زرداری کو سمجھیں!

زرداری کو سمجھیں!

ناصر خان…

پچھلے عام انتخابات کے بعد سے پیپلز پارٹی کی سیاسی کشتی ڈگمگا رہی ہے لیکن ڈوبی نہیں۔ جون 2015 سے 27سمبر2016تک بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی کے کارکنوں میں دوبارہ ہلچل پیدا کی اور احتجاجی سیاست کی طرف راغب نظر آئے ۔ قمر زمان کائرہ ، اعتزاز احسن اور ندیم افضل چن بھی یہ اشارے دیتے رہے کہ پیپلز پارٹی کو دوبارہ سیاسی طاقت دینے کے لیے بلاول ہی علم بلند کر یں گے۔

لیکن 23دسمبر کو بے نظیر بھٹو شہید کی دسویں برسی سے صرف چار روز پہلے آصف علی زرادری اچانک وطن واپس آئے اور احتجاجی راستہ اپنانے کی بجائے کہانی کا (سامنے نظر آنے والا) رخ پارلیمنٹ کی طرف موڑا تواعتزاز احسن سمیت وسطی پنجاب کے رہنما حیران و پریشان ہو گئے۔

آصف علی زرداری نے ان کو اور بلاول کو یہ بھی ضرور سمجھایا ہوگا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں بڑے جلسے کر کے اور نواز شریف کو مودی کا یار کہہ کر کشمیریوں کا خون گرمانے کا کیا نتیجہ نکلا؟ وہاں پیپلز پارٹی کو صرف چار نشستیں ملیں اور”مودی کے یار” نے حکومت بنا لی جبکہ تحریک انصاف سڑکوں پر احتجاج اور دھرنے دے کرنواز شریف کا تو کچھ نہ بگاڑ سکی مگر خود کمزور ضرور ہوئی ۔

 ایسے حالات میں ضروری ہے کہ اپنے پتے سوچ سمجھ کر پھینکے جائیں اور پارٹی کے کمزور حصوں کو دانشمندانہ سیاسی فیصلوں سے قوت فراہم کی جائے ۔ آصف علی زرداری کی واپسی کے ساتھ پارٹی کی سطح پر بعض فیصلوں سے ظاہر ہو تا ہے کہ پیپلز پارٹی نے اپنی کمزوریوں کا ازالہ کرنے کی طرف توجہ دینا شروع کی ہے۔ پیپلز پارٹی کے پرانے ساتھیوں کی پارٹی میں واپسی اس لحاظ سے خوش آئند ہے۔ 9جنوری کوفیصل صالح حیات، جنہوں نے 2002میں پیپلز پارٹی کو چھوڑ کرپی پی پیٹریاٹ کے نام سے اپنی الگ پارٹی بنالی تھی اوربے نظیر بھٹوکے دور حکومت میں دو مرتبہ وفاقی وزیر رہنے والے خالد کھرل نے پارٹی میں واپسی کا اعلان کر کے پیپلز پارٹی میں اس جمود کو توڑا ہے۔ جنوبی پنجاب کے ان دونوں رہنماوں کے اس فیصلے کے بعد پنجاب میں پیپلز پارٹی کا سٹرانگ ہولڈ سمجھے جانے والے اس علاقے کے مزید کئی سیاسی رہنما پیپلز پارٹی کی طرف مراجعت کا فیصلہ کئے بیٹھے ہیں۔

اطلاع ملی ہے کہ خانیوال کے رضا حیات ہراج اور لیہ کے بہادر خان سیہڑ (سابق وفاقی وزیر) بھی جلد اپنے پرانے یاروں کے ساتھ ہوں گے۔رضا حیات ہراج ن لیگ جبکہ بہادر خان سیہڑ تحریک انصاف کا حصہ ہیں ۔

 میرے اپنے علاقے بہاولپور سے تعلق رکھنے والے ایک وفاقی وزیر کے حوالے سے بھی خبر گرم ہے کہ وہ بھی اس نعرے کے ساتھ ن لیگ کو خیر باد کہنے والے ہیں کہ ن لیگ صرف تخت لاہور کی نمائندہ ہے اور صوبے کا سارا بجٹ لاہور کی پلوں اور سڑکوں پر لگایا جا رہا ہے جس کا آج کل میڈیا میں بھی بہت شور ہے۔ موصوف وزیر بھی پیپلز پارٹی کے رہنماوں کے ساتھ رابطے میں ہیں اور آنے والے دنوں میں کوئی بریکنگ نیوز بھی ہم سنیں گے ۔

آصف علی زرادری دوبارہ مخلوط حکومت بنانے کی خواہش اور جزبے کا اظہار بھی کر چکے ہیں اور اپنی جماعت کی برتری کے لیے وہ نہ صرف سندھ اور جنوبی پنجاب سے بلکہ اپنے پرانے یار مولانا فضل الرحمان کے ساتھ مل کر خیبر پختونخواہ میں بھی کچھ نشستیں جیتنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

اس سارے سیاسی منظر میں عمران خان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔پانامہ کیس میں وہ سرخرو ہوئے تو انتخابی جلسوں میں کرپشن کے خلاف اپنے موقف پر عوام کو قائل کرنے میں انہیں زیادہ دشواری نہیں ہو گی ۔

ان حالات میں ایک چیز واضح ہے کہ آئندہ انتخابات کے لیے سیاسی میدان سج گیا ہے اور یہ بھی سنا ہے کہ وزیر اعظم نے پچھلے دنوں آصف زرداری کو فون کر کے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔لیکن ابھی تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریب حلف برادری میں شرکت کے لیے زرداری امریکہ روانہ ہو رہے ہیں۔