خلائی ملبے کی فکر کریں

خلائی ملبے کی فکر کریں

سائنس ڈیسک…

خلا میں  بے شمار کاٹھ کباڑ موجود ہے جس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ زمین کے مدار میں اڑتے پھرتے یہ دھاتی اور غیر دھاتی ٹکڑے مستقبل میں خلائی مشنز کے لیے بہت بڑا خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

بے کار مصنوعی سیارے، تباہ ہو جانے والے خلائی راکٹوں کی باقیات اور ایسے ہی لاکھوں چھوٹے بڑے اجسام نہ صرف خلائی جہازوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں بلکہ ان کو تباہ بھی کر سکتے ہیں۔

اندازے کے مطابق خلائی ملبہ قریب 750،000 ایسے چھوٹے اجسام کی صورت میں بھی موجود ہے جن کا قطر ایک اور دس سینٹی میٹر کے درمیان ہے۔ 40 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے حرکت کرنے والے یہ مختصر اجسام  خلا میں اگر کسی اور جسم سے ٹکرا جائیں، تو ایک دستی بم پھٹنے جتنی فورس پیدا کر سکتے ہیں۔

دسمبر 2016 تک خلائی ملبے کے باعث مصنوعی سیاروں کے ٹکراو کے کم از کم 5 بڑے واقعات پیش آ چکے ہیں۔

اگرچہ زیادہ تر خلائی ملبہ خلا ہی میں تباہ ہو جاتا ہے تاہم بعض بڑی جسامت کی اشیا بغیر تباہ ہوئے زمین سے بھی ٹکرا سکتی ہیں۔ امریکی خلائی ادارے ناسا کے مطابق پچھلے 50 برس کے دوران خلائی ملبے سے روزانہ اوسطاً ایک ٹکرا زمین پر گر رہا ہے۔ ان واقعات سے ابھی تک اگرچہ کوئی بڑی تباہی نہیں ہوئی تاہم بعض واقعات قابل غور ہیں مثال کے طور پر 1969 میں ایک جاپانی بحری جہاز کے پانچ ملاح خلا سے گرنے والی کسی چیز کی زد میں آ کر زخمی ہو گئے، جنوری 2001 میں بوئنگ کے تیار کردہ ایک  کا کچھ حصہ سعودی عرب کے صحرا میں گرا۔ معلوم ہوا کہ یہ 1993 میں چھوڑے گئے ایک راکٹ کا سب سے اوپر والا حصہ تھا۔ مارچ 2007 میں چلی کی ائیر لائن کے ایک پائلٹ نے سنٹیاگو اور آک لینڈ کے درمیان بحر اوقیانوس پر پرواز کرتے ہوئے فضا میں مصنوعی سیارے کا ملبہ دیکھا۔

خلائی ملبے کے مسئلے پر غور کرنے کے لیے یورپی خلائی ایجنسی جرمنی میں ایک کانفرنس منعقد کر رہی ہے جو کہ 18 سے 21 اپریل تک جاری رہے گی۔ یورپی خلائی ایجنسی کی اس نوعیت کی یہ ساتویں کانفرنس ہے جس میں خلائی ملبے کی تشویشناک صورتحال پر غور کرنے اور اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔