انصار الشریعہ شدت پسند گروہ کا سرغنہ گرفتار

انصار الشریعہ شدت پسند گروہ کا سرغنہ گرفتار

نمائندہ ہم شہری…

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کراچی میں انصارالشریعہ نامی شدت پسند گروہ کے سربراہ کو گرفتار کرلیا ہے۔شہر یار عبداللہ ہاشمی نام کا یہ دہشت گرد کراچی کی این ای ڈی یونیورسٹی کے آئی ٹی ڈپارٹمنٹ میں ملازم تھا اور اس نے فزکس میں ماسٹر ڈگری حاصل کر رکھی تھی۔

شہریار عبداللہ ہاشمی کو سیکیورٹی فورسز نے گذشتہ رات کنیز فاطمہ سوسائٹی میں کارروائی کے دوران حراست میں لیا۔ آپریشن کے دوران شہر یار عبداللہ سمیت 6 سے زائد دہشت گردوں کو حراست میں لیا گیا۔

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار الحسن پر حملے کے ملزمان کی گرفتاری کے لئے کراچی میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں۔

2 ستمبر کو خواجہ اظہار پر حملے میں مارا جانے والا دہشت گرد حسان اسرار بھی انجینئرنگ یونیورسٹی کا لیکچرار اور پی ایچ ڈی ہولڈر تھا۔جبکہ اس حملے کا مبینہ ماسٹر مائنڈ عبدالکریم سروش بھی کراچی یونیورسٹی میں شعبہ اپلائڈ فزکس کا طالبعلم تھا جو اب تک مفرور ہے۔

انصار الشریعہ پاکستان یا جماعت النصار الشریعہ نام کا یہ شدت پسند گروہ 2017 میں کراچی میں تشکیل دیا گیا۔ اس میں زیادہ تر کراچی کی جامعات کے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان شامل ہیں۔ اس تنظیم کو تحریک طالبان پاکستان کا ایک زیلی دھڑا تصور کیا جاتا ہے۔ یہ تنظیم اگرچہ القاعدہ کے ساتھ بظاہر کوئی تعلق نہیں رکھتی مگر اس کے نظریات القاعدہ سے متاثر ہیں۔

(تصویر بشکریہ جیو نیوز)