پانی میں سنکھیا، فلورائڈ، نائٹریٹ اور بیکٹیریا

پانی میں سنکھیا، فلورائڈ، نائٹریٹ اور بیکٹیریا

عون علی…

 پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو بنیادی انسانی حق کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے جس کی فراہمی ریاست کا بنیادی فرض ہے، تاہم پاکستان میں کم ازکم 60 فیصد شہری اور 84 فیصد کے قریب دیہی آبادی پینے کے صاف پانی کی سہولت سے یکسر محروم ہے اور آلودہ پانی کے استعمال سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی شرح میں ہر سال کئی گنا اضافہ ہورہا ہے۔

 امریکی امدادی ادارے یو ایس ایڈ کے مطابق پاکستان میں آلودہ پانی کے استعمال سے اسہال، ہیضہ، ٹائیفائیڈ اور یرقان جیسی موذی بیماریاں پیدا ہورہی ہیں جس کے نتیجے میں ہر سال پانچ برس سے کم عمر کے اڑھائی لاکھ سے زائد بچوں کی موت واقع ہو جاتی ہے۔

 یو ایس ایڈ کی تحقیق کے مطابق پینے کے لیے صاف پانی مہیا کیا جائے تو پانی کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماریوں میں 50 فیصد سے زیادہ کمی کی جاسکتی ہے۔ پینے کے پانی کی فراہمی کا باقاعدہ نظام نہ ہونے کی وجہ سے پانچ کروڑ کے قریب آبادی زرعی استعمال کے پانی کو پینے کے لیے بھی استعمال کرتی ہے۔

 صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے کنزیومر رائٹس کمیشن آف پاکستان (سی آر سی پی) کے مطابق پاکستان میں ہر پانچواں بچہ پانی کی وجہ سے پیدا ہونے والے امراض میں مبتلا ہے۔ یونیسف کی طرف سے جاری کیے گئے ایک جائزے کے مطابق پاکستان میں ہسپتالوں میں داخل 20 سے 40 فیصد مریض آلودہ پانی کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں جس کی وجہ سالانہ 33فیصد اموات واقع ہوتی ہیں ۔

ملک میں پانی کےتحقیقاتی ادارے پاکستان کونسل آف ریسرچ آن واٹر ریسورسز (پی سی آر ڈبلیو آر) کی طرف سے یونیسف کے تعاون سے شروع کیے گئے نیشنل واٹر کوالٹی مانیٹرنگ پروگرام کے تحت زیر زمین پانی کے معیار کے حوالے سے کیے جانے والے تجزیوں سے واضح ہوتا ہے کہ بیشتر علاقوں کے زیر زمین پانی میں زہریلے مادوں آرسینک (سنکھیا)، فلورائڈ ، نائٹریٹ اور بیکٹیریا کی مقدار خطرناک حدتک بڑھ چکی ہے۔ پانی کے اس تحقیقاتی پروگرام کے تحت اسلام آباد، راولپنڈی، گجرات، گوجرانوالہ، شیخوپورہ، فیصل آباد، لاہور،قصور،ملتان، بہاولپوراور حیدرآباد سمیت 27 شہروں سے حاصل کیے گئے پانی کے تجزیوں سے ثابت ہوا کہ ملتان سے حاصل کیے گئے پانی کے 75فیصد نمونے، بہاولپور کے 60 فیصد، شیخوپورہ کے 45فیصد، قصور کے30 فیصد اور لاہور کے 31 فیصد نمونوں میں آرسینک کی مقدار عالمی ادارہ صحت کی طرف سے مقرر کردہ معیار کے مطابق انسانی استعمال کے قابل پانی میں آرسینک کی شرح سے کئی گنا زیادہ تھی۔

 پی سی آر ڈبلیو آر کی طرف سے 2003 میں مختلف شہروں میں کیے گئے تجزیوں کے مطابق لاہور سے حاصل کیے گئے پانی کے 100 فیصد نمونے، ملتان سے94 فیصد، بہاولپور سے 68 فیصد ،شیخوپورہ سے 64 فیصد، گوجرانوالہ سے43 فیصد، قصور سے 40 فیصد، اور سیالکوٹ سے حاصل کیے گئے پانی کے 10 فیصد نمونوں میں آرسینک کی مقدار خطرناک حدتک زیادہ تھی۔

اِن نمونوں کے مطابق پانی میں پائی جانے والی آرسینک کی مقدار100سے200 مائیکرو گرام فی لٹرتک تھی۔ واضح رہے کہ عالمی ادارہ صحت کے مقررہ معیار کے مطابق انسانی استعمال کے قابل پانی میں آرسینک مقدار 10 پی پی بی (پارٹس پر بلین) سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے تاہم پاکستان سینڈرڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی( پی ایس کیوسی اے)50 پی پی بی تک آرسینک کو صحت کے لیے نقصان دہ قرار نہیں دیتا۔

پی سی آر ڈبلیو آر کی طرف سے کیے گئے اس نوعیت کے تجزیوں سے ثابت ہوا ہے کہ سندھ کے علاقے سے حاصل کیے گئے پانی کے 95 فیصد نمونے بیکٹیریا اور خطرناک کیمیائی اجزا سے آلودہ تھے۔ تحفظ ماحولیات کے ادارے (ای پی اے) کی طرف سے لاہور، ملتان، شیخوپورہ، گوجرانوالہ، قصور، بہاولپور اور ملتان سمیت چودہ اضلاع سے لیے گئے 280 میں سے 239 یا85 فیصد نمونوں کا پانی انسانی استعمال کے لیے مضر ثابت ہوا۔ جبکہ قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) بھی یہ انکشاف کر چکا ہے کہ اسلام آباد میں 75 فیصد اور راولپنڈی میں 87 فیصد پانی انسانی استعمال کے لیے خطرناک ہے۔

پاکستان کونسل آف ریسرچ آن واٹر ریسورسز کے تجزیے کے پانچویں اور اب تک کے تازہ ترین دور میں ملک بھر سے پانی کے 357 نمونے اکٹھے کیے گئے۔ اس کی رپورٹ کے مطابق صرف 45 نمونوں کا پانی پینے کے قابل قرار دیا گیا جبکہ312 نمونوں سے حاصل ہونے والا پانی مضر صحت ثابت ہوا۔ 68 فیصد نمونوں میں بیکٹیریا کی شرح خطرناک حد تک زیادہ تھی، 24 فیصد میں آرسینک کی شرح، 13 فیصد میں نائٹریٹ جبکہ 5 فیصد نمونوں میں فلوارئیڈ کی شرح پینے کے پانی کے معیار سے کئی گنا زیادہ ثابت ہوئی۔

 اس طرح پی سی آر ڈبلیو آر کے نیشنل واٹر کوالٹی مانیٹرنگ پروگرام کے تجزیوں کے جائزے سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ پچھلے چند سال کے دوران اسلام آباد کے پانی میں آلودگی کی شرح 40 فیصد سے بڑھ کر 75 فیصد تک پہنچ چکی ہے، لاہور میں 37 فیصد سے بڑھ کر 63 فیصد تک، ملتان میں 31 فیصد سے 87 فیصد تک جبکہ ان چار برسوں میں راولپنڈی کے پانی میں آلودگی کی شرح 53 فیصد سے بڑھ کر 87 فیصد تک پہنچ چکی تھی۔

صنعتی فضلے اور آلودہ پانی کا نہروں اور دریاﺅں میں بہاﺅ پاکستان میں زیر زمین پانی کی آلودگی کا بڑا سبب قرار دیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں اسہال، ہیضہ، یرقان اور ٹائیفائیڈ جیسی بیماریوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں صرف ایک فیصد کے قریب صنعتی فضلہ اور آلودہ پانی کو سائنسی طریقے سے ٹھکانے لگایا جاتا ہے جبکہ روزانہ تقریباً چھ ہزار ملین گیلن سے زائد آلودہ پانی اور صنعتی فضلہ دریاﺅں اور نہروں میں گرادیا جا تا ہے۔

 پاکستان واٹر اینڈ سینی ٹیشن انلائسز کے مطابق لاہور، فیصل آباد اور کراچی جیسے بڑے صنعتی شہروں میں پانی کو صاف کرنے کے پلانٹ نصب ہیں تا ہم ان میں سے اکثر یا تو خراب ہیں یا انہیں سرے سے چلایا ہی نہیں گیا جبکہ دیہی علاقوں میں اس طرح کے ٹریٹمنٹ پلانٹس کا وجود ہی نہیں ہے۔

آرسینک (سنکھیا) بے رنگ، بے بو اور بے ذائقہ مادہ ہے اور ماہرین کے مطابق پانی میں پائی جانے والی اس کی ہلکی مقدار کے بعض اوقات انسانی صحت پر جلد اثرات ظاہر نہیں ہوتے جس کی وجہ سے صارفین کو پانی میں آرسینک کی آلودگی کا احساس نہیں ہوتا۔ مگر پینے کے پانی میں آرسینک کی زیادہ مقدار پھیپھڑوں، جلد، مثانے، گردوں اور جگر کے کینسر کا سبب بن سکتی ہے۔ آرسینک سے انسان کا نظام قلب متاثر ہو سکتا ہے اور بلڈ پریشر کامرض بھی ہو سکتا ہے۔

 لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی میں شعبہ ماحولیات کی سربراہ کے مطابق مختلف تحقیقات میں ثابت ہونے والی پانی میں پائی جانے والی آرسینک کی مقدار انسانی صحت کے لیے فوری طور پر خطرے کا باعث نہیں بنتی تاہم ان کا کہنا تھا کہ صنعتی فضلے کو تلف کرنے کے عمل میں عالمی معیار کے ضابطوں پر عمل نہ کرنے اور گندے پانی کو صاف کیے بغیر نہروں اور دریاﺅں میں گرانے کا سلسلہ بدستور جاری رہا تو اگلی ایک دہائی میں ملک کے بیشتر علاقوں کے زیر زمین پانی میں آرسینک ، فلورائیڈ، نائٹریٹ یا دیگر خطر ناک مادوں کی مقدار میں خوفناک اضافہ خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

 کیمیائی کھاد اور زرعی ادویات کے استعمال میں اضافہ بھی زیر زمین پانی کی آلودگی میں اضافے کی ایک بڑی وجہ قرار دیا جاتاہے۔ پچھلی قریب نصف دہائی کے دوران ملک بھر میں زرعی ادویات اور کھادوں کے استعمال میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ کیمیائی کھادوں اور زرعی دواوں کے اجزا فصلوں کو سیراب کرنے والے پانی کے ساتھ مل کر زیر زمین پانی کی آلودگی کا باعث بنتے ہیں۔ 1988 سے 2000 کے درمیان حاصل کیے گئے پانی کے 107 نمونوں میں سے نصف کے قریب نمونوں میں زرعی دواوں کے اجزا کی شرح عالمی ادارہ صحت اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت ( ایف اے او) کی طرف سے مقررہ معیار کی حد سے کئی گنا زیادہ ثابت ہوئی۔

 1990 کی دہائی میں ضلع فیصل آباد میں ایک ہزار مربع کلومیٹر کے رقبے میں زیر زمین پانی میں زرعی ادویات کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے دس سے پندرہ میٹر گہرائی سے پانی کے دس نمونے حاصل کیے گئے جن میں سے سات نمونے ایک یا ایک سے زائد زرعی دواﺅں کے اجزا سے آلودہ ثابت ہوئے۔ گزشتہ کم ازکم نصف دہائی کے دوران اجناس کی قیمتوں اور کھپت میں قریب دوگنا اضافے کے نتیجے میں اور زرعی پیداوار میں اضافے کی غرض استعمال کی گئی کیمیائی کھادوں اور ادویات کی اضافی مقدار زیر زمین پانی میں کیمیائی آلودگی میں کس قدر اضافے کا سبب بنی ہے اس پر تازہ تحقیق کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں قریب چھ دہائیوں تک پینے کے پانی کے حوالے سے حکومتی سطح پر کوئی پالیسی وضع نہیں کی گئی۔ اس نوعیت کی پہلی قومی پالیسی 2007 میں سامنے آئی۔ پینے کے پانی کی قومی پالیسی یا نیشنل ڈرنکنگ واٹر پالیسی (این ڈی ڈبلیو پی) میں شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو صوبائی حکومتوں کی آئینی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے۔ اس پالیسی کے مطابق وفاقی محکمہ صحت کو عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے پینے کے پانی کے معیار کو مد نظر رکھ کر قواعد و ضوابط وضع کرنے چاہئیں۔ مارچ 2007 میں محکمہ ماحولیات کی طرف سے وضع کی گئی اس پالیسی میں کہا گیا کہ شہریوں کو قابل برداشت نرخوں پر پینے کے پانی کی پائیدار فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور پینے کے پانی کے معیار میں بہتری کے ذریعے پانی کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماریوں اور اموات کی شرح میں کمی کی جائے۔ اس پالیسی میں تسلیم کیا گیا ہے کہ پینے کے لیے صاف پانی ہر شہری کا بنیادی حق ہے جس کی فراہمی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔