جان لیوا چکن پاکس سے دو ماہ میں 16 ہلاکتیں

جان لیوا چکن پاکس سے دو ماہ میں 16 ہلاکتیں

نمائندہ ہم شہری…

فیصل آباد میں چکن پاکس کےمزید 6 مریض ہسپتال لائے گئے ہیں جس کے بعد مریضوں کی مجموعی تعداد 100 ہوگئی ہے۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق 24 گھنٹوں کےدوران مزید 6 مریض الائیڈ اسپتال لائے گئے ہیں۔

 رواں سال الائیڈ ہسپتال میں 96 اور سول ہسپتال فیصل آباد میں چکن پاکس کے 4 مریض لائے گئے۔ ان میں میں سے 16 مریض دوران علاج انتقال کرگئے۔

چکن پاکس جسے لاکڑا کاکڑا یا سیتلا بھی کہتے ہیں ایک وبائی مرض ہے جو کہ واریسیلا زوسٹر نامی وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہ عام طور پر بچوں کی بیماری کہلاتی ہے، اورعموماً دس سال سے کم عمر میں ہوجاتی ہے۔ تاہم کوئی بھی فرد جسے چکن پاکس کی ویکسین نہ لگی ہو یا اس بیماری کے بچپن میں نہ ہونے کی صورت میں عمر کے کسی بھی حصے میں چکن پاکس میں مبتلا  ہو سکتا ہے۔

چکن پاکس سے جسم پر آبلے سے بن جاتے ہیں جن پر شدید خارش ہوتی ہے، خارش سے آبلے پھٹ جائیں تو بیماری بڑھنے کا خدشہ ہوتا ہے، چکن پاکس کے مریضوں کی قوت مدافعت شدید کم ہو جاتی ہے اور ہلکا بخار بھی رہتا ہے۔ عام طور پر یہ بیماری دو ہفتوں میں ٹھیک ہو جاتی ہے۔

چکن پاکس سے بچاو کے لیے ویکسین دستیاب ہے جس کی قیمت بھی معمولی سی ہے۔ دنیا بھر میں چکن پاکس کا ویکسین بچوں کے حفاظتی ٹیکوں کے کورس میں شامل ہوتا ہے۔ تاہم پاکستان میں ایسا نہیں ہے۔ اور اس بیماری کے بارے صحیح آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے لوگ اپنے طور پر بھی چکن پاکس کی ویکسین بچوں کو نہیں لگواتے، نہ ہی ڈاکٹر یہ ویکسین لگوانے کی تجویز دیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بچے اپنی عمر کے پہلے پانچ سال کے اندر ہی عموماً اس تکلیف دہ بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ چونکہ یہ انتہائی نوعیت کے متعدی امراض میں شامل ہے یعنی ایک سے دوسرے مریض میں منتقل ہوتی ہے اس لیے سکول جانے والے بچے زیادہ تر اس کا شکار ہو جاتے ہیں۔

 فیصل آباد میں چکن پاکس میں مبتلا ہو کر دو ماہ کے اندر 16 مریض جاں بحق ہو چکے ہیں، اس کے باوجود چکن پاکس کی ویکسین کو بچوں کے حفاظتی ٹیکوں کے کورس میں شامل نہیں کیا جا رہا۔ محکمہ صحت کا موقف ہے کہ یہ بیماری عالمی ادارہ صحت کی جانب سے نوٹیفائیڈ نہیں، اس لیےاس پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی، جبکہ محکمہ صحت نے بھی اس مرض میں مبتلا مریضوں کا کوئی ڈیٹا بھی مرتب نہیں کیا۔