اے ٹی ایم فراڈ، سٹیٹ بینک نے اگلے سال کارڈ تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا

اے ٹی ایم فراڈ، سٹیٹ بینک نے اگلے سال کارڈ تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا

نمائندہ ہم شہری…

سٹیٹ بینک نے ڈیبٹ کارڈز سے سکمنگ کی وارداتوں کی وجہ سے آئندہ سال سے اے ٹی ایم کارڈز میں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے۔

گزشتہ دنوں جعل سازوں نے اے ٹی ایم مشینوں پر مخصوص آلات لگا کرصارفین کا ڈیٹا چرا کر لیا جس میں کئی بینک صارفین کو اپنی رقوم سے ہاتھ دھونا پڑا جب کہ انہیں اس چوری کا پتا بینک کے بتانے پر پڑا۔

اس حوالے سے سٹیٹ بینک کے اعلامیے میں بتایا گیا ہےکہ کارڈ کے پیچھے مقناطیسی پٹی سے اکاؤنٹس تفصیلات چرا کر غیر قانونی کام کیا گیا۔ اس طرح ملک کے اندر اور باہر مختلف جگہوں سے رقوم غیر قانونی طور پر نکلوائی گئیں۔ اب تک 296 کھاتے داروں نے مشکوک لین دین کی شکایت کی اور نکلوائی گئی رقم کا اندازہ ایک کروڑ 2 لاکھ روپے ہے۔

سٹیٹ بینک کے مطابق اس مجرمانہ کارروائی کے بعد حبیب بینک نے مشتبہ کارڈز منسوخ کردیئے ہیں۔ بینک نے متاثرین میں رقوم کی ادائیگی شروع کردی ہے اور مرکزی بنیک جائزہ لے رہا ہے کہ حبیب بینک اے ٹی ایمز استعمال کرنے والے دیگر بینک صارفین تو اس کا نشانہ نہیں بنے۔

 مرکزی بینک نے کہا ہے کہ آئندہ سال 30 جون سے یورو پے ماسٹر کارڈز متعارف ہوں گے جس میں ہیکرز کا نشانہ بننے والی مقناطیسی سٹرپ کے بجائے چپ موجود ہوگی۔