دبئی کی جگمگاتی دنیا میں آرزوں کے زخم

دبئی کی جگمگاتی دنیا میں آرزوں کے زخم

حسنین جمیل…

دبئی جانا، رہنا اور پیسہ کما کر اپنے اپنے وطن بھیجنا آج سے نہیں 70 کے عشرے سے جاگتی آنکھوں کا ایسا دلکش خواب بنا ہوا ہے کہ کوئی اس سے باہر آنا ہی نہیں چاہتا۔

دبئی ان گنت لوگوں کے لئے انتہائی پرکشش، ڈھیروں لوگوں کے لئے سپنوں کی سرزمین، اورلاتعداد افراد کے خوابوں کی تعبیرہے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ جنوبی ایشیا کے بےروزگاروں، غریبوں اور بے سہاروں کی آرزوں کا محل بھی ہے۔ بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال اور کتنے ہی دوسرے ترقی پذیرممالک کے شہری دبئی جانے کے خواہشمند ہیں۔ لیکن وہ دبئی کا صرف ایک رخ دیکھتے ہیں، دوسرا نہیں۔ یہ دوسرا رخ اکثر و بیشتر دبئی آکر ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ رنگ برنگی روشنیوں اور چمک دمک کے پیچھے ہزاروں کہانیاں ہیں۔ بلکہ یوں کہیے کہ یہاں آنے والا ہر شخص ایک کہانی کے ساتھ یہاں آتا ہے اور یہاں آکر بھی ایک ایسی کہانی کے گورکھ دھندے میں الجھ جاتا ہے، جس کے بارے میں اکثر اوقات وہ کسی کو نہیں بتاتا اور چپکے چپکے کڑوے گھونٹ گلے سے نیچے اتارتا رہتا ہے۔

گزشتہ ماہ اپنی ایک ساتھی صحافی کے ہمراہ عرب امارات جانے اور ایک ہفتہ قیام کرنے کا پروگرام بنا۔ ہمارے اس پروگرام کا مقصد عرب امارات میں مقیم پاکستانی مزدوروں کے حالات و مشکلات کے بارے میں جانکاری حاصل کرنا اور اس پر رپورٹ بنانا تھا، پروگرام کے مطابق ہمارا قیام دبئی میں ہوا، جبکہ قریبی ریاستوں شارجہ، ابو ظہبی اور عجمان میں موجود مزدوروں کے کیمپس کے دورے اور ان سے گفتگو کاموقع بھی ملا۔

 انسانی حقوق کے ایک ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق عرب امارات میں ساڑھے سترہ لاکھ سے زائد بھارتی کارکن رہتے ہیں جبکہ دوسرے نمبر پرپاکستانی مزدور ہیں جو کہ تعداد میں گیارہ لاکھ کے لگ بھگ ہیں جو کہ امارت میں کسی بھی ملک کے مزدوروں کی سب سے زیادہ تعداد ہے، کیونکہ بھارتی کارکنوں میں سے ایک مخصوص تعداد بہتر اور معقول ملازمت پیشہ افراد کی بھی ہے، جبکہ پاکستانیوں کی اکثریت نچلے درجے کے مزدوروں کی ہے۔

دوسری جانب پاکستانی ایجنٹوں کے اپنے اعدادوشمار کے مطابق امارات میں ہر پانچ میں سے تین مزدور پاکستانی ہیں۔ دبئی قیام کے دوران اندازہ ہوا کہ امارات میں بے شمار مزدور اورعام ورکرز رہائش پذیر ہیں جو دبئی کو رونق بخشنے والی بلند و بالا عمارتوں، دفاتر اور شاپنگ مالز کی تعمیر میں اپنا خون پسینہ ایک کرتے ہیں، مگر” خوشحالی”، جس کے خواب آنکھوں میں بسائے وہ وہاں جاتے ہیں، اکثر وہ ان سے دور ہی رہتے ہیں۔ امارات میں بیشتر مزدور ایسے ہیں جن کو ایک ہزار درہم (270ڈالر) ماہانہ سے بھی کم تنخواہ ملتی ہے۔

دبئی میں مزدوروں کو کئی طرح کے مسائل پیش آتے ہیں، مثلاً تنخواہیں نہ ملنا یا کئی کئی مہینے بعد ملنا، اوور ٹائم کے بغیر زیادہ کام کرایا جانا، بھرتی کے وقت زیادہ فیسیں، تنہائی، گھرکی یادیں، پاسپورٹوں پر ٹھیکداروں کا قبضہ اور آزادانہ آمدروفت پر پابندی۔ ان مسائل کا سامنا کم وبیش وہاں ہر غیر ملکی مزور کوکرنا پڑتاہے۔ اور جن کا وہ کسی سے ذکر بھی نہیں کرسکتا۔ یہ مسائل اسے اندر سے کھوکھلا، کم ہمت، مایوس اور بزدل بنادیتے ہیں۔

متحدہ عرب امارت کے شہر دبئی سے جب کوئی پاکستانی مزدور ملک واپس آتا ہے تو سفید کپڑے پہنے گولڈن رنگ کی گھڑی ، گولڈن فریم والے چشمے اور پرفیوم لگا کر جب عزیز رشتہ داروں اور دوست احباب سے ملتا ہےتو سب اس کی ظاہری حلیے کو دیکھ کر یہی سمجھتے ہیں کہ خلیجی ممالک میں لوگ بہت زیادہ پیسے کما رہے ہیں اور خوشحال بھی ہیں لیکن شاید انہیں حقیقت معلوم نہیں کہ وہاں مزدو شدید گرمی میں تھوڑے سے پیسوں کی خاطر جان جوکھوں میں ڈال کر اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پال رہے ہیں۔

متحدہ عرب امارت میں کام کرنے والے اکثریتی پاکستانیوں کا تعلق مزدور طبقے سے ہے۔ یہ مزدور سخت گرمی میں دن کے وقت ورکشاپس، دوکانوں، زیر تعمیر عمارات اور ہوٹلوں میں کام کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ دن کے وقت وہاں اتنی سخت گرمی پڑتی ہے کہ باہر کام کرنے والے مزدوروں کے پسینے سے شرابور کپڑوں کو دیکھ کر یہ گمان ہوتا ہے کہ جیسے وہ ابھی ابھی کسی چشمے میں کپڑوں سمیت نہا کر نکلے ہوں۔ سخت محنت مزدوری کی وجہ سے ان محنت کشوں کے چہرے بھی پہچاننے کے قابل نہیں ہوتے۔ شارجہ میں گاڑیوں کی ورکشاپ میں کام کرنے والے ڈیرہ غازی خان کے ایک نوجوان محمد راشد نے گفتگو کے دوران بتایا کہ انہیں پہلی مرتبہ جب دبئی کا ویزا ملا تو وہ بہت زیادہ خوش تھے کہ بڑی بڑی عمارتیں اور عیش و عشرت کی زندگی ہوگی لیکن یہاں آکر وہ پھنس گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اکثر لوگ دبئی آکر دھوکہ کھا جاتے ہیں، وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہاں بڑی آرام اور عیش کی زندگی ہوگی لیکن جب وہ یہاں پہنچتے ہیں تو تب جاکرانہیں حقیقت معلوم ہوتی ہے لیکن اس وقت تک وہ دھوکہ کھا چکے ہوتے ہیں کیونکہ انہیں اب ویزے کے پیسے بھی واپس کرنے ہوتے ہیں اور بیوی بچوں کے لیے کچھ کمانا بھی ہوتا ہے۔

 یہاں مزدوروں کی زندگی ہر لحاظ سے انتہائی کٹھن ہے۔ ان کو کام بھی زیادہ اور سخت کرنا پڑتا ہے لیکن پیسے اتنے نہیں ملتے جتنا ان سے کام لیا جاتا ہے، بس اسی امید پر زندگی گزار رہے ہیں کہ کسی اچھی جگہ نوکری لگ جائے ورنہ موجودہ نوکری سے تو کوئی امید نہیں رکھی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ یہاں اپنوں کی بہت یاد آتی ہے۔

قلعہ عبد اللہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ایک مزدور محمد یعقوب نے بتایا کہ دبئی آنے سے قبل انہیں اندازہ نہیں تھا کہ یہاں اتنی مشکل زندگی ہوگی ورنہ وہ اس ملک کا نام ہی نہیں لیتے۔ان کا کہنا تھا کہ ایجنٹ نے یہاں کا ویزہ دینے سے قبل بہت سارے سنہری خواب دیکھائے تھے اور وہ یہ سمجھتے تھے کہ یہاں بڑی آرام اور عیش کی زندگی ہوگی لیکن جب وہ یہاں پہنچےتب جاکرانہیں حقیقت معلوم ہوئی کہ وہ دھوکہ کھا چکے ہیں۔

پنجاب کے شہر ساہیوال کے محمد راشد نے کہا کہ پاکستان میں ان کا اپنا آٹو رکشہ تھا جس سے ان کا گزر بسر ہوتا تھا لیکن اب تو وہ بھی نہ رہا کیونکہ یہاں آتے ہوئے انہوں نے ویزہ خریدنے کے لیے رکشہ بیچ دیا تھا۔ محمد ارشد سے جب پوچھا گیا کہ پردیس میں آکر ان کو بیوی بچے یاد آتے ہیں تو یہ بات سن کر ان کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور درد بھرے لہجے میں کہا کہ رات کو جب میں چاند دیکھتا ہوں تو خوب روتا ہوں اور یہی کہتا ہوں اس وقت پاکستان میں میرے بیوی بچوں اور ماں کو بھی یہ چاند نظر آرہا ہوگا۔

 پاکستان سے آنے والے اکثر مزدور باقاعدہ معائدہ یا کسی ایگریمنٹ کے تحت نہیں آتے جس کی وجہ سے وہ اکثر اوقات دھوکہ بھی کھا جاتے ہیں۔ پاکستان میں مختلف کمپنیاں ان مزدوروں کو ہزار سے پندرہ سو درھم (تیس سے چالیس ہزار روپے) ماہوار تنخواہ پر بھرتی کرلیتے ہیں لیکن چونکہ کوئی باقاعدہ معاہدہ نہیں ہوتا اسی وجہ سے متحدہ عرب امارت پہنچ کر ان کو وہ تنخواہ نہیں ملتی جن کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے جبکہ کام بھی ان سے زیادہ لیا جاتا ہے۔

عجمان میں ایک پاکستانی کنسٹرکشن کمپنی کے مالک ذوالفقار خان نے بتایا کہ انڈیا سے جب کوئی مزدور خلیجی ممالک میں آتا ہے تو وہ ایک باقاعدہ لیبر کنٹریکٹ کے تحت آتا ہے جس کی وجہ سے ان کے ساتھ کوئی کمپنی دھوکہ نہیں کرسکتی لیکن پاکستانیوں کا کوئی کنٹریکٹ لیٹر نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ امارت میں زیادہ تر پاکستانی مزدور کم اجرت پر کام کرتے ہیں جس سے ان کا گزارہ نہیں ہوتا اور ان میں کچھ لوگ جرائم کا بھی شکار ہو جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان کو اس بات کا سختی سے نوٹس لینا چاہیے اور یہاں کام کرنے والے بے سہارا مزدوروں پر رحم کرنا چاہیے جو انتہائی مشکل حالات میں پردیس میں کام کر رہے ہیں۔

 یہ مزدور جب سارا دن سخت گرمی میں تھک کر اپنے اپنے ڈیروں پر آرام کے لیے پہنچتے ہیں تو وہاں بھی ان کو رہائش کی کوئی خاص سہولیات حاصل نہیں۔ متحدہ عرب امارت میں اکثریتی مزدور لیبر کمیپوں میں مقیم ہیں جہاں ان کو رات کے وقت ائر کنڈیشن کی سہولت تو میسر ہے لیکن دس سے پندرہ افراد ایک کمرے میں رہائش پزیر ہوتے ہیں۔ کئی مزدور ورکشاپس کے ساتھ بنے ہوئے چھوٹے چھوٹے کمروں میں مقیم ہیں جہاں انہیں مشترکہ بیت الخلا استعمال کرنا پڑتا ہے۔

 تاہم کچھ پاکستانی مزدوروں کا کہنا ہے کہ یو اے ای میں مشکلات ضرور ہیں لیکن پاکستان میں اس سے زیادہ مسائل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کم از کم نوکری اور بجلی تو ہے مگر وہاں تو بے روزگاری ہے اور بنیادی سہولیات کا شدید فقدان پایا جاتا ہے۔ اور اسی وجہ سے کوئی بھی پاکستانی مزدور کسی صورت پاکستان واپس آنے کے لئے تیار نہیں۔

دبئی میں قیام کے دوران دبئی کے ایک علاقے سونا پور لیبر کیمپس جانے کا اتفاق ہوا ،جہاں بہت تعداد میں پاکستانی مزدور رہتے ہیں، یہ مزدور ہمیں مل کے بہت خوش ہوئے اور اپنے اپنے جذبات کا اظہار کرنے لگے۔ سونا پورلیبر کیمپس کے رہائشی پاکستانی مزدوروں کے مطابق ایک پاکستانی مزدورعبدالمنان نے گزشتہ سال دبئی میں دنیا کی سب سے اونچی 163 منزلہ عمارت برج خلیفہ سے کود کر خود کشی کرلی، یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق صبح سات بجے پیش آیا، تاہم مقامی حکومت نے اس خبر کو دبایا حتیٰ کہ مقامی اخبارات میں اس خبر کو شائع نہیں کیا گیا۔

عبدالمنان کے ایک ساتھی مزدورمحمد واصف نے بتایا کہ اس روز منان معمول کے مطابق عمارت کی 147ویں منزل پر واقع اپنے کام پر پہنچا اس نے ایک گھنٹے تک روز کی طرح کام کیا مگر پھر اچانک جانے کیا ہوا کہ 30 سالہ عبدالمنان جو ایک بیٹے کا باپ بھی تھا اس منزل پر موجود ایک دفتر کی کھڑی کا شیشہ توڑتا ہوا نیچے آگرا۔ایک سو آٹھویں منزل پر لگے جال تک پہنچتے پہنچتے اس کے جسم اور روح کاناطہ ٹوٹ چکاتھا۔

اس کے ساتھ کام کرنے والے روم میٹ اور ہم وطن ایک دوست جبار کا کہنا ہے کہ وہ منان کو سات برسوں سے جانتا تھا۔ خود کشی کے دن بھی وہ بالکل نارمل تھا۔ اسے بھی معلوم نہیں ہے کہ خودکشی کی وجہ کیا تھی۔ بس وہ صرف اس قدر جانتا تھا کہ منان اپنی شادی کے بعد مستقل طور پر گھر واپس جانا چاہتا تھا۔ اسے وطن اور اپنے گھروالوں کی یاد ستا رہی تھی جبکہ یہاں کام سے اسے فوری چھٹی ملنا ممکن نہیں تھا لہذا وہ مایوسی کے عالم میں اپنی جان گنوا بیٹھا۔

وہ دس سال پہلے دبئی آیا تھا۔ یہاں آکر اسے معلوم ہوا کہ اس کے پیچھے اس کے آبائی گاﺅں میں خاندانی وراثت کے چکر میں آپس میں شدید جھگڑے ہورہے ہیں اور ان جھگڑوں میں اس کے چھوٹے بھائی کی جان بھی چلی گئی۔ بھائی کی موت نے اسے ادھ موا کردیاتھا، اور وہ بوڑھے ماں باپ، بیوی اور ایک چار سالہ بیٹے کا واحد کفیل تھا۔ اس کی تنخواہ 25سو درہم ماہانہ تھی۔

 2010میں تکمیل کو پہنچنے والی دنیا کی سب سے بلند عمارت برج خلیفہ سے ہونے والی یہ 26ویں خود کشی تھی۔ گزشتہ سات سالوں میں کچھ اور مزدورں نے بھی خودکشیاں کی ہیں اب تک سامنے آنے والے واقعات کی تعداد 26 ہی ہے، جن میں سے 113 صر ف مزدور طبقہ ہیں جن کا تعلق پاکستان، بھارت اور نیپال سے تھا۔

اس تناسب سے یہ شرح ہرتین ماہ میں ایک خودکشی بنتی ہے۔ ان اموات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ متحدہ عرب امارات میں رہنے والے غیرملکی کارکنوں کے حالات اچھے نہیں ہیں۔ تاہم اپنے ملک میں بدترین بے روزگاری اور غربت کے باعث وہ کسی صورت اپنے گھروں میں واپس آنے کےلئے تیار نہیں۔ مزدوروں کا کہنا تھا کہ عبدالمنان کی موت کے بعد دبئی میں واقع اس تعمیراتی کمپنی نے فوری طور پر ایسے اقدامات شروع کردیے ہیں جن سے مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے میں مدد مل سکتی ہو۔

عبدلمنان کی خودکشی نے مقامی اداروں کی توجہ غیر ملکی کارکنوں کی جانب مبذول کرادی ہے۔ عرب امارات نے مزوروں کے حالات بہتر بنانے کی کوششیں شروع کردی ہیں جن میں دوپہر کا وقفہ، سخت گرمی میں کھلے آسمان تلے کام پر پابندی اور تنخواہوں کی بلارکاوٹ ترسیل اور مالی تحفظات شامل تھے، لیکن یہ سب اقدامات صرف وقتی طور تھے، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حالات پھر ویسے ہیں معمول پر آگئے۔ دبئی آنے والے پاکستانی مزدوروں کی اکثریت قرض لے کر دبئی آتے ہیں اورپھر وہاں اپنے قیام کاسارا عرصہ قرض کی ادائیگی کی کوششوں میں ہی گذرجاتا ہے اور جب یہ کوششیں کامیاب نہیں ہوتیں تو ان کا ایک نتیجہ وہی نکلتا ہے جس کا سامنا عبدالمنان کو کرنا پڑا۔ یعنی خودکشی