بھارت میں ذہنی مریضوں کی تعداد میں اضافہ

بھارت میں ذہنی مریضوں کی تعداد میں اضافہ

ہیلتھ اینڈ سائنس ڈیسک…

ایک تازہ رپورٹ کے مطابق بھارت میں ذہنی مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور ایسے صرف 5 فیصد مریضوں کا ہی علاج ہوپاتا ہے۔

موقر جریدے انڈین جرنل آف سائکیٹری میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق بھارت کے مختلف حصوں میں کیے گئے سروے سے پتا چلا ہے کہ ڈیپریشن اور دیگر دماغی امراض کے شکار ہر 100 افراد میں سے صرف پانچ کا ہی علاج ہوپاتا ہے۔

برڈن آف ڈیزیز سٹڈی نامی ایک اور تحقیق کے مطابق بھارت میں پانچ کروڑ 80 لاکھ افراد ڈیپریشن کا شکار ہیں۔ 2015 میں ڈیپریشن بھارت میں خود کشی کی 10 ویں سب سے بڑی وجہ رہی جب کہ 2005 میں یہ 12 ویں نمبر پر تھی۔

 ڈیپریشن کا مرض بھارتی مردوں کے مقابلے عورتوںمیں زیادہ عام ہے۔ 29 برس کی عمر گروپ کے افراد میں ڈیپریشن اور دیگر دماغی بیماریوں کا تناسب سب سے زیادہ ہے۔

بھارت میں مینٹل ہیلتھ کیئر پر صحت بجٹ کا صرف 0.06 فیصد ہی خرچ کیا جاتا ہے جو بنگلہ دیش (0.44 فیصد) سے بھی کم ہے۔