سعودی عرب یمن کی ناکہ بندی ختم کرے، اقوام متحدہ

سعودی عرب یمن کی ناکہ بندی ختم کرے، اقوام متحدہ

انٹر نیشنل ڈیسک…

اقوام متحدہ ميں انسانی بنيادوں پر امداد سے متعلق ادارے کے سربراہ مارک لو کوک نے خبردار کيا ہے کہ اگر سعودی عرب کی جانب سے يمن کی ناکہ بندی ختم نہ کی گئی تو اس ملک کو قحط کا سامنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اس قحط کے پیدا ہونے سے کئی ملين افراد ہلاک ہو سکتے ہیں۔

لوکوک نے اِس خدشے کا اظہار سلامتی کونسل کو بريفنگ ديتے ہوئے کیا۔ اس بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ عدن اور صنعا سے فوری طور پر پروازوں کی بحالی کے علاوہ تمام بندرگاہيں کھلنی چاہييں تاکہ متاثرين تک امداد کی رسائی ممکن ہو۔

ياد رہے کہ گزشتہ ہفتے يمن سے رياض کی طرف ايک ميزائل داغے جانے کے بعد سعودی  حکومت نے يمن کے تمام زمينی، فضائی اور بحری راستے بند کر ديے تھے۔

سعودی عرب اپنے 9 عرب اور افریقی اتحادیوں کے ساتھ مل کر قریب اڑھائی برس سے یمن پر فوج کشی کر رہا ہے۔ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی کارروائیوں میں اب تک 12000 سے زائد عام یمنی شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس فضائی بمباری کے نتیجے میں یمن کا ملکی ڈھانچہ بھی بڑی حد تک مسمار ہو چکا ہے۔