یا موٹرسائیکل خریدیں تو آپ کو نمبرپلیٹ ادھر ہی ڈیلر سے مل جائے گی۔ ایجنٹ کی ضرورت نہیں۔ موبائل کتب خانے شروع کر رہے ہیں۔ شہر کے پارکوں میں، شہرخموشاں ایک بڑا منصوبہ ہے، کسی کا عزیز فوت ہو جائے ایک فون کال پر حکومت مفت تدفین کرے گی۔ پانچ اضلاع میں کام شروع ہو رہا ہے۔

سوال:کچھ لوگ سمجھتے ہیں یہ سارے منصوبے غیرملکی فنڈ سے چل رہے ہیں؟

جواب:ہمارے جتنے بھی منصوبے ہیں، سارے پیسے ہمارے اپنے ہیں۔ حکومت پنجاب کا پیسہ ہے۔