مغوی، بلاگر، سماجی کارکن یا گستاخ

مغوی، بلاگر، سماجی کارکن یا گستاخ

احمد نور…

پروفیسر سلمان حیدر سمیت چار افراد کو اغوا ہوئے ایک ہفتے سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے ، لیکن حکومت اب تک ان افراد کی بازیابی کا کوئی سراغ نہیں لگا سکی ہے۔

ایک طرف نیوز چینلز اور اخبارات ہیں جو اغوا شدگان کو بلاگرز اور سماجی کارکنوں کے نام سے پکار رہے ہیں اوردوسری طرف سوشل میڈیا پر اغوا ہونے والے افراد کے خلاف دن رات ایک کمپین چلائی جا رہی ہے جس میں ان افراد پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ انہوں نے توہین رسالت کی ہے۔

یہ ساری کہانی فیس بک اور ٹوئیٹر پر موجود پیجز بھینسا،موچی او ر روشنی کے گرد گھومتی ہے جن کے ایڈمن وقاص گورائیہ،پروفیسر سلمان حیدر اور عاصم سعید تھے، اب نہیں ہیں۔اب اسلئے نہیں ہیں کیونکہ انہیں اغوا کرنے کے بعداغوا کاروں نے اُن سے پیجز کا خفیہ کوڈ حاصل کر کے سارا مواد تلف کر دیا ہے اور ان پیجز کا انتظام خود سنبھال لیا ہے اور سابقہ ایڈمن کو کافر قرار دے کر مار دینے کی تلقین کی جا رہی ہے۔

سب سے پہلے 4 جنوری کو وقاص گورائیہ لاپتہ ہوئے جو ہالینڈ میں مستقل طور پر رہائش پذیر ہیں ۔ وہ اسی روز پاکستان پہنچے تھے کہ انہیں لاہور میں ان کے گھر سے اٹھالیاگیا ۔اسی طرح عاصم سعید کو بھی ان کے گھر سے اغوا کیا گیا۔ ان پر الزام لگایا جا رہاہے کہ وہ بھینسا نامی فیس بک پیچ چلاتے تھے جس پر توہین مذہب اور توہین رسالت کی جاتی تھی۔ اغواکے بعد اس پیج کا ایڈمن تبدیل ہو گیا ہے اور پیج کے تعارف میں لکھا ہے کہ اب اس پیج کی مالک ایلیٹ سائبر فورس آف پاکستان ہے۔تمام توہین آمیز مواد ہٹا دیا گیا ہے۔پاکستان اور اسلام زندہ باد۔

اس پیج پر ایک پوسٹ شائع کی گئی ہے جس پر سلمان حیدر، وقاص گورائیہ اور عاصم سعید کی تصویر ہے اور اس کے نیچے لکھا ہے یہ تین لوگ اس نیٹ ورک(بھینسا نیٹ ورک) کا حصہ ہیں جس کا کام پاکستان دشمن قوتوں سے ڈالر پکڑ کر اسلام اور پاکستان کی نظریاتی اساس کو نشانہ بنانا ہے۔سماج کے لئے ان کارکنوں کی خدمات بھینسا، روشنی،موچی اور ٹھاہ جیسے پیجز ہیں جہاں سے توہین رسالت، توہین اللہ، شعائر اسلام کی توہین اور بانیان پاکستان کے خلاف توہین آمیز مواد کا پراپیگنڈہ کرنا ہے۔

 فیس بک اور ٹوئیٹر پر بھینسا ،پیج پر شائع ہونے والے سابقہ موادکے عکس دیکھنے کے بعد یہ بات درست معلوم ہوتی ہے کہ اس پیج پر توہین اسلام اور توہین رسالت سے لے کر ہر وہ مواد شائع کیا جا رہا تھاجس کا دوبارہ ذکر کرنا بھی مناسب نہیں ہے ۔یہ حق کسی کو بھی نہیں ہے کہ وہ آزادی اظہار کے نام پرکسی دوسرے کی دل آزاری کرے۔اسے کسی طور بھی اظہار کی آزادی نہیںکہا جا سکتا،بلکہ اسے آزادی اظہار نفرت کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔

یہ بات بھی درست ہے کہ آئین پاکستان کسی کو یہ اختیارنہیں دیتا کہ کوئی خود ہی کسی پر الزام بھی لگائے، خود ہی عدالت لگائے اور پھر اغوا کر لے اور زیادہ غصہ آئے تو بے رحمی سے قتل بھی کر دے۔ملک یا مذہب کی خدمت کر نے کایہ طریقہ کسی طور بھی جائز نہیں ہے۔

حکومت کا فرض بنتا ہے کہ اغوا ہونے والے افراد کو بازیاب کرائے اور اس معاملے میں جو بھی گناہ گار ہے اسے کڑی سے کڑی سزا دلوائے ۔تاہم وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے 14 جنوری کو میڈیا کے ساتھ گفتگو فرماتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حساس او رپیچیدہ معاملہ ہے اسلئے لواحقین صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں یعنی حکومت کی طرف سے جواب ہی سمجھیں۔

اس کے بعداغوا شدگان کے لواحقین کے پاس اس کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے کہ معروف صحافی محمد حنیف صاحب کا بی بی سی اُردو کی ویب سائیٹ پر شائع ہونے والا حالیہ مضمون ہدایت نامہ برائے مسنگ پرسن پڑھیں، جس میں بہت سی ہدایات کے ساتھ یہ بھی لکھا ہے کہ غائب کرنے والے کا احترام کریں اور اللہ تعالی سے دعا کریں جو رحیم بھی اور کریم بھی ہے۔

شاید آپ کی دعا رنگ لے آئے اور اغواکاروںکے دل میں آپ کے پیاروں کے لئے رحم پیدا ہوجائے اوروہ انہیں زندہ سلامت قانون کے کٹہرے میں کھڑا کر دیں۔اس کے علاوہ آپ کے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں بچاہے کہ آپ مسلسل دعا کرتے رہیں۔کوئی بھی وقت قبولیت کا ہوسکتا ہے۔