بیوروکریسی اپنا مائنڈسیٹ نہیں بدلتی تو جو بھی نظام آئے گا ناکام رہے گا: اعظم نذیر تارڑ ایڈووکیٹ

بیوروکریسی اپنا مائنڈسیٹ نہیں بدلتی تو جو بھی نظام آئے گا ناکام رہے گا: اعظم نذیر تارڑ ایڈووکیٹ

انٹر ویو …حسنین جمیل

سوال:جنرل پرویز مشرف کے عہد میں کمشنری نظام ختم کر دیا۔ اب پھر بحال کیا گیا ہے۔ تب کیوں ختم ہوا اب اسے بحال کرنے کی کیا منطق ہے۔

جواب:جنرل صاحب کچھ زیادہ ہی آئیڈیل ازم کا شکار تھے۔ ظاہر ہے انہوںنے مینڈیٹ سے بٹ کر حکومت کرنی تھی۔ وہ مارشل لا ایڈمنسٹرتھے، مگر انہوں نے اپنے آپ کو بطور مارشل لا ایڈمنسٹر دیکھایا نہیں۔ یوں کہہ لیں دیکھانا نہیں چاہتے تھے۔ انہوں نے ایک نیا نظام بھی متعارف کرایا ۔ میرے خیال میں وہ آئیڈیل ازم میں مبتلا تھے۔ اگر آپ یورپ کو فالو کر رہے ہیںجہاں جمہوری ادارے سب سے پہلے بنائے گئے، اگر آپ ان کو کاپی کر رہے ہیں تو یہ غلط ہے۔ آپ کے خطے کے اپنے معروضی حالات ہیں۔ معاشی سیاسی سماجی حالات کو دیکھ کر فیصلہ کرنا چاہیے۔اس ملک میں اگر منتخب آدمی انتظامی معاملات سنبھال لے اور پولیس اور کمشنر کا نظام اس کی زیر نگرانی ہو، یہ بہت بڑی خام خیالی ہو گی تاہم اس وقت ایسا کر دیا گیا۔ فوراً احساس ہو گیا ۔ڈسٹرکٹ ناظم کے انڈر پولیس کام نہیں کرنا چاہتی۔ ڈی سی او کسی صورت میں اپنی اے سی آرڈسٹرکٹ ناظم سے نہیں لکھوانا چاہتا تھا۔ پھر لوکل گورنمنٹ آرڈیننس میں ترامیم کی گئی۔ پہلے اس قانون کو بہت آگے تک لے کر گئے پھر تھوڑا تھوڑا واپس لائے۔ بدقسمتی سے ہمارے سیاست دان ایک بار پھر ناکام رہے۔ تحصیل اور ضلع کی سطح پر خوب کرپشن ہوتی۔ ترقیاتی کاموں میں گڑبڑ کی گئی۔ پولیس سروس آف پاکستان وقت کے ساتھ ساتھ مضبوط ہوتی گئی وہ سول ایڈمنسٹر کے نیچے سے نکلنا چاہتے تھے۔ اس وقت کی پولیس ایلیٹ نے ہی کیا وہ سویلین رول سے باہر نکل آئی۔ جیسے آ جکل ون ونڈو آپریشن کا شور ہے ایک ہی جگہ ہر کام ہو۔ ایسے ہی اختیارات کی تقسیم ضرور ہونی چاہیے۔ اختیارات کا استعمال ایسے ہو عوام کی شمولیت ہو اگر پولیس سے مسئلہ ہے تو پولیس ہی حال کرے۔ ضلعی حکومت کا مسئلہ ضلعی حکومت سے ہی حل ہو۔ امن امان کی صورت حال مکمل طور پر انتظامیہ کا مسئلہ ہے۔ اس میں انتظامیہ اور پولیس جدا جدا ہو آپس میں دونوں کا بالکل رابطہ نہ ہو۔ اس صورت میں کیسے کارکردگی دکھائی جا سکتی ہے۔

سوال:چندہزار انگریز افسروں نے برصغیر پر حکومت کی یہ ان کا بنایا ہوا نظام ہے جنہوں نے یہ نظام بنایا اب تو ان کے ملک میں بھی کمشنری نظام نہیں چلتا ہم لوگ ماضی کی طرف کیوں لوٹ رہے ہیں۔

جواب:نہیں میں نہیں سمجھتا ہم پیچھے کی طرف جا رہے ہیں۔ ہم سامراجی نظام پر تنقیدتو کرتے ہیں مگر یہ بھول جاتے ہیں ہم نے ان 70سالوں میں حاصل کیا کیا ہے۔ اگر آپ اخلاقی اقدار کی بات کریں، اداروں کی بالادستی کی بات کریں، نظم و ضبط کی بات کریں ،تعمیر کی بات کریں ۔تو ہم نے زیادہ گنوایا ہے۔ میں جس ملک میں رہتا ہوں وہاں ووٹ کے نظام سے منتخب ہونے والے کے پاس جب انتظامی اختیارات آتے ہیں وہ انصاف نہیں کرتا، میں اپنی مثال دیتا ہوں۔ بار ایسوسی ایشن میں حالات جو خراب ہوتے ہیں ،وکلا کا رویہ خراب ہے،ان کے خلاف ڈسپلن کی کاروائی نہیں ہوتی اس کی وجہ بھی یہی ووٹ کا نظام ہے ۔اگر آپ نے کسی فرد کے خلاف ڈسپلن کی خلاف ورزی کی کارروائی بھی کرنی ہے پھر اس کے دروازے پر ووٹ لینے بھی جانا ہے تو اس خطے کا شخص ایسی کاروائی نہیں کرے گا۔ یہی المیہ سیاست دان کا ہے جنرل مشرف جو نظام دے کر گئے تھے اس کے تحت سیاست دان جو ڈسٹرکٹ ناظم بنا، وہی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ تھا انتظامی سربراہ تھا۔ بے تحاشہ اختیارات حاصل تھے۔ وہ سیاست دان ووٹ لے کر آتا ہے وہ اپنے ووٹر کو کیسے مایوس کر سکتا ہے۔ یہ نظام یورپ امریکہ میں جہا ں جمہوریت بہت سمجھدار اور مستحکم ہے وہاں تو چل سکتا ہے مگر پاکستان میں نہیں اس لیے یہاں چل نہیں سکا۔

سوال:ڈپٹی کمشنر کو عدالتی اختیارات بھی دیئے جا رہے ہیں ایسا نہیں لگتا کہ الگ عدالتی نظام بن رہا ہے۔

جواب:میں جسٹس آف پیس کے حوالے سے متفق نہیں ہوں۔ فوجداری ضابطہ میں مجسٹریٹ ہی جسٹس آف پیس ہوتا ہے۔ جسٹس آف پیس کے اختیارات ضابطہ فوجداری کے اختیارات دفعہ 22تین طرح کی کر دی گئی۔ پولیس کو ہدایت دی گئی کہ پرچہ ایسے دینا ہے۔ پولیس کو تفتیش کے حوالے سے احکامات جاری کرنے ۔ تیسرا پولیس گردی یعنی اپنے اختیارات سے تجاویز کرنا کسی کو حبس بے جا میں رکھنا۔ یہ سب کام جسٹس آف پیس کو دیا گیا۔ تاہم ایڈیشنل اور سیشن ججز کو جسٹس آف پیس بنا دیا گیا۔ سپریم کورٹ بھی ان اختیارات کو نیم عدالتی کہہ چکی ہے۔ دیکھیں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور مجسٹریٹ کے پاس پہلے ہی اختیار ہے وہ پولیس کو احکامات جاری کر سکتے ہیں۔ چیزیں اس طرح خراب ہوتی ہیں۔ابہام پیدا ہو جاتا ہے۔ ہمارا جو آئینی ڈھانچہ ہے اس کے تین ستون ہیں مقننہ، عدلیہ، انتظامیہ۔ یہ تینوں اپنے اپنے خانوں میں رہ کر کام کرتے ہیں۔ 1990ءمیں عدلیہ کو الگ کر دیا گیا۔ مجسٹریٹ جو اختیارات استعمال کرتے تھے وہ ختم کر دیئے۔ اس میں تو ابھی عمل دخل کسی اور کا نہیں جو اختیارات ہیں جیسے پرائس کنٹرول ۔ ٹریفک کے معاملات ناجائز تجاویزات، ماحول کی آلودگی مسئلہ ہے۔ اس کو غیر موثر کر دیا گیا۔ جب کمشنری نظام ختم ہوا ٹی ایم اے اور کمشنر میں ٹھن گئی اگر کہیں کوئی چالان ہوگا معاملہ جائے گا کونسل افسر کے پاس کہیں ایل ڈی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے پاس کہیں مجسٹریٹ کے پاس، کہیں ڈی ڈی آر، کسی کو ان باتوں کی سمجھ ہی نہیں آتی۔ پرانے نظام کی ایک خوب صورتی تھی کہ ایک علاقے کا انچارج جو ایگزیکٹو مجسٹریٹ ہوتا تھا ان تمام مسائل کو وہی حال کرتا تھا۔ خالص عدالتی معاملات کے علاوہ دیگر معاملات وہی دیکھا کرتا تھا۔ ایک شخص کو ذمہ دار بنا دیا گیا اس علاقے کے تمام اختیارات آپ کے پاس ہیں۔ یہ مسائل آپ نے ہی حل کرنے ہیں یعنی جو ابہام کا عمل اختیارات کی تقسیم کے حوالے سے ایک اختیار تین افسروں کے پاس ہے وہ ختم کر دیا گیا۔ میرے خیال میں کمشنری نظام ایک اچھی چیز ہے وہ علاقہ مجسٹریٹ کا تصور ہے وہ علاقے کا ذمہ دار ہے۔

سوال:اب پھر ڈی سی او سے ڈپٹی کمشنر بن گئے ہیں۔ پرانے اختیارات کے ساتھ کام کرنے سے کیا بیوروکریسی بہتر کارکردگی دکھائے گی۔

جواب:میں اس رائے سے متفق ہوں کہ ہمارے خطے کے معروضی حالات کو دیکھتے ہوئے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا آفس بہتر کارکردگی دکھا سکتاہے۔ ہمیں اپنے رویے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ چاہے وہ ڈپٹی کمشنر ہو کوئی اور ہو الاٹ صاحب چاہے اعلی عدلیہ کا جج ہو چاہے پولیس ہو، مائنڈ سیٹ بدلنے کی ضرورت ہے۔ ڈی سی او بنام ڈپٹی کمشنر بننے سے ٹھیک نہیں ہوگا۔ صرف اپنا مائنڈ سیٹ بدلنے سے ٹھیک ہوگا۔

سوال:پولیس ان سارے حالات میں کیا نیا کردار کرے گی کیا سی سی پی او ڈپٹی کمشنر کے ماتحت ہوگا۔

جواب:پولیس آرڈر 2002ءتھا بہت مضبوط تاہم ابھی ابہا م ہے کہ آیا سی سی پی اوڈپٹی کمشنر کو جوابدہ ہے کہ نہیں۔ مسائل موجود ہیں۔ پہلے نظام میں سی سی پی او کی اے سی آر ڈپٹی کمشنر لکھتا تھا۔ اب کلیئر نہیں ابھی مباحثہ جاری ہے۔

سوال:وکلا کی سیاست پر آتے ہیں حالیہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن میں آپ کا گروپ چھ سال بعد ہار گیا اس کی وجہ کیا ہے؟

جواب:جیت اصل بات ہے ہمارے ایک بار لیڈر کہتے ہیں جمہوریت میں 51فیصد 100فیصد ہوتا ہے49فیصد صفر ہوت اہے۔ زیرہ سنا کسی کو اچھا نہیں لگتا۔ بار نے ہمیشہ تبدیلی پر یقین رکھا ہے۔چھ سال سے ہم لوگ الیکشن جیت رہے تھے۔ اس سال ہار گئے۔

سوال:آپ کے امیدوار فاروق ایچ نائیک تو بڑے مضبوط تھے؟

جواب:بطور وکیل تو ان پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا۔ شکست کی وجہ صرف ایک ہی تھی وہ آصف علی زرداری کے بہت قریب تھے شاید وکلا نے اس بات کو اچھا نہیں سمجھا۔ رشید اے رضوی 4سال پہلے الیکشن ہاررہے تھے وہ پچھلے چار سال ہی اپنی انتخابی مہم میں لگے ہوئے تھے۔ کوئی بات نہیں یہ سب چلتا ہے ہم نے چھ الیکشن جیتے ہیں۔ ڈبل ہیٹ ٹرک کی ہے۔ ایک ہار گئے تو کیا ہوا۔