پاکستانی تھیٹر، ڈرامہ اور ٹی وی کی کہانی عارف وقار کی زبانی

پاکستانی تھیٹر، ڈرامہ اور ٹی وی کی کہانی عارف وقار کی زبانی

حسنین جمیل۔۔۔۔

عارف وقار کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ بطور صحافی اور ڈرامہ نگار ایک زمانہ ان کی صلاحیتوں کا گواہ ہے۔ انجمن ترقی پسند مصنفین لاہور کی دعوت پر انہوں نے دو اجلاسوں میں پاکستان میں فلم، ڈرامہ اور تھیٹر کے حوالے سے بات کی۔ فلم کے حوالے سے تو ایک ماہ قبل لکھا گیا اب ڈرامے اور تھیٹر کے حوالے سے ایک تحریر پیش خدمت ہے۔

عارف وقار نے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد لاہور میں تھیٹر جاری تھا۔ گورنمنٹ کالج ایک قدیم اور بڑی درس گاہ ہے۔ کالج کے ہال میں تھیٹر ہوا کرتا تھا۔ قیام پاکستان سے قبل یہاں سے اداکار دیوآنند اور بلراج ساہنی تھیٹر کیا کرتے تھے جو بعد میں ممبئی فلم انڈسٹری کے سپراسٹار بنے۔ اس طرح الحمرا آرٹس کونسل کا قیام عمل میں لایا گیا۔ مجھے یاد ہے 1962میں یہاں ایک تھیٹر پیش کیا گیا۔ جس میں سلطان راہی نے پہلی بار پرفارم کیا۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ تھیٹر سے شروع ہونے والے ہر اداکار نے اپنی شناخت بنائی ناقدین سے بطور اداکاراپنے آپ کو منوایا۔ مگر سلطان راہی صرف اور صرف بدمعاشوں کا ہیرو بن کر رہ گیا۔

اس دور میں تھیٹر بغیر سکرپٹ کے لکھنے کا رواج نہیں تھا۔قوی خان ، نعیم طاہر، یاسمین طاہر تھیٹر کے نمایاں نام تھے۔ رفیع پیرزادہ، کمال احمد رضوی، اظہر شاہ خان، بانو قدسیہ جیسے لوگ تھیٹر لکھا کرتے تھے۔ یہ بامقصد اور سنجیدہ تھیٹر ڈرامے ہوا کرتے تھے مگر بدقسمتی سے 1980 کے آخر اور 1990 کے شروع میں پاپولرتھیٹر کے نام پر جگت بازی کا نیا دور شروع ہوا۔ مجھے ان ڈراموں کے سکرپٹ دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے۔ صرف دو صفحے کا سکرپٹ ہوتا تھا، جس میں صرف ایک منظر کا ذکر ہوتا آگے تھیٹر کرنیوالا بھانڈ خود ہی اپنی جگتوں سے ڈرامہ چلاتا تھا۔ اسی روش نے سنجیدہ اور بامقصد لکھنے و الوں کو مایوس کیا۔ یوں کمال احمد رضوی اطہر شاہ خان کراچی چلے گئے۔ لاہور کا تھیٹر تباہ ہوتا چلا گیا اور ایک وقت آیا صرف جگتوں کا سرکس اور مجرے کی صورت میں نائٹ کلب بن کر رہ گیا۔ ارباب اختیار نے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی۔ غیر سنجیدہ عناصر کی حوصلہ افزائی ہوتی چلی گئی۔

ٹی وی ڈرامے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عارف وقار نے کہا کہ1964 میں ٹی وی شروع ہوا، اس وقت ڈرامے براہ راست دکھائے جاتے تھے۔ میں نے ایک پلے میں چھوٹا سا رول کیا۔ ڈرامہ کے ہیرو کو مکالمے یاد کراتا تھا۔ جس دن ڈرامہ براہ راست جانا تھا ہیرو نہیں آیا۔ مجھے ہیرو کا رول دے دیا گیا میں نے خوب پرفارم کیا مگر آخری سین جب ہیرو کو پھانسی دے دی گئی میں کیمرہ سے آؤٹ ہو کر بیٹھ گیا۔ ابھی پھانسی گھاٹ کا سین چل رہا تھا میں غلطی سے کیمرے کے سامنے سے گزر گیا یوں مردہ زندہ حالت میں ٹی وی پر چل گیا۔

اس وقت ٹی وی سیٹ 700روپے کا آتا تھا۔ جبکہ ٹی وی کے پروڈیوسر کی تنخواہ 700روپے تھی۔ خیر اس دن کے بعد بطور اداکار کبھی مجھے ڈرامہ کرنے کی جرأت نہیں ہوئی۔

آہستہ ٹی وی ڈرامے کے معیار میں بہتری آتی گئی۔ کراچی اور لاہور کے درمیان ایک زبردست مقابلے بازی کی فضا پیدا ہوئی۔ پہلے ڈرامہ سیریز چلتا تھا۔ بعد میں ڈرامہ سریل بننے شروع ہو گئے۔ کراچی سے محسن علی، شہزاد خلیل، کنورآفتاب ،اقبال انصاری ،ساحرہ کاظمی نے بطور ڈائریکٹرفاطمہ ثریا بجیا، حسینہ معین، کمال احمد رضوی، نورالہدی شاہ، عبدالقادر جونیجو نے بطور ڈرامہ نگار راحت کاظمی، طلعت حسین، شکیل، بشری انصاری نے بطور اداکار اپنا نام بنایا۔ کراچی سے ہمیشہ دور ڈرامہ سریل چلا کرتے تھے ایک اردو بولنے والوں کا دوسرا سندھی ثقافت کے حوالے سے۔

اس طرح لاہور میں یاور حیات، راشد ڈار، نثار حسین جیسے ڈائریکٹر سامنے آئے۔ ڈرامہ نگاروں میں اشفاق احمد، بانو قدسیہ، منوبھائی، اصغر ندیم سید نے بہترین ڈرامے لکھے۔ اداکاروں میں توقیر ناصر ، قوی خان، عرفان کھوسٹ، صبا حمید نے اپنا نام بنایا۔

پہلے راولپنڈی بعد میں اسلام آباد سنٹر بنایا گیا۔ وہاں سے ڈاکٹر طارق عزیز کا ڈرامہ چلا پھر شاکر عزیز کا گیسٹ ہاؤس بہت کامیاب ہوا۔ جس میں افضل خان (جان ریمبو)کے طور پر مشہور ہوئے۔ کوئٹہ سے اوریا مقبول جان ، عاشر عظیم کے ڈرامہ سریل بہت مشہور ہوئے۔ ڈائریکٹر سجاد احمد کے ڈرامے کامیاب ہوئے۔ عظیم سجاد، جاوید جمال اور جمال شاہ بطور اداکار پاپولر ہوئے۔

پشاور سے ڈاکٹر ڈینس آئزک بطور ڈرامہ نگارکامیاب ہوئے۔ اداکاروں میں حبیب اللہ ،ایم عظمت ناز نے مقبولیت حاصل کی۔

یہاں میں ایک بات کا اضافہ کرتا چلوں کہ پہلے ٹی وی ڈرامے میں فلسفہ بھی ہوتا تھا۔ مثلاًٹی وی کی تاریخ ایک بہت بڑا لانگ پلے وجود تھا۔ جسے مرزا اطہر بیگ نے لکھا۔ اس میں تین بوڑھے پروفیسر فلسفے کے اوپر مکالمے بولتے ہیں۔ آج کل ایسا بامعنی بامقصد ڈرامہ نہیں بنایا جا سکتا۔

پہلے ٹی وی ڈرامہ خاندانوں کے مل بیٹھنے کا ذریعہ ہوتا تھا۔ جب ایک کمرے میں بنوکاقسط وار ڈرامہ سریل دیکھا کرتے تھے اور اس پر بات کرتے تھے۔ اب ایسا نہیں۔ ریاستی ٹی وی ناکام ہوا ہے اگر نجی ٹی وی چینل کمرشل بنیادوں پر کام کر رہے ہیں تو سرکاری ٹی وی کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ وہاں فلسفے پر ڈرامہ بننے چاہیے۔ اقلیتوں پر ڈرامہ سریل ہونے چاہئیں مگر بدقسمتی سے ہمارے ارباب اختیار نے ٹی وی اور تھیٹر دونوں کو برباد کیا ہے۔ سرکاری ٹی وی اور سرکاری ڈرامہ ہالوں میں بامقصد سنجیدہ ڈرامے نہیں کروائے گئے۔