امریکی صدر کااعلان عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے

امریکی صدر کااعلان عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے

نمائندہ ہم شہری…

پاکستان نے امریکہ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے اور امریکی سفارتخانے کی منتقلی کے فیصلے کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قراردیا ہے۔

امریکی صدر نے گزشتہ روز یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کا باضابطہ اعلان کیا۔ پاکستان نے سفارتخانے کی بیت المقدس منتقلی کے فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہوئے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ معاملات بگڑنے سے پہلے فیصلے پر نظرثانی کرے کیونکہ امریکی اقدام مشرق وسطیٰ کے امن عمل کی تباہی کاباعث ہوگا۔

پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صورتحال کا نوٹس لے جب کہ اس معاملے پر ترکی کی جانب سے اسلامی سربراہ کانفرنس بلانے کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔ امریکی صدر کے فیصلے پر صدر ممنون حسین نے مذمت کرتے ہوئے امریکہ سے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

صدر ممنون نے کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس کواسرائیل کادارالحکومت بنانے کی ہر فورم پرمذمت کی جائے گی اور توقع ہےکہ امت مسلمہ اس واقعےکا سخت نوٹس لےگی۔

 20،10 سال سے مسلم ممالک کے آپسی انتشار سے یہودیوں کو موقع ملا: خورشید شاہ

ترک صدر کا رابطہ

صدر مملکت ممنون حسین سے ان کے ترک ہم منصب رجب طیب اردوان نے ٹیلی فونک رابطہ کیا جس میں ترک صدر نے اس بات پر اتفاق کیا کہ امریکی صدر کے فیصلے سے مشرقیٰ وسطیٰ میں امن و استحکام پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

وزیر خارجہ خواجہ آصف نے ٹوئٹر پر بیان میں کہا کہ امریکہ کی جانب سے اپنا سفارت خانہ مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے سےلہولہان مسلم امہ کو مزید ایک زخم ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ سفارتخانہ منتقل کرکے امریکہ عملی طور پر مقبوضہ بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کردے گا اور دو ریاستوں کا حل دفن ہوجائے گا۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ امریکی اقدام سے فلسطینی اور مسلم دنیا مشتعل ہوگی، امریکہ کی اسلام دشمنی کا اس سے بڑا نمونہ پہلے نہیں دیکھا، امریکی اقدام سے امت مسلمہ کی دل آزاری ہوئی ہے۔

اسمبلیوں میں تحاریک جمع

ادھر جماعت اسلامی اور تحریک انصاف نے اس معاملے پر قومی اسمبلی میں تحریک التوا جمع کرادی ہے جس میں ایوان کی معمول کی کارروائی کو معطل کرکے اس معاملے کو زیر بحث لانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کی جانب سے مذمتی قرار داد جمع کرائی گئی جس میں کہا گیا ہےکہ امریکہ کے فیصلے نے پوری امت مسلمہ کی توہین کی ہے، امریکا کی یہودیت نواز پالیسی پوری دنیا کے سامنے عیاں ہوچکی ہے۔

قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہےکہ اقوام متحدہ امریکی صدر ٹرمپ کے اس فیصلے کا فوری نوٹس لے اور اسلامی ممالک فوری طور پراسلامی ممالک کی عالمی کانفرنس کو طلب کریں۔

جماعت اسلامی کی جانب سے امریکی فیصلے کےخلاف کل ملک گیر احتجاج کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہےکہ ٹرمپ کا القدس کو اسرائیلی دارالحکومت قراردینا جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہے، ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے، مسلم حکمران متحد ہوکر امریکی فیصلے کے خلاف لائحہ عمل دیں۔

چیرمین تحریک انصاف عمران خان نے ڈونلڈ ٹرمپ کے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان کی سخت مذمت کی ہے۔ عمران خان نے کہا کہ ترک صدر رجب طیب اردوان کا ترک پارلیمنٹ سے خطاب دیکھیں، تمام مسلمان ممالک کے سربراہان کو یہ ہی مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔

چیرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ٹرمپ جیسے لوگ مسلمانوں کو انسان ہی نہیں سمجھتے لہٰذا ساری دنیا کو اس فیصلے کے احتجاج میں کھڑا ہونا چاہیے۔

وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے امریکی صدر کے فیصلے پر کہا کہ ٹرمپ کے فیصلے سے پرانے زخم تازہ ہوگئے، ٹرمپ انتظامیہ پر فلسطینیوں کے عدم اعتماد کو تقویت ملی ہے۔

پیپلزپارٹی کے رہنما اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ امریکی فیصلے سے عالم اسلام میں کشیدگی اور انتشارپیدا ہوا ہے، امریکا دنیا میں بڑا انتشار پیدا کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر او آئی سی کی میٹنگ با مقصد ہونی چاہیئے، اسلامی ممالک کو صحیح معنوں میں ایک پلیٹ فارم پر آنا ہو گا جب کہ ترکی ایران پاکستان اس میں قائدانہ کردار لیں۔

اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ 10،20 سال سے مسلم ممالک کے آپسی انتشار سے یہودیوں کو موقع ملا، مسلم ممالک کے باہمی انتشار سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔