بیانیہ کون بدلے گا

بیانیہ کون بدلے گا

منشا فریدی…

اس وقت بحیثیت قوم ہماری تمام تر توجہ اس مسئلے پر ہے کسی طرح وطن عزیز سے دہشت گردی کا خاتمہ ہو۔ ریاست سے قتل وغارت اور شورش کا مکمل قلع قمع ہو ۔ تعلیمی ادارے ،عبادت گاہیں اورپبلک مقامات محفوظ ہوں۔ فتووں کی تلوار واپس نیام میں چلی جائے تاکہ ترقی یافتہ،پر امن اور تعمیری اقدار کا حامل شعور پنپ سکے اور مردا سماج کی سوچ نکھرکر جینے کے قابل ہوسکے۔
لیکن یہ سب کچھ نا ممکن ہے کیونکہ اس ضرر رساں بیانیے کو عوامی سطح پر مضبوط کیا جارہا ہے ۔جس نے ہمارے فوجی جوانوں کے گلے کاٹے ۔قتل عام پر ایک عام آد می کو اکسایا ۔تعلیمی اداروں میں ہمارے معصوم بچوں کو خون میں نہلادیا۔ ذہن سازی کا جو فارمولا طے پایا گیا ہے اس کے تحت ہماری انتظامیہ بھی ایک طرح سے دہشت گردی کی معاون ہے ۔
ایک طرف تو یہ شور ہے کہ ملک سے شدت و انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی مگر دوسری طرف جب ایک عام آدمی کو ااس بحث میں الجھا ہو اپاتے ہیں کہ” شہید اسامہ بن لادن ہمارا امیر ہے“، تو شک یقین میں بدل جاتا ہے کہ ممکن ہی نہیں پاکستان سے دہشت گردی کا رائج فارمولاختم ہو۔
راقم نے باربار اپنی تحریروں میں اس بات پر زور دیا کہ نصاب تبدیل کیا جائے تاکہ بچپن سے ہوئی ہمار ی ذہن سازی کا رخ تبدیل ہو سکے۔ ہم اپنی آئندہ نسل میں مثبت فکر انجیکٹ کر سکیں ۔کہیں بھی چائے کے ڈھابے پر بیٹھے عام آدمی سے جب آپ فرقہ وارانہ بنیادوں پر چلنے والے مدارس کے حوالے سے محض اس کا مائنڈ سیٹ چیک کرنے کے لیے بات کر کے دیکھیں جو صر ف اور صرف کاروباری مقاصد کے لیے قائم کیے گئے ہیں کہ ان مخصوص مدارس کو دہشت گردوںکی نرسری قرار دے کر پابندی لگادی جائے تو رد عمل کے طور پر مخاطب توہین مذہب کا مرتکب کہہ کر اسلام کی خودساختہ تشریح کی روشنی میںآپ کو جہنم واصل کر دے گا۔
کچھ اسی طرح کی ”ایمانی“ و ذہنی کیفیت ہمارے تفتیشی افسران کی بھی ہے۔ پولیس اسٹیشنز میں تفتیشی افسران زیر حراست افراد کی جب جسمانی چھترول کرتے ہیں توسب سے پہلے ان سے نماز سنی جاتی ہے جب کہ ملزم کی تفتیش میں قانونی حوالے سے یہ عمل کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ علاوہ ازیں تعلیمیاداروں میں تعینات کر نے سے قبل اساتذہ کی نفسیاتی حالت کا ضرور جائزہ لیا جائے کہ کہیں یہ حضرات تعلیم میں شدت پسندی اور دہشت گردی کے اجزا تو شامل نہ کردیں گے؟