منی لانڈرنگ میں پاکستان 46 ویں نمبر پر

منی لانڈرنگ میں پاکستان 46 ویں نمبر پر

نمائندہ ہم شہری…

سوئس ادارے بیسل انسٹی ٹیوٹ آن جورننس کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق منی لانڈرنگ کی معاونت کے خدشے سے دوچار 146 ممالک میں پاکستان 6.64 کی رینکنگ کے ساتھ 46 ویں نمبر پر ہے۔

بیسل انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے 16 اگست کو جاری کی۔ رپورٹ کے مطابق منی لانڈرنگ کے خدشے سے سب سے زیادہ دوچار 10 ممالک میں ایران، افغانستان، گنی بساؤ، تاجکستان، موزمبیق، مالی، یوگنڈا، کمبوڈیا اور تنزانیہ شامل ہیں۔

اس فہرست میں چین 6.53 پوائنٹس کے ساتھ 51ویں اور امریکا 4.85 پوائنٹس کے ساتھ 30ویں نمبر پر موجود ہے۔

گذشتہ سال کی نسبت سوڈان، تائیوان، اسرائیل اور بنگلہ دیش وہ چند ممالک ہیں جن کی پوزیشن میں سب سے زیادہ بہتری سامنے آئی جبکہ جمیکا، تیونس، ہنگری، ازبکستان اور پیرو کی پوزیشن گذشتہ سال کی نسبت تنزلی کا شکار ہوئی ہے۔

سوئٹزرلینڈ کے ادارے کی اس تحقیق کے مطابق بنگلہ دیش نے انسدادِ منی لانڈرنگ کی کوششوں کے ذریعے اپنی پوزیشن بہتر کی ہے۔

منی لانڈرنگ کے سب سے زیادہ خدشے سے دوچار ممالک میں 8.38 پوائنٹس کے ساتھ ایران پہلے، 8.38 پوائنٹس کے ساتھ افغانستان دوسرے جبکہ گنی بساؤ اور تاجکستان 8.35 اور 8.28 پوائنٹس کے ساتھ بالترتیب تیسرے اور چھوتھے نمبر پر ہیں۔

اس خدشے سے متاثرہ ٹاپ 10 ممالک میں 4 مسلمان ممالک ایران، افغانستان، تاجکستان اور مالی بھی شامل ہیں، سعودی عرب 10 میں سے 5.43 پوائنٹس کے ساتھ اس فہرست میں 93ویں پوزیشن پر ہے۔

جنوب ایشیائی ممالک میں افغانستان سب سے زیادہ متاثر ملک ہے جس کے بعد 7.57 پوائنٹس کے ساتھ نیپال، 7.15 پوائنٹس کے ساتھ سری لنکا، 6.64 پوائنٹس کے ساتھ پاکستان، 5.79 پوائنٹس کے ساتھ بنگلہ دیش اور 5.58 پوائنٹس کے ساتھ بھارت کا نمبر آتا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ سال بنگلہ دیش کے پوائنٹس 6.4 اور پاکستان کے 6.62 پوائنٹس تھے، جبکہ بھارت اس فہرست میں 88ویں نمبر پر موجود تھا۔

بیسل انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے انسدادِ منی لانڈرنگ انڈیکس کے نام سے جاری ہونے والی سالانہ رینکنگ میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے حوالے سے 146 ممالک کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔