اور اب پیش ہے سٹینٹ مافیا

اور اب پیش ہے سٹینٹ مافیا

احمد نور…

پاکستان میں دل کے مریضوں کی تعداد میںتیزی سے اضافہ ہو رہاہے اور اسی رفتار سے جعل سازوں کا نیٹ ورک بھی بڑھ رہاہے۔سپریم کورٹ نے لاہور سمیت پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں ضرورت نہ ہونے کے باوجود غریب مریضوں کے دل کی انجیوپلاسٹی کرنے اور پھر غیرمعیاری اور مہنگے سٹینٹ ڈالنے کے معاملے کانوٹس لیا ہے۔

سپریم کورٹ نے ایف آئی اے یعنی فیڈرل انویسٹیگیشن اتھارٹی کو حکم دیا ہے کہ اس واردات کی تحقیقات کر کے ایک ہفتے کے اندر رپورٹ پیش کرے جبکہ ایف آئی اے کی ابتدائی تفتیش میں حیران کن انکشافات سامنے آئے ہیں۔

واضح رہے کہ چند برس پہلے لاہور کے دل کے ہسپتال پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں غیرمعیاری ادویات کے استعمال سے 100 سے زائد دل کے مریض اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

میوہسپتال میں دل کے مریضوں کو جعلی سٹنٹ فروخت کرنے والا گروہ اس وقت منظر عام پر آیا جب ایک شہری نے ایف آئی اے کواس معاملے کے حوالے سے درخواست دی ۔ ایف آئی اے نے اپنے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کو مریض بنا کر ہسپتال بھیجا تو جعلی سٹنٹ کے معاملے کے واضح ثبوت مل گئے جس کے بعد ایف آئی اے نے کارروائی کرتے ہوئے چار کروڑ روپے سے زائد مالیت کے جعلی سٹنٹ برآمد کر لئے۔ملزمان کو جو مہنگے سٹنٹ فروخت کر رہے تھے وہ ڈالے ہی نہیں جاتے تھے، اس مکروہ کاروبار میں بعض ڈاکٹر بھی ملے ہوئے تھے۔

میوہسپتال میں سامنے آنے والے دل کی انجیو پلاسٹی میں استعمال ہونے والے ان رجسٹرڈ سٹنٹس کی تحقیقات کا دائرہ ایف آئی اے نے وسیع کردیا ہے اور انکوائری میں پرائیویٹ اور سرکاری ہسپتالوں کو سٹنٹ فراہم کرنے والی تمام کمپنیوں اور ہسپتالوں تک وسیع کردیا ہے جو کہ ایک اچھی پیش رفت ہے کیونکہ عین ممکن ہے کہ پرائیویٹ ہسپتال بھی لوگوں کی کم علمی کا فائدہ اٹھا رہے ہوں۔

ابتدائی تحقیقات میں سٹنٹس کی خریدوفروخت کے حوالے سے اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ایف آئی اے نے 4کمپنیوں کے خلاف کارروائی شروع کی ہے جس میں پتہ چلاہے کہ یہ کمپنیاں بیرون ممالک سے فی کلو کے حساب سے تول کر سٹنٹ منگواتی رہیں جس کے مطابق ایک سٹنٹ کی قیمت 5ہزار 700روپے ہے جبکہ یہ سٹنٹ ڈاکٹروں کی ملی بھگت سے مریض کو ایک لاکھ 80ہزار سے لے کر 2 لاکھ 80ہزار روپے تک فروخت کرتی رہیں۔

ایک کمپنی نے باہر سے 2لاکھ 50ہزار روپے کے سٹنٹ منگوائے جبکہ مریضوں کو 6 کروڑ روپے میں فروخت کئے جس میں امراض قلب کے ڈاکٹروں نے بھی اپنا حصہ وصول کیا۔ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ 8بڑے امراض قلب کے ڈاکٹرز جن میں اکثریت پروفیسرز کی ہے، اس دھندے میں ملوث ہیں، جو کمپنیوں سے مل کر مریضوں کو لوٹ رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ صحت کے مطابق نا مناسب اور غیرمعیاری خوراک کے استعمال سے پاکستان میں ہر سال سب سے زیادہ اموات دل کا دورہ پڑنے سے ہوتی ہیں۔ اس کا سادہ سامطلب یہ ہے کہ لوگوں کی اکثریت جس کا تعلق متوسط طبقے سے ہے، غیر معیاری اور جعلی اشیائے خوردونوش پر زندگی گزارنے پر مجبور ہے جس کا انجام ہارٹ اٹیک کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔

غیرمعیاری اور جعلی خوراک کی وجہ سے ہسپتال پہنچنے والے یہ بد قسمت لوگ مشکل سے رقم کا انتظام کرنے کے بعد علاج کرواتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دل میں لاکھوں روپے کا جو سٹنٹ ڈالا جا رہا ہے وہ بھی جعلی ہے۔

وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے بھی حسب معمول ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جس کا نتیجہ کیا آئے گا یہ سب جانتے ہیں۔جب 100 سے زائد دل کے مریضوں کی اموات ہوئی تھیں تواُس وقت بھی میڈیا پر بہت طوفان برپاہوا تھا۔وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے نوٹس لیا تھا بیرون ملک لیبارٹریوں سے سے ادویات کی جانچ بھی کروائی گئی تھی اور پتہ چلا تھا کہ یہ ادویات جعلی ہیں، لیکن کسی کو کوئی قرار واقعی سزا نہیں دی گئی تھی اگر ہوئی ہو توراقم کو ضرور مطلع کیجئے گا۔