ڈیرہ غازی خان میں کم سن کا بہیمانہ قتل

ڈیرہ غازی خان میں کم سن کا بہیمانہ قتل

منشا فریدی…

دور حاضر یقینا ترقی یافتہ دور ہے مگر ہم اخلاقی سطح پر پوری طرح سے تنزلی کا شکار ہیں۔ انسانی خون ہمارے معاشرے میں انتہائی ارزاں ہو چکا ہے۔ جنسی بے راہ روی کے نتیجے میں یہاں روزانہ کی بنیاد پر متعدد واقعات پیش آتے ہیں۔ ان واقعات میں معصوم جانیں موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں اور کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔

اگرچہ بڑے شہروں میں چھوٹے واقعات بھی شہ سرخی بن جاتے ہیں اقتدار کے ایوانوں سے دور ڈیرہ غازی خان حکومت اور میڈیا کی عدم توجہی کا شکار ہے۔

9مارچ 2017 کا دن چوٹی زیریں کے لیے یوم سیاہ تصور ہو گا کیونکہ اس دن تھانہ چوٹی زیریں کی حدود میں واقع موضع نواں شمالی میں تیسری جماعت میں زیر تعلیم دس گیارہ سالہ معصوم حسیب کو دن دیہاڑے تیز دھار آلات کے ساتھ پے در پے وار کر کے شہید کر دیا گیا۔

 مقامی پولیس نے اسی روز مقدمہ نمبر 62/17بجرم 302/34ت پ درج کر دیا۔ اس وقت نامزد ملزمان بھی پولیس حراست میں ہیں۔ اہالیان علاقہ نے امید ظاہر کی کہ ایماندارانہ تفتیش ہو گی اور ساتھ ہی مجاز حکام سے یہ امیدیں بھی وابستہ ہیں کہ معصوم حسیب کے قاتل بھی بے نقاب ہوں اور اس قتل کی وجوہات کا بھی انکشاف ہوگا ۔جو متعلقہ تفتیشی حکام پر منحصر ہے۔

شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سے پر زور شکایت کرتے ہوئے کہا کہ کیا ضلع ڈیرہ غازی خان پاکستان کا حصہ نہیں ہے یا ضلع ہذا ءپنجاب کا ضلع نہیں ہے کہ انہوں نے مذکورہ قتل پر کوئی نوٹس نہیںلیا ؟