پی آئی اے،یہ صدقے تمہارے

پی آئی اے،یہ صدقے تمہارے

احمدنُور۔۔۔۔

صدقہ دینے کا مقصد کسی کام میں رب کی خوشنودی حاصل کرنا ہوتا ہے۔ پی آئی اے کے عملے نے پے در پے حادثات سے گھبرا کر ہوا بازی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اپنے طیاروں کے صدقے کے لیے بکرے کی قربانی دی ہے۔

قربانی ایک اے ٹی آر طیارے کے پروں کے عین نیچے دی گئی جہاں جہاز کا انجن ہوتا ہے کیونکہ جہاز کا حادثہ ہمیشہ انجن کی خرابی کی وجہ سے پیش آتا ہے۔بکرے کا انتخاب کرتے ہوئے بھی کوئی بھول نہیں کی گئی ہے۔کسی بڑی بلا کو ٹالنے کے لئے ہمیشہ کالے بکرے یا مرغے کاصدقہ دیا جاتا ہے۔ کالا رنگ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ پی آئی اے بہت بڑی مصیبت کی زد میں ہے اور اب صدقہ ہی اس بلا کو ٹال سکتا ہے۔

طیارے کے بالکل پاس دی گئی یہ قربانی رائیگاں نہیں گئی۔طیارہ بینظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے ملتان کی جانب روانہ ہوگیااورخیرو عافیت سے اپنی منزل پر پہنچ گیا او ر پھر واپس بھی لوٹ آیا۔

صدقہ دینا کوئی بری بات نہیں ہے ، لیکن پی آئی اے کا اپنی صلاحیتوں کے بجائے صدقے کا آسرا لیناایک معنی رکھتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس ادارے کی حالت کس حد تک دگر گوں ہو چکی ہے۔

اخبار میں اگلی خبر یہ ہے کہ وزیراعظم نواز شریف 3 روزہ دورے پر پی آئی ا ے کے طیارے بوئنگ 777 میں بوسنیا روانہ ہوں گے جس کے باعث مالیاتی خسارے کی شکار قومی ایئرلائن کے معاشی بوجھ میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیراعظم نوازشریف پی آئی اے کے طیارے کو اس وقت مصروف رکھنے والے ہیں جب38 میں سے 15 طیارے 07دسمبر کے حادثے کے بعدتکنیکی وجوہات کی بنا پر انتظامیہ کی جانب سے گراؤنڈ کیے ہوئے ہیں۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کے وزیراعظم کے دل میں اس قومی اثاثے کے حوالے سے کتنا درد ہے کہ ایک شیڈول طیارے کو اچانک اپنے استعمال کے لئے مختص کر لیا گیا ہے اور مسافر خوار ہوتے رہیں گے۔

تیسر ی خبر یہ ہے کہ حکومت کو پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے نئے چیئرمین کی تلاش میں مشکلات کا سامنا ہے۔حکومت کی جانب سے اب تک اس حوالے سے جس سے بھی رابطہ کیا گیا، کوئی بھی ایئرلائن کے موجودہ حالات میں اس پوزیشن کو سنبھالنے کے لیے راضی نہیں۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاملہ اتنا گھمبیر ہے کوئی بھی عقل مند انسان اس گندگی میں ہاتھ ڈالنے پر تیارنہیں ہے۔

واضح رہے کہ پی آئی اے کے چیئرمین اعظم سہگل نے حویلیاں کے قریب ہولناک طیارہ حادثے کے چار روز بعد 12 دسمبر کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔یاد رہے کہ گزشتہ سات ماہ میں یہ دوسرے چیئرمین ہیں جنہوں نے استعفیٰ دیا ہے۔

اس ادارے کی تباہی کا باقاعدہ آغاز مشرف دور میں ہوا اور اس کے بعد پیپلز پارٹی اور نواز حکومت نے اس کا بیڑہ غرق کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

یہ صرف پی آئی اے کا معاملہ نہیں ہے بلکہ وطن عزیز کا ہر ادارہ اپنی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ایک ادارے کی خرابی کا وائرس دوسرے میں پھیل رہا ہے اور نتیجتاًیہ مرض پورے پاکستان کو چاٹ رہا ہے۔پولیس سے لے کر عدالت تک اور وزیراعظم ہاؤس سے لے گلی محلے تک کرپشن کا بازار گرم ہے جو ٹھنڈا ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔ان حالات میں اب سوال یہ ہے کہ پاکستان کو چلانے کے لئے اور کتنے بکروں کا صدقہ درکار ہوں گے، تاکہ ہزاروں لاکھوں کالے بکرے ڈھونڈنے کا کام شروع کیا جا سکے۔