جعلی دواوں کا دھندہ،امریکہ میں ایک پاکستانی کو 6 سال قید کی سزا

جعلی دواوں کا دھندہ،امریکہ میں ایک پاکستانی کو 6 سال قید کی سزا

انٹر نیشنل ڈیسک…

اپنی ادویات کے ذریعے سو سے زائد بیماریوں کے علاج کا دعویٰ کرنے والے پاکستانی نژاد برطانوی شہری کو امریکہ میں چھ سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔

سینتیس سالہ مصطفیٰ حسن عارف کو یہ سزا جھوٹے دعوے کرنے اور لوگوں کو دھوکا دینے کے جرم میں سنائی گئی ہے۔ امریکی اٹارنی جان جے فارلی کے مطابق ویب سائٹس پر کامیاب علاج کی جھوٹی شرح، طبی تحقیق کے من گھڑت نتائج اور خود ساختہ توصیفی بیانات کے ذریعے وہ ایسے کمزور اور بے بس افراد کو اپنا نشانہ بناتے تھےجو ایسی بیماریوں کے  علاج کی تلاش میں تھےجن کا ابھی تک کوئی معروف علاج دریافت نہیں ہوا۔

انہوں نے الزیمر، پارکنسن، ایمفیزیما اور دیگر کئی دماغی امراض کی دوائیں بیچیں جن کی ابھی تک کوئی دوا دریافت نہیں ہوئی۔

 عدالت کو بتایا گیا کہ مصطفیٰ حسن عارف اپنی ادویات 15 ہزار سے زائد ویب سائٹس کے ذریعے فروخت کر کے وہ ایک کروڑ ڈالر سے زائد رقم کما چکے ہیں اور اس طرح دنیا بھر  میں انہوں نے ایک لاکھ سے زائد افراد کو دھوکا دیا ہے۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق عارف لاہور میں رہتے ہوئے اپنی ادویات کی فروخت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھے۔ انہوں نے یہ معلومات بھی فراہم کر رکھی تھیں کہ ان کی ادویات جرمنی، ناروے، اٹلی، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور ڈنمارک کے ادارے بھی فروخت کر رہے ہیں لیکن حقیقت یہ تھی کہ ان ادویات پر لیبل بھی لاہور میں لگائے جاتے تھے اور لاہور ہی سے بیرون ملک بھیجی جاتی تھیں۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق ویب سائٹس پر یہ دعویٰ کیا جاتا تھا کہ ان کی تیار کردہ ادویات سینکڑوں بیماریوں کا علاج کر سکتی ہیں۔

مصطفیٰ حسن عارف کو 2014میں نیویارک سے گرفتار کیا گیا جہاں وہ ایک کاروباری دورے پر گئے تھے۔ انہیں نیویارک کی وفاقی عدالت میں پیش کیا گیا اور بعدازاں نیو ہیمپشائر منتقل کر دیا گیا جہاں وہ زیر حراست رہے۔