انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں

انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں

حسنین جمیل…

ایک زمانہ ہے جو فیض صاحب کا گرویدہ ہے۔ گزشتہ چالیس سال سے ہم ان کی شاعری کے سحر میں جکڑے ہوئے ہیں ، وہ سجاد ظہیر کے اولین ساتھیوں میں سے تھے۔

انجمن ترقی پسند مصنفین کے قیام کے فورا بعد ہی اس میں شامل ہوگئے۔ فیض صاحب کا شمار پاکستان کے ان اشتراکی دانشوروں میں ہوتا ہے، جنہوں نے نظام کی تبدیلی اور معاشرے میں طبقاتی جدوجہد کی، مساوات کے قیام میں اپنا حصہ ڈالا، ساری زندگی اپنی شاعری کے زریعے اس طبقے کے خلاف جہاد کرتے رہے جو وسائل پر قابض ہے۔

چند خاندانوں نے اس ملک کی اکثریت کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ جمہوریت کے نام پر ایک ناٹک ہے جو برپا ہے۔جمہوریت ،جمہور سے نکلا ہے ۔جمہور کا مطلب ہے "عوام”۔بتائے اقتدار کے ایوانوں میں عوام کہاں ہے ؟ جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کا کلب ہے جسے میں اور آپ قومی اسمبلی کے نام سے جانتے ہیں ۔
انجمن ترقی پسند منصفین کی 1936 میں بنیاد رکھی گئی۔ لندن کے کافی شاپ میں بیٹھے سجاد ظہیر اور اس کے ساتھیوں کی بحث کا حاصل محرک یہی تھا کہ عالمی سرمایہ داری نظام جس طرح انسانوں کا استحصال کر رہا ہے۔ اس استحصال کے خلاف لکھنا ادیب کےلئے یوں بھی ضروری ہے کیونکہ ادیب کا ہاتھ معاشرے کی نبض پر ہوتا ہے۔

اپنی تخلیقات کے زریعے انسانی شعور کو بیدار کرنا ادیب کا کام ہے۔ اردو ادب میں ترقی پسند تحریک کی آمد سے قبل اور طرح کے معاملات تھے، چند مخصوص موضوعات پر ہی لکھا جاتا تھا۔ترقی پسند تحریک نے نئے موضوعات کو جنم دیا۔ 1984میں فیض صاحب کی وفات کے بعد ان کے چاہنے والوں نے ان کی برسی پر فیض میلے کا انعقاد کرنا شروع کر دیا، ان میلوں میں شرکاءکی بڑی تعداد اس طبقے سے شامل ہوتی جن کے لئے فیض صاحب کی شاعری تھی۔ بائیں بازو کی سیاسی جماعتیں اور سول سوسائٹی کے وہ اکابرین ان میلوں کا انعقاد کرتے جو زہنی طور پر فیض کے ہمنوا تھے۔چونکہ یہ میلے بائیں بازو کے سیاسی لوگ کرواتے تھے،اس لئے فیض صاحب کے سیاسی کردار پر ہی بات ہوتی۔
فیض صاحب ہماگیر شخصیت کے حامل ہیں،بطور ایک سیاسی کارکن ٹریڈ یونینسٹ،بطور صحافی پاکستان ٹائمز کے مدیر رہے، مختلف جرائد نکالتے رہے۔ کراچی میں عبداللہ ہارون کالج میں پڑھاتے رہے،پرنسپل بھی رہے۔بھٹو صاحب کے دور میں سرکاری ادبی اداروں کے چئیرمین رہے۔فیض صاحب کی شخصیت کا سب سے مضبوط حوالہ بطور شاعر ہی ہے۔ بدقسمتی سے ان میلوں میں فیض کی شخصیت کے سب سے مضبوط پہلو کا زکر نہیں کیا جاتا تھا۔
چند سال قبل پہلی بار انجمن ترقی پسند مصنفین نے فیض میلہ منعقد کروایا، جس کے تین ادوار رکھے گئے،مذاکرہ، مشاعرہ اور محفل موسیقی۔ پہلی نشست مزاکرے کی تھی،پورے پاکستان سے آٹھ سے دس دانشور فیض صاحب کی شخصیت پر پر مغز مقالے پڑھتے،اور ان کی شاعری کی نئی اصناف اور شخصیت کے نئے پہلو دریافت کرتے ،پھر مشاعرہ ہوتا جس میں چوٹی کے شعرا کو مدعو کیا جاتا اور آخر میں محفل موسیقی منعقد ہوتی جس میں حاضرین کی ایک بڑی تعداد شریک ہوتی۔اب صورتحال مختلف ہو چکی ہے،فیض صاحب کی اولاد اپنے عظیم باپ کو بازار میں لے آئی ہے،اور عظیم شاعر کے ماتھے پر "برائے فروخت”کا کتبہ لگا دیا گیا ہے۔
ان میلوں میں نمایاں ترین جو طبقہ ہے وہ وہی ہے جس کے خلاف فیض صاحب شاعری کرتے رہے۔عالمی ساہو کاروں کی تجارتی کمپنیاں اس میلے کو سپانسر کررہی ہیں،جو باعث شرم ہے۔ایک عظیم شاعر کی تمام عمر کی جدوجہد اس کی سوسشلسٹ سوچ کو اس کی اولاد نے ان ملٹی نیشنل کمپنیوں کے آگے گروی رکھ دیا ہے،جو دن رات انسانی استحصال میں لگی ہوئی ہیں۔پانچ ستارہ ہوٹلوں میں پروگرام رکھے جاتے ہیں، پانچ ،پانچ ہزار کا ٹکٹ خرید کر جو کلاس اس پروگرام میں شریک ہوتی ہے،اس کو فیض کی شخصیت کی الف، ب کا علم تک نہیں ہوتا، یہ وہ طبقہ ہے جو اپنے ڈرائنگ روم میں بک شیلف صرف فیشن کے طور پر رکھتا ہے،اور کتابوں کے رنگ ڈرائنگ روم کے پردوں اور صوفوں کے ساتھ میجنگ کرتا ہے۔
جب میں مال روڈ پر کھڑا ہو کر ماہرہ خان اور ثمینہ پیرزادہ کی تصاویر دیکھتا ہوں اور نیچے انگریزی میں لکھا ہوتا ہے تو میرا سر پیٹنے کو جی چاہتا ہے۔ شاعر اردو کا اور فقرے انگریزی کے۔ ثمینہ پیرزادہ کو کیا پتہ کے فیض کیا تھے؟ ا سے بہتر تھا کہ عثمان پیرزادہ کی تصویر لگا دیتے جنہوں نے حقیقت میں فیض کو پڑھا ہے۔ مائرہ خان ہمیں بتائیں گی کہ فیض صاحب نے کیا جدوجہد کی؟ جواد احمد تک تو بات ٹھیک ہے ،وہ سوشلزم کے علم پر عبور رکھتے ہیں ،مگر مائرہ خان،کیوں؟
آج مقام ماتم آچکا ہے، فیض صاحب کی اولاد عالمی سرمایہ داری نظام کی ہرکارہ بن کر اپنے عظیم باپ کی جدوجہد پر بھاری پتھر رکھ رہی ہے۔