"ایک سوال کا جواب ایک سال بعد”

"ایک سوال کا جواب ایک سال بعد”

حسنین جمیل…

پنجاب اسمبلی کا 26واں اجلاس شروع ہو چکا ہے جو دو ہفتے جاری رہے گا ۔ اجلاس میں مختلف امور پر قانون سازی کی جائے گی۔ بدقسمتی سے اراکین اسمبلی کی ایوان میں حاضری کا تناسب کم سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ اراکین اجلاس میں شریک بالکل نہیں ہوتے۔ گنتی کے چند اراکین ایسے ہیں جوآتے ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کا اپنا رویہ بھی شاہانہ ہے وہ بھی سوائے بجٹ اجلاس کے یا پھر سینیٹ کے اراکین کے چناﺅ کے موقع پرہی آتے ہیں۔اس کے علاوہ اگر وہ ایوان کا رخ کریں تو زیادہ وقت اپنے چیمبر میں بیٹھے رہتے ہیں۔ جس کی وجہ سے حکومتی اراکین بھی ایوان میں حاضری لگا کر نکل جاتے ہیں۔

جمعرات کے روز وقفہ سوالات کا سیشن تھا جس میں نابینا افراد کے کوٹے کے حوالے سے بات کی گئی۔ پنجاب میں نابینا افراد کا مسئلہ بہت شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ مسلم لیگ نواز کی حکومت کو پنجاب میں دوبارہ اقتدار میں آئے آٹھ برس ہو چکے ہیں۔ دو طرح کے احتجاج مسلسل جاری ہیں۔ ایک ینگ ڈاکٹرز کا دوسرا نابینا افراد کا۔ آئے دن پنجاب اسمبلی کے باہر ان کا احتجاج ہوتا ہے۔ نابینا افراد نے اپنے احتجاج کے دوران فیروزپور روڈ پر میٹروبس بھی بند کر دی تھی، ایک بار تو ایوان وزیراعلیٰ کے باہر دھرنا بھی دیا مگر ابھی تک ان کا مسئلہ حل نہیں ہوا۔ حکومت نے نابینا افراد کی گرفتاریاں بھی کیں تاہم احتجاج کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔

واقفہ سوالات کے دوران رکن صوبائی اسمبلی داکٹر عالیہ آفتاب کا سوال تھا کہ حکومت نے نابینا افراد کے لیے صوبے میں کتنے تعلیمی ادارے قائم کیے ہیں۔ اور ان کی ملازمت کا کوٹہ کتنے فیصد ہے۔ ڈاکٹر عالیہ آفتاب نے یہ سوال 12فروری 2016ءکو پوچھا تھا ۔ اس سوال کاجواب انہیں ایک سال بعد جمعرات 26جنوری 2017کو سننا نصیب ہوا۔

اگر منتخب نمائندے جن کا تعلق حکومتی سیاسی جماعت سے ہے ان کو اپنے سوالات کے جوابات سننے میں ایک ایک سال تک انتظار کرنا پڑے تو سوچئے عام آدمی کی شنوائی کا کیا حال ہو گا۔

صوبائی وزیر چودھری شفیق نے ڈاکٹر عالیہ آفتاب کو بتایاکہ حکومت نے صوبے بھر میں نابینا طلبا و طالبات کے 15ادارے قائم کیے ہیں۔ نابینا افرادکے لیے تحصیل کی سطح پر 135سپیشل ایجوکیشن سنٹر قائم ہیں جن میں خصوصی بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں،جبکہ حکومت نے تین فیصد کوٹہ خصوصی افراد کی ملازمت کے لیے رکھا ہوا ہے۔

ڈاکٹر عالیہ آفتاب نے پھر سوال کیا کہ خصوصی افراد کے کوٹے میں چار شعبے ہیں جبکہ نابینا افراد کی تعداد60لاکھ ہے اس لیے کوٹے کو بڑھایا جائے۔جس پر صوبائی وزیر چودھری شفیق نے جواب دیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب پہلے بھی کوٹہ 2فیصد سے بڑھا کر 3فیصد کر چکے ہیں، اس سے آگے ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نابینا افراد کے تعلیمی نصاب اور کتابوں کی اشاعت کے لیے لاہور میں گورنمنٹ کمپیوٹرائزڈ بریل پرنٹنگ پریس قائم کیا جا چکا ہے جہاں نابینا بچوں کے لیے جماعت اول سے بی اے تک کی بریل کتب شائع ہوتی ہیں۔ حکومت نے 23کین ورکرز 4میوزک ٹیچر ایک بریل پروف ٹیچر کو بھی ملازمت دی ہے ۔

رکن صوبائی اسمبلی امجد علی جاوید نے پوچھا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ٹیکنکل کالج بنانے کا وعدہ کیا گیا تھا مگر اب یہ کالج کمالیہ میں بنایا گیا ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ صوبائی وزیر چودھری شفیق نے اس کا جواب دیا کہ کمالیہ میں جو کالج 2010میں بنایا گیا اس کی منظوری وزارت تعلیم نے 1996ءمیں دی تھی۔