"تین سال میں مجھے ترقیاتی فنڈ سے ایک پیسہ نہیں ملا”

"تین سال میں مجھے ترقیاتی فنڈ سے ایک پیسہ نہیں ملا”

"تین سال میں مجھے ترقیاتی فنڈ سے ایک پیسہ نہیں ملا "

عارف عباسی، رکن پنجاب اسمبلی، پاکستان تحریک انصاف

 

انٹرویو: حسنین جمیل

سوال:عارف آپ کا تعلق حزب اختلاف سے ہے، یہ بتائیے کہ حکمران جماعت کا سلوک ٓپ کے ساتھ کیسا ہے، کیا ترقیاتی کاموں کے لیے حزب اختلاف کے منتخب نمائندوں کو بھی کچھ حصہ ،ملتا ہے؟

جواب: ہمیں پنجاب حکومت کی طرف سے کوئی بھی ترقیاتی فنڈ نہیں ملتے۔ آمریت سے بدتر جمہوری حکومت برسراقتدار ہے۔ فنڈ ملنا تو دور کی بات ہے پنجاب حکومت کی طرف سے ہمارے شہر راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ اور شہری حکومت کو حکم دیا گیا ہے کہ تحریک انصاف کے کسی ایم پی اے کا کوئی بھی کام نہ کیا جائے۔ روزمرہ کے کام جیسے گلی کو صاف رکھنے، سیوریج کا مسئلہ،سٹریٹ لائٹ کا مسئلہ، کسی بچے کے سکول داخلے کا مسئلہ، ضلعی حکومت کو سختی سے تاکید کی گئی ہے کہ تحریک انصاف کے کسی ایم پی اے کا کوئی بھی کام نہ کیا جائے ۔ ہمارے کسی بھی ترقیاتی منصوبے کو کبھی بھی فنڈ نہیں جاری کیے گئے۔ میں نے 3سال میں 127سکیمیں پنجاب حکومت کو اپنے حلقے کے حوالے سے ارسال کی ہیں مجھے ایک پیسہ فنڈ نہیں دیا گیا۔

ہمارے کسی بھی ترقیاتی منصوبے کو کبھی بھی فنڈ نہیں جاری کیے گئے۔ میں نے 3سال میں 127سکیمیں پنجاب حکومت کو اپنے حلقے کے حوالے سے ارسال کی ہیں مجھے ایک پیسہ فنڈ نہیں دیا گیا

سوال: ان حالات میں حلقے کے لوگوں کا تو آپ پر بہت دباﺅ ہوتا ہوگا ؟

جواب: بالکل لوگوں کا بہت پریشر ہوتا ہے۔ جنہوں نے ہمیں ووٹ دیئے ہیں ان کے مطالبات تو ہوتے ہیں۔ گلیوں اور سڑکوں کی صفائی کا مسئلہ ہوتا ہے، پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے۔ یہ سارے مسائل ہیں۔ سکولوں میں طالب عالموں اور اساتذہ کے مسائل ہیں۔ ہسپتالوں کے حالات خراب ہیں۔ مسائل بہت زیادہ ہیں۔ لوگوں نے پھر فریاد کے لیے ہمارے پاس ہی آنا ہے۔ ہم پھر اسمبلی میں واویلا کرتے ہیں۔ میں نے پچھلے ایک ماہ میں راولپنڈی کے ہسپتالوں کی حالت زار پر 20کے قریب تحریک التوائے کار جمع کرائی ہیں ، اس کے باوجو د پنجاب حکومت کی طرف سے کوئی کام نہیں کیا گیا۔ چونکہ مسلم لیگ نواز کے امیدوار راولپنڈی سے ہارے ہوئے ہیں اس لیے یہ عوام سے انتقام لیتے ہیں۔

 

سوال: راولپنڈی شہر کی قومی اسمبلی کی ایک سیٹ عمران خان کی دوسری شیخ رشید کے پاس ہے صوبائی حلقوں کی کیا پوزیشن ہے؟

جواب: پنڈی شہر کی چار صوبائی اسمبلی کی سیٹیں ہیں، پی پی 11،12،13،14 ان میں سے تین تحریک انصاف کے پاس ہیں، ایک مسلم لیگ نواز کے پاس ہے۔ شہر میں ہماری اکثریت ہے۔ بدقسمتی یہ ہے مسلم لیگ نواز نام تو جمہوریت کالیتی مگر جمہوریت ان کے پاس سے بھی نہیں گزری۔

میٹروبس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ 23لاکھ روپیہ روز کا سبسڈی کی صورت میں ادا کیا جا رہا ہے۔ 23لاکھ روپے کا ٹیوب ویل اور فلٹر واٹر پلانٹ لگ جاتا ہے

سوال: راولپنڈی شہر میں بلدیاتی الیکشن میں تحریک انصاف کی شکست کی کیا وجہ تھی؟

جواب: مسلم لیگ نواز دھندلی کی سائنس دان ہے۔ جب راولپنڈی کینٹ کے الیکشن ہو رہے تھے 20وارڈوں کے 40ہزار ووٹ کینٹ کے اندر رجسٹرڈ کر دیئے گئے۔ پھر جب شہر کے اندر الیکشن ہوئے تو گردو نواح اور کینٹ کے ہزاروں ووٹ شہر میں رجسٹر ڈ کر دیئے گئے۔ انتخابی فہرست چونکہ سب کے پاس ہوتی ہے۔ لہٰذا جس جس یونین کونسل سے مسلم لیگ نواز الیکشن ہار رہی تھی وہاں دو نمبری کی گئی۔ ہری پوری حویلیاں کے ووٹ پنڈی میں رجسٹرڈ کر دیئے گئے۔ یہ دھندلی کا فریم ورک الیکشن کمیشن کے ساتھ مل کر بنایا گیا۔

سوال: پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں محمود الرشید نے حافظ سعید کی حمایت میںاسمبلی میں تقریر کی۔ حزب اختلاف نے حافظ سعید کے حق میں اسمبلی سے واک آﺅٹ بھی کیا۔ کیا وجہ ہے آپ لوگ ایک متنازعہ شخصیت کی حمایت کر رہے ہیں؟

جواب: کیا کسی عدالت نے آج تک حافظ سعید پر کوئی جرم ثابت کیا ہے۔ یہ تو بھارتی الزام ہے کہ سرحد پار سے دراندازی ہو رہی ہے۔ بھارت کے کہنے پر آپ اپنے لوگوں کو گرفتار کریں کیا یہ کوئی اچھی بات ہے۔ حافظ سعید فلاح بہبود اور انسانیت کے لیے بہت کام کر رہے ہیں۔ زلزلے، سیلاب میں وہ فلاحی کام کرتے ہیں اگر انہوں نے کوئی جرم کیا ہے تو ان پر مقدمہ قائم کرکے عدالت میں پیش کیا جائے۔ اگر عدالت ان کو سزا دے ہمیںکوئی اعتراض نہیں۔

سوال:عالمی سطح پر حافظ سعید پر الزام ہے وہ شہر میں دہشت گردی میں ملوث ہیں؟

 

جواب:یہ الزام ثابت تو کریں۔ کشمیر سے کوئی بندہ پکڑا گیا ہو جس نے کہا ہو ہمیں حافظ سعید نے یہاں بھیجا ہے۔ کوئی ثبوت دیں کہ وہ مالی امداد کرتے ہیں۔ کوئی ان کا جہاد کیمپ لگا ہوا ہے۔ یہاں عدالتیں ایک لیول سے اوپر آزاد ہیں اگر ثبوت دیئے جائیں تو پھر بات ہو۔ حافظ سعید پاکستان کی فلاح و بہود کے لیے کام کرتے ہیں۔

اگر نالہ لئی کے ساتھ ایکسپریس وے بن جائے تو میرے شہر کا ٹریفک کا مسئلہ پچاس سال کے لیے حل ہو جاتا ہے۔ ترقیاتی فنڈ سے 23لاکھ روپے روزانہ میٹروبس کو مل رہے ہیں، میرے حلقے میں چھ ٹیوب ویل کے لیے 3 کروڑ درکار ہیں یہ پیسے ان کاموں پر لگنے چاہئیں

سوال: یہ بتائیں کہ آنے والے الیکشن میں راولپنڈی میں عوامی مسلم لیگ اور پاکستان تحریک انصاف کا انتخابی اتحاد ہونے جا رہا ہے؟

جواب: قیادت ہمیشہ بڑے فیصلے کرتی ہے۔ ان کے مقاصد بھی بڑے ہوتے ہیں۔ زمینی حقائق کو دیکھ کر فیصلے کیے جاتے ہیں۔

سوال: پانامہ لیکس کیس حتمی مراحل میں جا رہا ہے آپ کیا کہتے ہیں؟

جواب: جرم ثابت ہو چکا ہے۔ آل شریف یہ تسلیم کر چکی ہے۔ فلیٹ ہمارے ہیں۔ منی ٹریل ثبوت ہوتا ہے۔ میں نے یہ موبائل خریدا ہے میں بنک سے پیسے نکال کر دوکان دار سے موبائل خرید لیتا ہوں اس کی رسید ثبوت ہوتی ہے۔ جرم مانا جا چکا ہے۔ فلیٹ کی ملکیت تسلیم کی جا چکی ہے۔ خریداری کا ثبوت دیں روپے کہاں سے آئے ہیں۔ سعودی عرب سے پیسہ گیا ہے وہی سے آیا ہے۔ اس کا ثبوت دیں اتنی بڑی رقم بغیر بینک کی قانونی کاروائی کے کیسے جا سکتی ہے۔ آل شریف کے کسی ایک فرد کا بینک اکاﺅنٹ ہی بتا دیں اتنی بڑی رقم کیسے ٹرانسفر کی گئی۔ لگتا ہے ازہر بلوچ کی طرح لانچوں پر نوٹوں کی بوریاں بھر کر لے کر گئے ہیں۔

سوال: راولپنڈی شہر کا بڑا منصوبہ نالہ لئی کے ساتھ ساتھ ایکسپریس وے تھا جو شیخ رشید کا تھا وہ ختم کرکے میٹروبس بنائی گئی اس پر آپ کیا کہتے ہیں؟

جواب: میٹروبس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ 23لاکھ روپیہ روز کا سبسڈی کی صورت میں ادا کیا جا رہا ہے۔ 23لاکھ روپے کا ٹیوب ویل اور فلٹر واٹر پلانٹ لگ جاتا ہے۔ راولپنڈی کے شہری گندا پانی پی رہے ہیں۔ یہ پیسہ پینے کے صاف پانی پر لگنا چاہیے تھا۔ عوام کی ضرورت صاف پانی ہے ،میٹرو سے ٹریفک کے مسائل بڑھ گئے ہیں۔ سڑکیں تنگ ہو گئی ہیں۔ اگر نالہ لئی کے ساتھ ایکسپریس وے بن جاتی میرے شہر کا ٹریفک کا مسئلہ پچاس سال کے لیے حل ہو جاتا۔ سب سے بڑا نقصان ترقیاتی فنڈ سے 23لاکھ روپے روزانہ میٹروبس کو مل رہے ہیں۔ میرے حلقے میں چھ ٹیوب ویل کے لیے 3کروڑ درکار ہیں یہ پیسے ان کاموں پر لگنے چاہئیں۔