” وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں "

” وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں "

” وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں "

نظام مرتے رہے، آئین ٹوٹتے رہے

جشن آزادی مبارک مگرآزاد کب ہونگے؟

سترویں سالگرہ پر ایک اور وزیراعظم ترازوپرجھول گیا!

 سی آر شمسی…

جولائی انیس سو سینتالیس کی ڈھلتی شام ہے، قائداعظم علالت کے باعث زیارت میں مقیم ہیں کہ وزیراعظم لیاقت علی خان اور سیکرٹری جنرل مسٹر محمد علی اچانک زیارت پہنچتے ہیں ان کے آنے کی پہلے سے کوئی اطلاع نہ تھی،

وزیراعظم نے ڈاکٹر الٰہی بخش سے قائداعظم کی صحت اور بیماری سے متعلق استفسار کیا ،صحت سے متعلق ان کی تشخیص کیا ہے؟

مجھے مس فاطمہ جناح نے یہاں بلایا ہے اس لئے وہ اپنے مریض سے متعلق کوئی بات صرف انہی کو بتا سکتے ہیں،

ڈاکٹر الٰہی بخش نے جواب دیا!

لیکن وزیراعظم کی حیثیت سے میں قائداعظم کی صحت کے متعلق متفکر ہوں….“ آپ بجا فرماتے ہیں …. مگر میں اپنے مریض کی اجازت کے بغیر کچھ نہیں بتا سکتا، ڈاکٹر کا جواب واضح تھا!

تاہم جب مس فاطمہ جناح نے قائداعظم کو وزیراعظم کے آنے کی اطلاع دی….تو وہ مسکرائے اور کہا

تم جانتی ہو….وہ کیوں آئے ہیں؟

”وہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ میری علالت کتنی شدید ہے….، میں کتنا عرصہ زندہ رہ سکتا ہوں، تم نیچے جاﺅاور پرائم منسٹر سے کہہ دو کہ میں انہیں ابھی ملوں گا

فاطمہ جناح نے کہا ، اب کافی دیر ہوگئی ہے آپ کل صبح ان سے مل لیں

نہیں” قائداعظم نے کہا، انہیں ابھی آنے دو، بچشم خود دیکھنے دو،

وزیراعظم نصف گھنٹہ کے قریب قائداعظم کے پاس رہے

اس کے بعد فاطمہ جناح اندر گئیں تو قائداعظم بے حد تھکے ہوئے تھے، انہوں نے کچھ جوس مانگا، اور پھر چوہدری محمد علی کو اپنے پاس بلایا سیکرٹری جنرل پندرہ منٹ تک قائداعظم کیساتھ رہے ، مس فاطمہ جناح نے دیکھا کہ قائداعظم گہری سوچ میں محو تھے!

اب ڈنر کا وقت ہوگیا تھا، قائداعظم نے مس فاطمہ جناح سے کہا، بہتر ہے تم نیچے چلی جاﺅ اور ان کیساتھ کھانا کھاﺅ

نہیں “مس فاطمہ نے اصرار کیا، میں آپ کے پاس ہی بیٹھوں گی، اور یہیں پر کھانا کھاﺅں گی،

نہیں “ یہ مناسب نہیں، وہ یہاں ہمارے مہمان ہیں جاﺅ اور ان کیساتھ کھانا کھاﺅ،

کھانے کی میز پر وزیراعظم لیاقت علی خان بڑے خوش گوار موڈ میں تھے، وہ ہنسی خوشی پر مذاق باتیں کرتے رہے

جبکہ مس فاطمہ جناح کا دل اپنے بھائی کیلئے خوف سے کانپ رہا تھا، جو اوپر کی منزل پر بستر علالت پر اکیلے پڑے تھے،

کھانے کے دوران چوہدری محمد علی چپ چاپ کسی گہری سوچ میں گم رہے،

کھانے کے دوران ہی، فاطمہ جناح اوپر چلی گئیں، آنسوچھلکنے کو تھے مگر ضبط حائل تھا ،

قائداعظم انہیں دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا،” Fati , YOU MUST BE BRAVE”

 یہ واقعہ مادر ملت فاطمہ جناح کے ذاتی کاغذات سے ملنے والے ایک مسودے میں رقم ہے، جس کا عنوان ” میرا بھائی“ ہے، ” شہاب نامہ “میں شامل اس تاریخی مسودے کی یہ محض ایک جھلک ہے

اس کے علاوہ نجانے مادر ملت کے دل میں کتنے راز تھے، یا ان کی تحریریں جو آج تک سامنے نہ آسکیں، ایوبی آمریت کے جبر نے حقائق کوتاریخ سے کھرچنے کی ہر ممکن کوششیں کیں،

 مگر تاریخ تو تاریخ ہے،جو بڑی بے رحم ہے،جو بتاتی ہے کہ ہم کتنے بے رحم ہیں !

خون اور آگ کا دریا عبور کر کے تخلیق ہونیوالے وطن کیساتھ کیا کیا ہوا، کتنے زخم لگے، کہاں کہاں سے جسم پھٹ گیا، کتنے زخم ناسور بن گئے،روز کتنے نئے زخم لگتے ہیں ؟

 پاکستان کا ستر سالہ منظر، چیخ چیخ کر ہر روز سامنے آتا ہے مگر کوئی اثر ، کوئی احساس بیدار نہیں ہوتا،یہی نہیں

 ہم نے پاکستان بنانے والے کیساتھ کیا کیا….؟

ایک آزاد، وطن کے خواب میں رنگ بھرنے والے کیساتھ” زیارت“ کے بند کمرے میں کیا ہوا؟

جس نے تن تنہا، دلیل سے ہندو اور انگریز سامراج سے پاکستان کا مقدمہ تو جیت لیامگر اپنوں کی سازشوں کے سامنے، ہارگیا،

وہ کیا ہارے، کروڑوں لوگ جو دنیا کی سب سے بڑی ہجرت کر کے ایک نئے وطن،

نئے خواب،دیکھتے،لٹتے،پٹتے،قتل ہوتے، لاشے بے گورد کفن چھوڑتے،بھاگتے ، بھاگتے،وطن کی دہلیز پر پہنچے،تو ان کے خواب،ان کی امیدیں،خواہشیں لٹ چکی تھیں، لوٹنے والے، کوئی غیر نہیں، اپنے تھے،

یہ داغ داغ اجالا، یہ شب گزیدہ سحر

وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں

قائداعظم کی آنکھیں بند ہوتے ہی، محلاتی سازشیں اقتدار کی کھینچا تانی شروع ہوگئی،

 نت نئے مکروہ جال مکڑی کے جالے کی طرح پھیلتے چلے گئے،

 اس کھیل میں دو طبقے تیزی سے پھلنے پھولنے لگے، ایک اشرافیہ، جس کی تجوریاں لبا لب ،اور توندیں بڑھنے لگیں،

دوسری جانب، غربت زندہ لوگوں کو پاتال کی جانب دھکیلنے لگی

دیکھتے ہی دیکھتے یہ تفریق آسمانوں کو چھونے لگی، جمہوریت کے نام پر حاصل کیا گیا وطن ، سول و فوجی بیورو کریسی کے ہاتھ آگیاحکومتیں بدلنے لگیں! تبدیلی لانے والوں نے ایک خاندان کی شکل اختیار کرلی، فیوڈلز، ملا ذہنیت اس خاندان کی طاقت اور شناخت بنی،جمہوریت پامال ہونے لگی،قائداعظم کی پر اسرار وفات کے بعد لیاقت علی خان کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں گولی مار دی گئی ، قاتل کو بھی موقع پر ہی موت کے گھاٹ اتار کر شواہد ہمیشہ کیلئے مٹا دیئے گئے،

یہی المیہ ستائیس دسمبر دوہزارسات کی بے رحم شام کو دہرایا گیا جب لیاقت باغ میں لاکھوں لوگوں کے درمیان بے نظیر بھٹو کو منظم سازش اور منصوبہ بندی کے ذریعے شہید کر دیا گیا تودوسرے ہی لمحے فائر بریگیڈ کی گاڑیوں نے سڑک دھو ڈالی،

جمہوریت کیساتھ کھلواڑ تو غلام محمد نے شروع کیا تھا، میجر جنرل سکندر مرزا نے اسے زیادہ بے رحمی سے اختتام تک پہنچانے میں تاخیر نہیں کی،مکافات عمل دیکھئے، سکندر مرزا نے ایوب خان کی مدت ملاز مت میں دو سال کی توسیع یہ سوچ کر دی تھی کہ اس کا اقتدار محفوظ رہے گا !

سکندر مرزا نے کرسی کیلئے ہر وہ کام کیا جس سے جمہوریت کی نفی ہوسکتی تھی،اس کے نزدیک آئین جس کے تحت اس نے خود صدر کا حلف اٹھایا تھا ردی کا ٹکڑا تھابالآخر سکندر مرزا نے 1958ءکا آئین توڑ ڈالا، یہ سوچ کر اگر اس آئین کے تحت انتخابات ہوگئے تو اس سے کرسی صدارت چھین جائے گی،اس وقت کوئی ایمر جنسی کی حالت تھی نہ کوئی جواز تھا مگر آئین ٹوٹنے سے پاکستان میں پہلے مارشل لاءکی راہ ہموار ہوئی !

جنرل ضیاءالحق نے بھی اسی تجربے کودہرایا ، آئین کو محض کاغذ کا ٹکڑا قرار دیکر معطل کردیادنیا میں پاکستان برہنہ ہوگیا،

کتنی مماثلت ہے !

میجر جنرل سکندر مرزا نے آئین توڑ کر مارشل لاءکی راہ کھولی، جنرل ضیاءالحق نے مارشل لاءلگا کر آئین توڑ دیا،

جنرل ایوب خان نے ملک میں مارشل لاءلگا کر جمہوریت کے راستے مسدود کر دیئے، مخالف سیاستدانوں کیخلاف نت نئے ضابطے، مارشل لا ریگولیشنز کی دیوار یں کھڑی کر دیںمگر سوچ کو دیواریں کب روک پائی ہیں؟

صدر ایوب خان نے اپنے اقتدار کو طول دینے کیلئے اپنا نیا نظام تخلیق کیا اور اس نظام کی بنت میں اپنے اقتدار کو دس سال پر محیط کر لیا پھر دس سالہ جشن منایا گیا !

جس پر حبیب جالب نے کہا تھا،

بیس روپے من ہے آٹا،اس پر بھی ہے سناٹا،

صدر ایوب زندہ باد،صدر ایوب زندہ باد

صدر جنرل ایوب خان کیساتھ ہی اس کا نظام بھی اپنی موت آپ مرگیا،مگر جاتے جاتے وہ اقتدار جنرل یحییٰ کے حوالے کر کے ملک و قوم کو ایسا مہلک زخم لگا گیا جس سے بازو ہی کٹ گیا، بھارت کی وزیراعظم اندر اگاندھی نے خوشی سے سرشار ہو کر نعرہ لگایا،

” ہم نے ہزار سال کا بدلہ لے لیا "

ذوالفقار علی بھٹو نے بچے کھچے پاکستان کا اقتدار سنبھالا تو مجیب الرحمان بنگلہ دیش کے وزیراعظم بن گئے،

پاکستان کے نوے ہزار قیدی، ہزاروں ایکڑ سر زمین بدستور دشمن کے قبضے میں تھی،تا ہم منتخب وزیراعظم کی حیثیت سے ذوالفقار علی بھٹو قوم کو جلد ہی مایوسی کے اندھیروں سے نکال لانے میں کامیاب رہے ، ملک جمہوریت ، ترقی، خوشحالی کا کامیاب سفر شروع ہوا، عالمی برادری میں بھی پاکستان کیلئے احترام کے جذبات جنم لینے لگے ،لیکن وزیراعظم بھٹو سے بھی وہی غلطی سر زد ہوئی جس کامزا سکندر مرزا ، ایوب خان کو توسیع دیکرچکھ چکے تھے !

وزیراعظم بھٹو نے جنرل ٹکا خان کی مخالفت کے باوجود سات سینئر جرنیلوں کو بائی پاس کر کے جنرل ضیاءالحق کو مسلح افواج کا سربراہ بنا دیا، یہ سوچ کر کہ بہت تابع فرمان جرنیل ہے !

جنرل ٹکا خان نے اپنے آخری انٹرویو میں راقم کو واقعے کا احوال کچھ یوں بتایا تھا کہ ایک بار وزیراعظم بھٹو ملتان آئے تو گورنر مخدوم سجاد حسین قریشی ان کے میزبان تھے، رات کو بھٹوصاحب نے دیکھا کہ ایک اعلیٰ فوجی آفیسر رہائش گاہ کی نگرانی کر رہا ہے !

وزیراعظم کے پوچھنے پر مخدوم سجاد حسین قریشی نے بتایا کہ یہ کور کمانڈر ملتان جنرل ضیاءالحق ہیں جو وزیراعظم کی سکیورٹی کیلئے خود موجود ہیں جنرل ٹکا خان بتاتے ہیں کہ وزیراعظم بہت متاثر ہوئے، بات آگے بڑھی اور ایک دن میرے سامنے مخدوم سجاد حسین قریشی کی موجودگی میں، جنرل ضیاءالحق نے قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر ذوالفقار علی بھٹو سے وفاداری کی قسم کھائی مگر جنرل ضیاءالحق نے چار اور پانچ جولائی انیس سو ستتر کی شب اپنی قسم توڑ کر ذوالفقار علی بھٹو کی جمہوری حکومت ختم کر دی ، آئین معطل اور اسمبلیاں توڑ دی گئیں !

ذوالفقار علی بھٹو کو ایک قتل کے مقدمہ میں تختہ دار پر پہنچا دیا اس فیصلے کو دنیا بھر کے آئینی ماہرین نے عدالتی قتل قرار دیکر مسترد کر دیاپھر گیارہ برس کی طویل سیاہ رات شروع ہوئی ، افغان جنگ نے طوالت کیلئے ایندھن کا کام کیا،

جنرل ضیاءنے اقتدار پر گرفت مضبوط سے مضبوط تر کرنے کیلئے پہلے مجلس شوریٰ تخلیق کی ،پرانے سکرپٹ سے بلدیاتی نظام لیا اور پھر سماج کو مکمل طور پر غیر سیاسی بنانے کیلئے غیر جماعتی انتخاب کا ایسا زہریلا نسخہ آزمایا کہ جس نے سیاست، جمہوریت کے معنی ہی بدل ڈالے مگر حیرت ہے جنرل ضیاءالحق کو اپنا تخلیق کردہ، یہ گدلا سا سیاسی نظام بھی پسند نہیں آیا،

 وزیراعظم محمد خان جو نیجو نے ہر جگہ حقیقی جمہوریت کا نعرہ لگانا شروع کیاتو جنرل ضیاءالحق شدید سیخ پا ہوتے مگر لگتا تھا کہ محمد خان جونیجو کو زعم تھا کہ وہ سچ مچ کے وزیراعظم ہیں،سی خوش فہمی میں اوجڑی کیمپ کے دھماکے کے ذمہ داروں کو بے نقاب کرنے ہی والے تھے کہ انہیں انتیس مئی انیس سو اٹھاسی کی شام ،چین ، جاپان سمیت سہ ملکی دورے سے واپسی پر اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر ہی معزول کر کے ان کی حکومت ختم کر دی گئی ان کے بیشترکیا سارے ہی وزراءاور وزرائے اعلیٰ ہوائی اڈے سے ہی آرمی ہاﺅس چلے گئے اور انہیں تنہا ایمبیسی روڈ پر واقع مسلم لیگ ہاﺅس آنا پڑا !

 گیارہ سال بعد ملک میں جمہوریت بحال ہوئی اور ذوالفقار علی بھٹو کی جانشین بے نظیر بھٹو، وزیراعظم بن گئیں، اقتدار پر ہمیشہ سے قابض طبقے کیلئے یہ معجزہ نا قابل برداشت تھا ، لیکن یہ عوام کا فیصلہ تھا،

 انیس سو اٹھاسی میں ملک میں جمہوریت بحال تو ضرورہوئی، لیکن غیر جماعتی سوچ کا حامل نیا سیاسی طبقہ جو گیارہ برس کے اقتدار ، وسائل اور اختیارات کے ذریعے خوب پھل پھول چکا تھا، حرکت میں آیا، محلاتی سازشیں شروع ہوئیں اورجمہوریت کا چراغ پھر گل کر دیا گیا !

 انیس سو نوے میں بے نظیر حکومت ختم کر کے صدر غلام اسحاق خان نے نئے انتخابات تو کرائے مگر عوامی رائے چوری ہونے کا الزام بھی لگا، میاں نواز شریف اکثریت سے وزیراعظم منتخب ہوگئے، انہوں نے جنرل ضیاءالحق کے مشن کو پورا کرنے کے نعرے لگائے مگر بات انکی بھی نہ بن سکی

صدر غلام اسحاق خان اور وزیراعظم میاں نواز شریف کے مابین اختیارات کی جنگ شروع ہوئی، جو اتنی بڑھی کہ دونوں کو گھر جانا پڑا،

 آئین میں پیوست زہریلی شق آٹھویں ترمیم کے ذریعے جمہوری حکومتوں کو ریت کے گھروندے کی طرح توڑنے کا سلسلہ دس برس تک جاری رہا،

محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف دو دو بار وزیراعظم بنے مگر اپنی آئینی مدت پوری نہ کر سکے،

جس کے ذمہ دار بڑی حد تک وہ خود بھی تھے، جنہوں نے آپس کے سیاسی اختلافات کو دشمنی میں بدل کر حالات کو بار بار بند گلی میں پہنچایا،

سیاسی انتقام کے مقابلے میں بد ترین کہانیاں رقم کیں،جس میں نوازشریف کا پلڑا بھاری رہا،

 نواز شریف کو دوسری بار حکومت ملی تو انہوں نے بھی ذوالفقار علی بھٹو کی غلطی دہرائی ، جنرل علی قلی خان کے بجائے جنرل پرویز مشرف ان کی پسند پر پورے اترے جنہوں نے بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے کو نواز شریف کی حکومت ختم کر کے انہیں اپنا طیارہ ہائی جیک کرنے کے الزام میں گرفتار کر کے پورے ملک کو ہی ” ہائی جیک“ کر لیا،

باقی کہانی تو ابھی تازہ ہے،بے نظیر بھٹو تو پہلے ہی جلا وطن تھیں،

جنرل پرویز مشرف نے میاں نواز شریف کو بھی ایک معاہدے کے تحت سعودی عرب دس سال کیلئے جلا وطن کر دیا،

جب دونوں سابق وزراءاعظم جلا وطن ہوئے، نواز شریف کو بھی پہلی بار آمریت ، جمہوریت کا فرق معلوم ہوا،

جمہوریت، جدوجہد کے ذائقے سے آشنا ہوئے، نوابزادہ نصراللہ خان کی کوششوں سے دونوں جلاوطن رہنماﺅں نے ماضی بھلادینے کا فیصلہ کیااگرچہ بینظیربھٹوکیلئے یہ مشکل تھا کہ وہ نوازشریف کی ناقابل برداشت زیادتیوں کو بھول جاتیںمگر انہوں نے ایک لیڈر ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے میثاق جمہوریت پر دستخط کرنے میں دیر نہیں کی، یہ دستاویز دونوں کی واپسی کا راستہ بنی لیکن یہ واپسی پاکستان اور اس کے لوگوں کو پھر زخم دے گئی، بےنظیر بھٹو کو لیاقت باغ میں منظم سازش کے تحت شہید کر دیا گیا، ریاست تہہ و بالا ہوگئی ، خواب پھربکھرگئے ، اٹھارہ فروری کے انتخابات ہوئے بے نظیر بھٹو کا لہو رنگ لایا،وفاق میں پیپلز پارٹی اور پنجاب میں مسلم لیگ(ن) کی حکومت بنی،پھرمکافات عمل جنرل مشرف کو جلا وطن ہونا پڑا،

 صدر آصف علی زر داری نے مفاہمت کی سیاست کو بنیاد بنایا ، جو تین سال کامیابی سے چلی، مفاہمت نے آئین کی بحالی، آزاد عدلیہ، آزاد میڈیا، آزاد سیاست تو دی مگر لوگوں کے دن رات نہیں بدلے،”پھرمفاہمت تھک سی گئی ، پیپلز پارٹی کو دو ہزار تیرہ کے انتخاب میں مفاہمت کی قیمت چکانا پڑی ، نوازشریف تیسری بار وزیراعظم منتخب ہوئے تو اس وقت تک عمران خان کی صورت میں ایک تیسری سیاسی قوت نمودارہوچکی تھی اپوزیشن کی شکل میں جس نے شریف حکومت کو ویسے ہی حالات سے دوچارکردیا جس طرح میاں نوازشریف اپنے ادوار میں بینظیر حکومت کا گھیراﺅ کیاکرتے تھے ، ایک مرحلہ پرتو نوازحکومت پہلے برس ہی گرنے لگی تھی مگر قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی بڑی جماعت پیپلزپارٹی سمیت تمام پارلیمانی جماعتیں جمہوریت کے آگے دیوار بن گئیں ، حکومت بچ گئی مگر نوازشریف کاطرزحکومت تبدیل نہ ہوسکا، عمران خان مسلسل تعاقب میں تھے ، دورکہیں جنم لینے والے پانامہ کہانی کا مسودہ عمران خان کے ہاتھ ایسا لگا کہ سید یوسف رضا گیلانی کے بعد ایک اور منتخب وزیراعظم شارع دستور کے ترازو پر جھول گیا !!

آج پھر یوم آزادی ہے،

وطن ستر برس کا ہوگیا ،

مبارک ہو !!