بنگلہ دیش میں آسمانی بجلی سے بچاو بذریعہ شجر کاری

بنگلہ دیش میں آسمانی بجلی سے بچاو بذریعہ شجر کاری

سائنس ڈیسک…

بنگلہ دیش میں گزشتہ برس آسمانی بجلی گرنے سے 200 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اب حکومت نے آسمانی بجلی گرنے کے واقعات کو کم کرنے کے لیے لاکھوں درخت لگانے کا منصوبہ بنایا ہے۔

آفات سے نمٹنے کے لیے بنگلہ دیشی حکومتی ادارے کے سیکریٹری شاہ کمال نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم جون تک پام کے دس لاکھ درخت لگائیں گے تاکہ آسمانی بجلی گرنے کے واقعات کو کم کیا جا سکے۔

درخت آسمانی بجلی کے گرنے سے کیسے روک سکیں گے اس بارے ماہرین کہتے ہیں کہ درخت الیکٹرک چارج کو زمین تک رابطہ فراہم کر دیتے ہیں۔ درختوں کی ٹہنیاں آسمانی آسمانی بجلی کو اپنے اندر جذب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، اس طرح آسمانی بجلی کے اثرات کم ہو جاتے ہیں۔ تھائی لینڈ میں اسی طرح کے ایک منصوبے کا آغاز کیا گیا تھاجو کامیاب رہا ہے۔ ویتنام میں بھی دریائے میکانگ کے کنارے کسانوں کی حفاظت کے لیے اسی طرح کا منصوبہ کامیاب بنایا چکا ہے۔

بنگلا دیش میں محکمہ موسمیات کے ایک سابق سربراہ شاہ عالم نے اے ایف پی کو بتایا کہ پچھلے سالوں میں آسمانی بجلی سے زیادہ تر ہلاکتیں ایسے علاقوں میں ہوئیں جہاں درخت کم تھے۔ شاہ عالم آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں اضافے کا تعلق درختوں کی کٹائی سے جوڑتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے بنگلہ دیش کے دیہاتوں میں درخت کاٹنے کا رجحان بڑا ہے اور اس وجہ سے آسمانی بجلی گرنے اور اس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔