ایشیا میں الیکٹرانک کچرے کا ڈھیر

ایشیا میں الیکٹرانک کچرے کا ڈھیر

سائنس ڈیسک…

ایشیائی ممالک میں الیکٹرانک مصنوعات کے بڑھتے ہوئے استعمال اور ری سائیکلنگ کے غیر سائنسی طریقوں کی وجہ سے حالیہ برسوں کے دوران پورے اس خطے میں الیکٹرانک کچرے کی مقدار میں حیران کن تیزی کے ساتھ اضافہ ہوا ہے۔

اقوام متحدہ کی یونیورسٹی کی طرف سے جاری کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ایشیا میں پیدا ہونے والے الیکڑانک کچرے میں 63 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایشیا میں سب سے زیادہ الیکڑانک کچرا چین میں پیدا ہو رہا ہے جبکہ ہانگ کانگ کو اس لحاظ سے بدترین درجہ دیا گیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 2015 میں ہانگ کانگ کا ہر ایک فرد تقریبا 22 کلوگرام الیکڑانک کچرے کا باعث بنا ہے۔ اس طرح سنگاپور اور تائیوان بھی آگے آگے ہیں۔ فی کلو کی اوسط شرح کے لحاظ سے کمبوڈیا، ویت نام اور فلپائن ایسے ممالک ہیں، جہاں سب سے کم الیکڑانک کچرا پیدا ہو رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی یونیورسٹی کی طرف سے خبردارکیا گیا ہے کہ اس خطے کے ممالک کو ری سائیکلنگ اور ڈسپوزل طریقوں کو فوری بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ رپورٹ کے شریک مصنف اور اقوام متحدہ یونیورسٹی کے پائیدار سائیکلز پروگرام کے سربراہ روڈیگر کوئر کا کہنا ہے کہ بہت سے ممالک میں پہلے ہی سے ای ویسٹ مینجمنٹ کے لئے بنیادی ڈھانچے کی کمی ہے اور الیکڑانک کچرے کی بڑھتی ہوئی مقدار باعث تشویش ہے۔

گزشتہ کئی برسوں سے خطے کے کم آمدنی  والے مملک ترقی پذیر ممالک سے آنے والے الیکڑانک کچرے کے لیے ڈمپنگ یارڈ کا کام دیتے رہے ہیں اور ان کی ری سائیکلنگ اکثر ایسی فیکڑیوں میں کی جاتی رہی ہے جہاں مناسب حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں جبکہ اکثر اوقات الیکڑانک کچرے کو کھلی فضا میں ہی آگ لگا دی جاتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اب مسئلہ یہ ہے کہ خود ان ممالک کے باسیوں نے الیکڑانک اشیا کا استعمال تیزی سے شروع کر دیا ہے۔ ان ممالک میں فونز، ٹیبلیٹس، ریفریجریٹرز، پرسنل کمپیوٹر اور ٹیلی ویژن خریدنے کے رجحان میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بہت سے ممالک میں ایسا کوڑا کباڑ غیرمناسب اور غیرقانونی طریقے سے زیر زمین میں دبایا جا رہا ہے جس کے نہ صرف ماحول بلکہ انسانی صحت پر بھی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

جہاں جہاں الیکڑانک کوڑے کو زیر زمین دبایا جا رہا ہے، ان کے علاقوں کے بچوں کے خون میں لیڈ جیسے عناصر کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے اور وہ بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔