پولیس کو بروقت کمک نہ ملی سکی

پولیس کو بروقت کمک نہ ملی سکی

نمائندہ ہم شہری…

پولیس نے فیض آباد دھرنے سے متعلق سپریم کورٹ میں رپورٹ پیش کردی ہے۔ پولیس کی رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ آپریشن میں ساڑھے 5 ہزار کے لگ بھگ پولیس اہلکاروں نے حصہ لیا، دھرنے کی جگہ کشادہ ہونے کی وجہ سے آنسو گیس کے شیل مظاہرین پر اثر انداز نہیں ہوسکے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ احتجاجی مظاہرین ڈنڈوں، پتھروں اور دیگر آلات سےلیس تھے۔ مظاہرین کے پاس ایسے ہتھیار تھے جس سے پولیس کو شدید نقصان ہوا اور پولیس کے پاس آپریشن روکنے کے سوا کوئی آپشن نہیں تھا۔

رپورٹ کے مطابق آپریشن کے دوران 173 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ 80 فیصد علاقہ کلیئر کرالیا گیا تھا لیکن تازہ دم احتجاجی مظاہرین نے پولیس پر حملہ کر دیا تو پولیس کو پسپائی اختیار کرنا پڑی۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہےکہ مختلف صوبوں سے فورسز مانگی گئی تھیں لیکن پولیس کو اس طرح کی مدد نہیں مل سکی جس طرح کی مدد ملنی چاہیے تھی، مختلف سیکیورٹی اداروں میں کوآرڈینیشن کا فقدان تھا جب کہ پولیس کے جوان گومگو کا شکار رہے، پولیس کے جوانوں کے مذہبی جذبات کو بھی ابھارا گیا۔

رپورٹ کے مطابق دھرنا قائدین نے سپیکر کو مسلسل استعمال کیا، دھرنے کے مقام پر مختلف میڈیا، سوشل میڈیا رئیل ٹائم انفارمیشن دیتارہا، سوشل میڈیا کی وجہ سے مظاہرین کے جذبات بڑھے جس کی وجہ سے پولیس کو کامیابی نہیں مل سکی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دھرنا مظاہرین کے خلاف 27مقدمات درج کیے گئے جن میں 107 افراد کو نامزد کیا گیا، ایف آئی آر میں نامزد 33 افراد ضمانت پر ہیں، 418 دھرنا مظاہرین کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا گیا۔